عالمی یومِ آزادیِ صحافت — خاموش سپاہیوں کی بے صدا جدوجہد:بشیر حسین آزاد۔۔

ہر سال 3 مئی کو دنیا بھر میں عالمی یومِ آزادیِ صحافت منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد صحافیوں کی خدمات کو سراہنا، آزادیِ اظہار کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور ان چیلنجز کی نشاندہی کرنا ہے جن کا سامنا میڈیا سے وابستہ افراد کو ہوتا ہے۔ لیکن اس دن کی اصل روح کو سمجھنے کے لیے ہمیں اُن صحافیوں کی طرف بھی دیکھنا ہوگا جو بڑے شہروں کی چمک دمک سے دور، وسائل کی کمی کے باوجود اپنے علاقوں کی آواز بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان کے دور افتادہ علاقوں، خصوصاً چترال جیسے خطوں میں کام کرنے والے فری لانسر اور مقامی صحافی درحقیقت صحافت کے وہ گمنام سپاہی ہیں جو نہ صرف اپنے علاقے کے مسائل اجاگر کرتے ہیں بلکہ وہاں کی پسماندگی، محرومیوں اور ترقیاتی ضروریات کو قومی سطح تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مشکل جغرافیہ، طویل فاصلے، اور محدود وسائل کے باوجود خبر کی تلاش میں نکلتے ہیں اور عوامی مسائل کو سامنے لاتے ہیں۔
بدقسمتی سے، جہاں بڑے میڈیا ہاؤسز سے وابستہ صحافیوں کو ماہانہ تنخواہیں، مراعات، میڈیا کالونیاں اور رہائشی پلاٹس جیسی سہولیات میسر ہوتی ہیں، وہیں چھوٹے شہروں کے صحافی اس بنیادی تحفظ سے بھی محروم ہیں۔ کئی مقامی اخبارات میں کام کرنے والے صحافیوں کو تنخواہ دینے کے بجائے ان سے اشتہارات لانے کی توقع کی جاتی ہے، جو نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ خودمختاری پر سوال اٹھاتی ہے بلکہ ان کے لیے معاشی دباؤ کا باعث بھی بنتی ہے۔
اس تمام تر ناانصافی کے باوجود، یہ صحافی اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ وہ دور دراز دیہات، پہاڑی علاقوں اور دشوار گزار راستوں کو عبور کر کے معلومات اکٹھی کرتے ہیں، عوامی مسائل کو اجاگر کرتے ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ دیانت داری کو برقرار رکھتے ہیں۔ ان کی یہ خدمات اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہیں، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات انہیں تنقید اور بے بنیاد الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عالمی یومِ آزادیِ صحافت کے موقع پر ضروری ہے کہ ہم ان خاموش خدمت گزاروں کو پہچانیں اور ان کی کاوشوں کا اعتراف کریں۔ اگر ہم ان کی تعریف نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے خلاف من گھڑت باتوں سے گریز ضرور کریں۔ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے، اور اس سے وابستہ افراد، خصوصاً وہ جو محدود وسائل میں کام کر رہے ہیں، ہماری عزت اور حمایت کے مستحق ہیں۔
آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم نہ صرف آزادیِ صحافت کے لیے آواز اٹھائیں گے بلکہ ان صحافیوں کے حقوق کے لیے بھی کھڑے ہوں گے جو خاموشی سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ کیونکہ ایک مضبوط، آزاد اور باوقار صحافت ہی ایک باشعور اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔


