تازہ ترین
تپ دق یا ٹی بی جراثیم سے پھیلنے والا ایک متعدی مرض ہے/ڈی ایچ اوڈاکٹرحیدرالملک/ڈاکٹرفرح جاوید


نے کہاکہ بعض افراد اس بیماری کی ابتدائی مرحلے میں عطائیوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جن کی غلط ادویات کی وجہ سے مسئلہ گھمبیر ہوجاتی ہے۔چترال میں محکمہ ہیلتھ اورآغاخان ہیلتھ سروس دوردرازعلاقوں میں ٹی بی سنٹرزقائم کئے ہیں۔ان سنٹرز پر ٹیسٹوں کے آغاز سے مکمل علاج تک مریضوں کو ادویات اور دیگر سامان مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ تپ دق یا ٹی بی جراثیم سے پھیلنے والا ایک متعدی مرض ہے اور اگر اس کا بروقت علاج شروع نہ کروایا جائے تو متاثرہ شخص کے کھانسنے، چھینکنے یا تھوکنے سے یہ جراثیم ہوا میں شامل ہو جاتے ہیں۔ایک مریض بارہ سے پندرہ افراد کو ٹی بی کے جراثیم منتقل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے یعنی ایک مریض کی وجہ سے درجن بھر افراد کو ٹی بی لاحق ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر کسی شہری کو مسلسل دو ہفتے تک کھانسی رہے، شام کو بخار ہو، تھکن محسوس ہو، بھوک نہ لگے اور وزن کم ہوتا نظر آئے تو اسے فوری طور پر ٹی بی کے ٹیسٹ کروانے چاہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تقریباً ہر سرکاری اور نجی ہسپتال میں ٹی بی کے مفت ٹیسٹ کیے جارہے ہیں اور متاثرہ افراد کو ادویات بھی مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔اس موقع پرپروفیسر شفیق احمد،ایل ایچ ڈبلبوکواڈینٹرڈاکٹرسلیم سیف اللہ،آغاخان ہیلتھ سروس کے فنانس افیسر گل حسین،مولاناحسین احمد،ممبرڈسٹرکٹ کونسل دروش مولانامحمودالحسن اوردیگرموجودتھے۔واک میں علماء،ڈاکٹرز ،کالجز کے پروفیسرز،سکولوں کے ساتذہ اورطلباء شرکت کئے۔