اگلے انتخابات اور ایم ایم اے کی بحالی۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

الیکشن 2018کے لئے جمعیت علمائے اسلام ف،جماعت اسلامی،جمعیت اہلحدیث،جمعیت علمائے اسلام پاکستان نورانی گروپ اور بعض دیگرمذہبی سیاسی جماعتوں کااتحاد عمل میں لایاجاچکاہے اورآپس میں اتفاق رائے سے ٹکٹوں کی تقسیم کے فارمولاکے تحت یہ جماعتیں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے انتخابی دنگل میں حصہ لیں گی۔اس سے قبل ان مذہبی سیاسی جماعتوں متحدہ مجلس عمل کے مشترکہ پلیٹ فارم سے 2002کاالیکشن لڑاتھااوریہ ایک کامیاب تجربہ تھاجس میں قومی اورخیبرپختونخوااسمبلی کی نشستوں پر خاطرخواہ کامیابی حاصل کی تھیں جس کے نتیجے میں ایم ایم اے خیبرپختونخوامیں پہلی بارمذہبی جماعتوں پر مشتمل حکومت تشکیل دینے سمیت قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈربنانے میں بھی کامیاب ہوئی تھی مگر2008اور2013کے عام انتخابات میں ایم ایم اے تشکیل نہ پانے کے سبب مذہبی سیاسی جماعتیں انفرادی حیثیت یادیگر سیاسی جماعتوں کیساتھ انتخابی اورحکومتی اتحادکرتے دکھائی دیئے 2002میں وزیراعلیٰ اکرم خان درانی کی قیادت میں تشکیل پانے والی ایم ایم اے کی صوبائی حکومت صوبے میں کی تعمیر و ترقی اورعوامی خوشحالی کے لئے نمایاں کارکردگی نہ دکھاناجبکہ حکومت میں شامل مذہبی جماعتوں کیتبادلوں،تقرریوں اوردیگرامورپر آپس میں پائے جانیوالے اختلافات شائد اگلے دوعام انتخابات میں ایم ایم اے نہ بن پانے کی بنیادی وجوہات تھیں تاہم 2018کے عام انتخابات میں ان مذہبی سیاسی جماعتوں نے ایک بارپھر ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے مشترکہ انتخابی نشان اورمنشورکے ساتھ حصہ لینے کافیصلہ کرلیاہے لیکن اٹھتاسوال یہ ہے کہ کیااس دفعہ بھی ایم ایم کووہی کامیابی ملے گی جواسے 2002میں ملی تھی کیونکہ تب کے حالات اورتھیاوراب حالات مختلف ہیں اس وقت ایم ایم اے پہلی بارتشکیل پائی تھی اوراس کے انتخابی منشورمیں اسلامی قوانین کانفاذیقینی بناناشامل تھامگرایم ایم اے کی صوبائی حکومت اسلامی قوانین کے نفاذ،امن وامان بہتربنانے اورسودی نظام کاخاتمہ کرنے سمیت عوام سے کئے گئے دیگر وعدے پوراکرنے سے قاصررہی تھی ایک حسبہ بل سامنے لایاگیاتھاوہ بھی بلی کے بچوں کی طرح آج یہاں توکل وہاں کبھی صوبائی اسمبلی،کبھی گورنرہاؤس توکبھی صدارتی محل کے چکرکاٹتانظرآیامگرنافذپھربھی نہیں ہوسکاجبکہ آئینی اورقانونی ماہرین کی نظرمیں وہ کوئی اتنامؤثرقانون بھی نہیں تھا،اس وقت کے ایم اے میں جماعت اسلامی کے سابق مرکزی آمیرقاضی حسین احمدمرحوم جیسے قائدین ایم ایم اے میں موجودتھے جن کی سیاسی بصیرت عوام میں مقبول عام تھی اس کے علاوہ ایم ایم کی پوری قیادت یگانگت کے جذبہ سے سرشارنظرآرہی تھی مگراس دفعہ ایم ایم اے قاضی حسین احمد مرحوم جیسے سیاسی فہم وفراست کی حامل شخصیت سے محروم جبکہ وہی جذبہ بھی دکھائی نہیں دے رہابلکہ ایم ایم اے میں شامل دوبڑی سیاسی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام ف اورجماعت اسلامی کاطرزسیاست توبڑی حد تک ایم ایم اے میں شامل مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحادکاغیرفطری ہونے کی نوید سنارہاہے جس کی بنیادی وجہ پچھلے دس سالوں کے دوران دونوں جماعتوں کی قیادت اورورکرزکے مابین شدید اختلافاتاورایک دوسرے پر تنقیدکے سبب پیداہونے والافاصلہ ہے جسے ختم ہونے میں شائد لباعرصہ لگے،ایم ایم اے کی جانب سے انتخابات کے لئے سیٹوں کی تقسیم جبکہ بعدازالیکشن حکومتی تشکیل کاکوئی واضح فارمولاتاحال سامنے نہیںآسکاہے جبکہ قابل ذکرامریہ بھی ہے کہ جماعت اسلامی اورجمعیت علمائے اسلام آپس میں رسہ کشی کرتی بھی دکھائی دیں گی کیونکہ پچھلے پانچ سالہ دوراقتدارمیں جماعت اسلامی خیبرپختونخوامیں پاکستان تحریک انصاف جبکہ جمعیت علمائے اسلام وفاق میں مسلم لیگ نون کیساتھ حکومتی اتحادمیں شامل رہی اس پورے عرصے میں جہاں جماعت اسلامی مرکزمیں نون لیگ کوتنقید کانشانہ بناتی رہی خاص کرکرپشن فری پاکستان کانعرہ لگاکر پانامہ کے معاملے میں تو جماعت اسلامی کے مرکزی آمیر سینیٹر سراج الحق سپریم کورٹ میں کھڑے نظرآئے وہیں دوسری جانب جے یو آئی خیبرپختونخواکی حکومت اورپی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ دشمنی کی حد تک الجھتی دکھائی دی ہے ایسے میں جماعت اسلامی کس جوازکوبنیادبناکر پی ٹی آئی کے خلاف ہرزہ سرائی کرے گی کیونکہ اخلاقی طوروہ ایسی حکومت کوہدف تنقید کیسے بناسکتی ہے جس میں وہ خود پانچ سال رہی ہوجبکہ ایم ایم کی تشکیل کے بعد حکومتی اتحادسے نکلتے وقت جماعت اسلامی کے وزراء اوران کے اتحادی جماعت کے وزیراعلیٰ پرویزخٹک کی مشترکہ پریس کانفرنس جو ملک شائدملک کی پالیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوادونوں جماعتوں کاایک دوسرے پر مکمل اعتماداور روایتی بدمزگی کے برعکس خوشاسلوبی کیساتھ اتحادی مدارسے نکلنے کی واضح مثال تھی حالانکہ تنقید کے نشتربرسانے سے توجماعت سلامی اورجے یوآئی کی قیادت نے بھی ایکدوسرے کونہیں بخشاتھاجب 2008 میں دونوں جماعتوں کاحکومتی اتحادختم ہورہاتھاایسے میں پی ٹی آئی قیادت اورپرویزخٹک کی حکومتی کارکردگی پر انگلی اٹھانایقینی طورپرجماعت اسلامی کے بڑامشکل ہوگالیکن اٹھتاسوال یہ بھی ہے کہ ایم ایم اے میں شامل جماعت اسلامی کے امیدواروں کابیشترانتخابی حلقوں پر مقابلہ پی ٹی آئی کیساتھ ہوگااس حوالے سے جماعت اسلامی کی حکمت عملی کیاہوگی جبکہ دوسری جانب ممکنہ طورپرجے یوآئی ف پی ٹی آئی کے خلاف ہی انتخابی مہم چلاتی نظرآئے گی ایسے میں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام ف کیا طرزسیاست اپنائیں گی ان کی انتخابی حکمت کیاہوگی ساتھ یہ بھی کہ اس دفعہ ایم ایم اے اپنامقدمہ لڑنے اوراس میں سرخروہونے کے لئے کیاانتخابی منشورلیکرعوام کی عدالت کاسامناکرے گی اورآخرمیں یہ کہ ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کاایک دوسرے پر اعتمادکس حد برقراررہے گایہ دیکھناانتہائی دلچسپی کاحامل ہوگا۔

