دادِ بیداد۔۔کتاب اور قلم کی واپسی۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

پچھلے سال ایک خبر آئی تھی کہ ایک ترقی یافتہ یورپی ملک کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور اسمارٹ فون کی جگہ سکولوں میں ایک بار پھر کتاب، کاپی، تختی، سلیٹ اور قلم دوات کے ذریعے تعلیم دینے پر غور کر رہا ہے۔ آج اس خبر کی تصدیق ہو گئی ہے۔ یورپی ممالک میں بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم تعلیمی نظام کی پختگی اور تعلیم کی اعلیٰ کوالٹی کے لیے مشہور ملک سویڈن (Sweden) نے ابتدائی تعلیم کے سکولوں میں آن لائن اور ڈیجیٹل تعلیم و تدریس پر پابندی لگا کر کتاب اور بستہ سسٹم کو دوبارہ متعارف کرانے کا حکمنامہ جاری کیا ہے۔
یہ حکمنامہ پارلیمنٹ کے اندر باقاعدہ قانون سازی کے بعد جاری ہوا ہے۔ قانون سازی کے دوران اراکین اسمبلی کے علاوہ سول سوسائٹی میں بھی باقاعدہ مباحثے کرائے گئے۔ ان مباحثوں میں ماہرین تعلیم، وکلا، صحافیوں اور ہر مکتب فکر کے دانشوروں نے حصہ لیا۔ انہوں نے نئے قانون کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر کھل کر اظہار خیال کیا۔
دوسری رائے یہ تھی کہ کتاب سے دوری اور کاپی لکھنے سے محرومی نے نئی نسل کو تعلیمی عمل کی بنیادی صلاحیتوں اور خوبیوں سے محروم کر دیا ہے۔ مطالعے کی عادت ناپید ہو گئی ہے اور طلبہ بے جان مشین کی طرح اپنے ماحول سے بیگانہ ہو چکے ہیں۔ آلات پر انحصار نے لکھنے کی صلاحیت کو سلب کر لیا ہے۔ ڈیٹا ضائع بھی ہو سکتا ہے اور ڈیٹا بیس چوری بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیجیٹل ماحول طلبہ کو اپنے گرد و پیش سے دور کر دیتا ہے۔
کتاب، مطالعہ، کاپی اور لکھنے کی مشق طالب علم کو اس کے ماحول، اس کے ماضی اور اس کے گرد و پیش سے باخبر رکھتی ہے۔ نیز جدید ترین ایجادات آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور چیٹ جی پی ٹی نے تعلیم کے معیار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اس پر انحصار کیا گیا تو آنے والے دور میں تعلیم یافتہ اور ان پڑھ کا فرق ختم ہو جائے گا، افرادی قوت کی کمیابی یا مکمل نایابی کا گھمبیر مسئلہ پیدا ہوگا۔
کتاب پڑھنا ختم ہوا تو لکھنا بھی ختم ہو جائے گا، اشاعت اور تقسیم کا دائرہ ٹوٹ جائے گا اور قومی تشخص کو شدید دھچکا لگے گا۔ چنانچہ کمپیوٹر کی جگہ کتاب، قلم، کاپی اور پڑھنے لکھنے کے دیگر اسباب کو واپس لایا گیا۔
سویڈن جزیرہ نما اسکنڈے نیویا (Scandinavian Peninsula) کا ترقی یافتہ ملک ہے۔ فن لینڈ کے بعد تعلیمی ترقی میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ناروے کی طرح سماجی ترقی کے لحاظ سے فرانس اور بیلجیم سے آگے ہے۔ اس کا رقبہ 14 جزائر کا احاطہ کرتا ہے اور اس کی آبادی ایک کروڑ پندرہ لاکھ ہے۔ اسٹاک ہوم اور گوتھنبرگ اس کے دو متبادل دارالحکومت ہیں۔
سویڈن کی حکومت نے طویل غور و خوض اور تھکا دینے والی بحث کے بعد “فرام سکرین ٹو پیپر” یعنی پردہ اسکرین سے کاغذ کی طرف واپسی کا قانون منظور کیا اور اس کو نئی نسل کی مثالی تعلیم و تربیت کا ضامن قرار دیا۔
تیسری دنیا کے ممالک خصوصاً پاکستان اور افغانستان جیسی حکومتوں کے لیے اس قانون میں ایک بڑا سبق ہے۔ سبق یہ ہے کہ لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور اسمارٹ فون جیسی سہولیات دفتری امور کے لیے ناگزیر ضرورتوں میں شمار ہوتے ہیں، لیکن ابتدائی تعلیم کے لیے ناگزیر نہیں ہیں۔
نئی نسل کی ابتدائی تعلیم و تربیت کا کام ڈیجیٹل ریسورسز کے بجائے روایتی ذرائع یعنی کتاب، کاغذ، قلم اور دوات کی مدد سے بہتر اور مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکتا ہے۔ نوجوانوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم انڈر گریجویٹ سے پوسٹ گریجویٹ اور پھر اسپیشلائزیشن کی سطح پر ہونی چاہیے۔
پلے گروپ سے لے کر بارہ جماعتوں تک نئی نسل کے لیے کتاب اور قلم کی ضرورت ہے۔ جہاں ہم نے بہت سی مضر عادتوں اور سہولتوں کو بیرونی ممالک سے نقل کیا ہے، وہاں ملکی مفاد میں کتاب اور قلم کی طرف واپسی کے اقدام کی بھی تقلید کرنی چاہیے۔
ایک عمر چاہیے آہ کو اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک


