شیشپر گلیشئیر:شاہراہ قراقرم کے قریب واقع آبادی کو خالی کرنے کا حکم

ہنزہ میں شیشپر گلیشئیر کے سرکنے سے لاحق خطرے کے باعث حکام نے شاہراہ قراقرم کے قریب واقع آبادی کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔شیشپر نامی یہ گلیشیئر گلگت بلتستان کے ان 36 گلیشیئرز میں سے ایک ہے جو کہ مختلف وجوہات کی بنا پر خطرے کا شکار ہیں۔ گلگت بلتستان کی حکومت کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گئے الرٹ کے بعد احسن آباد کے رہائشیوں نے انخلا کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شیشپر گلیشیئر 10 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 1800 میٹر تک سرک چکا ہے اور مقامی حکام کے مطابق آنے والے دنوں میں انسانی جان و مال کے لیے خطرہ بن سکتا ہے.گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض احمد فراق کے مطابق حکومت نے مقامی آبادی کو کسی بھی خطرے سے بچانے کے لیے محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ احتیاطی طور پر کیا ہے۔’امدادی ٹیمز اور متعلقہ اداروں کو فوری طورپر علاقے میں پہنچنے کی ہدایات کر دی گئی ہیں اور منتقلی کا کام آئندہ دونوں میں شروع ہو جائے گا۔‘
ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی گلگت بلتستان کے ڈائریکٹر جنرل فرید احمد نے بتایا کہ ’شیشپر گلیشئیر کے سرکنے کا عمل مئی 2018 میں شروع ہوا تھا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’شیشپر کے ساتھ ہی ایک اور گلیشئیر بھی ہے اور ان دونوں کا پانی ایک ہی نالے میں گرتا تھا۔ شیشپر بڑھتا ہوا اس نالے کے قریب آ کر ستمبر میں ایک پہاڑ سے ٹکرا کر رک گیا تھا، جس کی وجہ سے اکتوبر اور نومبر میں اس کا رخ وادی میں آبادی والے علاقوں کی جانب مڑ گیا۔‘ یہی نہیں بلکہ شیشپر نے اس نالے کا راستہ بھی بند کر دیا ہے جس میں دونوں گلیشئیرز کا پانی گرتا تھا اور اس وجہ سے وہاں پر اب ایک ’گلیشئیر جھیل‘ بن چکی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے سنہ 2010 میں ہنزہ تحصیل کے گاؤں عطا آباد سے گزرنے والے دریائے ہنزہ میں ‘مٹی کا تودہ’ گرنے کے باعث بیس افراد ہلاک اور دریائے ہنزہ میں پانی کا بہاؤ پانچ ماہ تک رک گیا تھا جس کے نتیجے میں ایک جھیل معرضِ وجود میں آ گئی تھی۔



