مینٹل ہیلتھ اینڈ جی بی وی ڈیسک چترال کی روایات اور معاشرتی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے خواتین کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرے /ڈپٹی کمشنر راؤ ہاشم اعظیم

چترال (ڈیلی چترال نیوز) ضلعی انتظامیہ لوئر چترال اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP) کے خواتین کی سماجی و معاشی خودمختاری پراجیکٹ کی مالی معاونت سے، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے زیر نگرانی لوئر چترال میں جینڈر بیسڈ وائلنس (GBV) کی روک تھام اور بروقت رپورٹنگ کے لیے “مینٹل ہیلتھ اینڈ جی بی وی ڈیسک” قائم کر دیا گیا۔مینٹل ہیلتھ اینڈ جی بی وی ڈیسک کا افتتاح ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم نے چترال پریس کلب کے لان میں پودا لگا کر اور فیتہ کاٹ کر کیا۔ اس موقع پر ایک پروقار تقریب بھی منعقد ہوئی، جس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر راؤ ہاشم اعظم، ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر آفیسر خضر حیات، قاضی عرفان احمد، انچارج پولیس خدمت مرکز امان اللہ اور دیگر مقررین نے کہا کہ چترال میں جینڈر بیسڈ وائلنس کے بیشتر کیسز رپورٹ نہیں ہوتے، اور اگر کچھ کیسز رپورٹ بھی ہو جائیں تو متاثرین کو شدید سماجی اور خاندانی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکثر اوقات متاثرہ خواتین کے اپنے خاندان بھی ان کا ساتھ دینے کے بجائے خاموشی اختیار کرتے ہیں، جس سے وہ مزید ذہنی اذیت کا شکار ہو جاتی ہیں۔
مقررین نے واضح کیا کہ ویمن ڈیسک کے قیام کا بنیادی مقصد خواتین کو ایک محفوظ اور بااعتماد پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، جہاں وہ بلا خوف و خطر اپنے مسائل بیان کر سکیں۔ ان کے مسائل کو مکمل رازداری میں رکھتے ہوئے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ انہیں معاشرتی دباؤ یا بدنامی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں اس کے ذہنی صحت پر منفی اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جینڈر بیسڈ وائلنس، جس میں جسمانی، جنسی اور نفسیاتی استحصال شامل ہے، متاثرین کی ذہنی صحت پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرتا ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ معاشرے میں ایسے بہت سے واقعات پیش آتے ہیں جن میں والدین، بہن بھائی، شوہر یا دیگر قریبی رشتوں کی جانب سے تشدد کیا جاتا ہے، لیکن انہیں رپورٹ نہیں کیا جاتا۔ ایسے واقعات کو دبانے کے بجائے سامنے لانا ضروری ہے تاکہ ان کا بروقت حل ممکن ہو سکے۔ خواتین کو سماجی ناانصافی اور تشدد سے محفوظ رکھنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذہبی، سماجی اور ثقافتی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے ان مسائل کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تاکہ ایک متوازن اور مؤثر نظام وضع کیا جا سکے۔ ہر معاملے کو عدالتوں تک لے جانے کے بجائے ثالثی، مصالحت اور کونسلنگ کے نظام کو فروغ دینا چاہیے، جبکہ گھریلو سطح پر بھی بچوں کو شائستگی اور برداشت کا درس دیا جائے تاکہ مسائل کو بڑھانے کے بجائے حل کرنے کی روایت کو فروغ ملے۔
مقررین نے مزید بتایا کہ چترال میں رپورٹ ہونے والے کیسز کو حتی الامکان رازداری کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم اگر کوئی معاملہ سنگین نوعیت کا ہو تو اسے متعلقہ اعلیٰ حکام تک پہنچا کر قانونی تقاضوں کے مطابق نمٹایا جاتا ہے۔ڈپٹی کمشنر راؤ ہاشم اعظم نے ہدایت کی کہ مینٹل ہیلتھ اینڈ جی بی وی ڈیسک چترال کی روایات اور معاشرتی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے خواتین کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد متعلقہ ادارے کی جانب سے فراہم کردہ ہیلپ لائن نمبرز 03265894735 اور 0943-412914 پر رابطہ کریں، جہاں ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
تقریب میں آغا خان رورل سپورٹ پروگرام چترال کی جینڈر اسپیشلسٹ شازیہ سلطان، منیجر سول سوسائٹی عالیہ، کاشف علی، مہوش، ویمن ڈیسک انچارج نازیہ بی بی، نیاز اے نیازی ایڈووکیٹ، چائلڈ پروٹیکشن آفیسر مدد خان، اختر، اعجاز احمد، آسیہ بی بی، عنایت اللہ اسیر سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔














