ضلع انتظامیہ لوئر چترال کی خصوصی کاوش اور ڈپٹی کمشنر لوئر چترال کے وژن کے تحت کردار سازی پر مبنی نصاب "روشت استاری” (چمکتا ستارہ) کی تقریبِ رونمائ

چترال(ڈیلی چترال نیوز) ضلع انتظامیہ لوئر چترال کی خصوصی کاوش اور ڈپٹی کمشنر لوئر چترال کے وژن کے تحت کردار سازی پر مبنی نصاب "روشت استاری” (چمکتا ستارہ) کی تقریبِ رونمائی ٹاؤن ہال چترال میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈی آئی جی ملاکنڈ ڈویژن سید فدا حسن شاہ تھے۔ جبکہ مہمانوں میں کمانڈنٹ چترال سکاوٹس کرنل ارسلان عبدالمجید، ڈی پی او رفعت اللہ خان، ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم عظیم، ڈپٹی وائس چانسلر یونیورسٹی آف چترال پروفیسر ڈاکٹر ثناء اللہ، پرنسپل ڈگری کالج لوئر چترال عبد الکریم،اسسٹنٹ کمشنرلوئرچترال ریاض احمد، حاجی مغفرت شاہ، قاری جمال عبدالناصر، ڈی ای او ایجوکیشن فیمیل مہروالنساء، ڈی ڈی او محکمہ ایجوکیشن مقدس، رضیت باللہ، وجہہ الدین اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔یہ کتاب ضلع کے تمام تعلیمی اداروں کے نصاب میں باقاعدہ طور پر شامل کر دی گئی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی آر پی او ملاکنڈ ڈویژن سید فدا حسن شاہ نے کہا کہ ہم ان تمام افراد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس کتاب کو اس مقام تک پہنچانے میں اپنی تعلیمی، تجرباتی صلاحیتوں اور دورِ جدید کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے چترالی ہونے پر فخر ہے کیونکہ چترال کے لوگ محبِ وطن اور اپنے محسنوں کو یاد رکھنے والے ہیں۔ انہوں نے 1980ء کی دہائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر جاوید مجید نے چترال میں سایوج پبلک سکول کے نام سے ایک انگلش میڈیم ادارے کی بنیاد رکھی، جو یہاں کے طلبہ کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھانے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ انہوں نے جاوید مجید کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ "روشت استاری” بچوں کی کردار سازی میں نہایت اہم کردار ادا کرے گا، جس کی بنیاد ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی اخلاقی تعلیمات، چترال کی مقامی ثقافت اور معاشرتی اقدار پر رکھی گئی ہے۔ سید فدا حسن شاہ نے کہا کہ موجودہ ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم عظیم نے اس نصاب کو تیسری سے پانچویں جماعت تک شامل کر کے چترالی عوام کے دل جیت لیے ہیں، اور ان کی یہ خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم عظیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس نصاب کا بنیادی مقصد طلبہ میں خود اعتمادی، نظم و ضبط، استقامت، ذہانت اور مذہبی ہم آہنگی جیسی اعلیٰ اقدار کو فروغ دینا ہے۔ "روشت استاری” نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بنائے گا بلکہ طلبہ کی اخلاقی و سماجی تربیت میں بھی مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے ایک باکردار، ذمہ دار اور باصلاحیت نسل کی تشکیل میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔
انہوں نے اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، وزیر تعلیم، چیف سیکرٹری، سیکرٹری ایجوکیشن، محکمہ تعلیم چترال، دیگر تعلیمی اداروں اور تمام ٹیم ممبران کا شکریہ ادا کیا جن کی کاوشوں سے صرف چھ ماہ کی مختصر مدت میں اس کتاب کو شائع کر کے سکولوں تک پہنچایا گیا۔
تقریب سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب نہ صرف بچوں بلکہ اساتذہ اور والدین کے لیے بھی یکساں اہمیت رکھتی ہے۔ اس میں ہر سبق کے ساتھ واضح تعلیمی مقاصد، اساتذہ کے لیے رہنمائی اور عملی سرگرمیاں شامل ہیں تاکہ طلبہ ان اقدار کو اپنی عملی زندگی میں اپنا سکیں۔ مقررین نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو نئی نسل اور پورے معاشرے کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنائے۔
تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی اور دیگر مہمانوں نے افتتاحی کیک کاٹا اور تقریب کو یادگار بنایا۔ اس موقع پر سنٹیل ہائی سکول چترال کے طلباء نے کھوار زبان میں ملی نغمہ پیش کیے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض نوجوان ماہرِ تعلیم عالمگیر بخاری اور ڈائریکٹر شہید اسامہ وڑائچ کیریئر اکیڈمی چترال فدا الرحمن فدا نے انجام دے رہے تھے ۔


oplus_0











