موضوع :چترال میں بھکاریوں کا راج……تحریر: شہاب ثنا

ہمارے چترال کے اندر 2012 کے بعد سے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں بھکاریوں نے آنا شروع کیا اور مسلسل تعداد بڑھتے ہوئے پورے چترال میں ہزاروں بھکاریوں نے ڈیرے ڈال لیے ہیں ۔میں سوشل میڈیا کے ذریعے چترال سے باہر کے لوگوں اور سیاح کو پیغام دینا چاہتی ہوں یہ لوگ ہرگز چترالی نہیں اس میں ایک بھی چترالی آپ کو نہیں ملے گا ۔کیونکہ ہم چترالی لوگ اپنے لیے بھیک مانگنا عیب گری سمجھتے ہیں اور محنت و لگن پر بھروسہ کرتے ہیں۔
کوئی چترالی بھیک نہیں مانگتا ہے ۔ کیپٹل ٹاک کے میزبان حامد میر صاحب نے آج سے کچھ سال پہلے چترال میں آکر چترالیوں سے متاثر ہوکر یہ کہا تھا کہ پاکستان میں ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں مجھے ایک بھکاری بھی نظر نہیں آیا وہ حیران ہوکر بار بار یہی بات دہراتے تھے لیکن آج چترال میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں۔۔
پورے چترال میں بھیک مانگنے والے دراصل پاکستان کے مختلف شہروں سے آکر بھیک مانگتے ہیں
انسان کو اللّٰہ تعالیٰ سے مانگنا جائز ہے نہ کہ انسان سے۔۔
چترال کے لوگ باوقار لوگ ہیں جب خود بھیک نہیں مانگتے ہیں تو اس کا مطلب ہہ ہے کہ ہم نہیں چاہتے چترال کی خوبصورتی چترال کے خوش گوار صاف فضا متاثر ہو اور چترال کے باعزت ،مہمان نواز،امن پسند لوگوں پر کوئی سوال اٹھائے۔۔ ہم بھوکے مرجائیں گے لیکن کبھی بھکاری بن کر نہیں مانگتے اور باقی علاقوں سے گئے ہوئے ناشائستہ بکھاری گلی کوچوں ،اڈوں ،ہسپتال ،بازار کچھ بھی محفوظ نہیں ان باضمیر لوگوں کو تکلیف میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔۔۔بھکاریوں کی تعداد میں دن بدن بڑھتا اضافہ ہماری مجموعی قومی گراوٹ کا سب سے بڑا المیہ ہے
ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں بھیک مانگنے والوں کی تعداد تین کروڑ اسی لاکھ افراد تک پہنچ گئی ہیں
روزانہ اوسطاً ایک عام انسان کو کم از کم دس بھکاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دوکانداروں کے لیے ان کی تعداد پچاس سے سو بھکاریوں پر مشتمل ہے۔۔
پالیسی ساز بھی خاموش ہیں آپ دیکھیں کوئی بھی ایسا کاروبار نہیں ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ اس پیشے سے وابستہ ہوں لیکن پونے چار کروڑ لوگ پاکستان میں بھیک مانگتے ہیں جبکہ دنیا کے کئی ممالک میں بھی سرگرم ہیں اور بھیک مانگنے سے باز نہیں آتے ہیں
اچھے خاصے ہٹے کٹے موٹے تازے گبھرو جوان بوڑھے بچے اور عورتیں سب لگے ہوئے ہیں جبکہ اچھی خاصی جائداد کے ہوتے ہوئے بھیک مانگتے ہیں
اور سرکار بھی خاموش ہے بھائی پابندی سے نقصان کس کا ہے آخر وہ جو ساٹھ لاکھ لوگ حقدار ہیں معذور ہیں نابینا ہیں یا الغرض مستحق ہیں ان کے خصوصی کارڈز نادرا سے جاری کرتے ہوئے سختی سے پابند کیا جائے
کہ مانگتے ہوئے گلے میں کارڈ لٹکا کر بھیک مانگیں
جبکہ غیر مستحق لوگوں کے بھیک مانگنے پر سزائیں جاری کردی جائیں
روزانہ ہر انسان کو اوسطاً 10 سے 30 بھکاریوں سے واسطہ پڑتا ہے اگر گھر سے قدم باہر نا رکھو تو
اگر آپ کا واسطہ بازار سے پڑتا ہے تو بھکاریوں کی تعداد سو سے 150 پچاس سے زائد ہوگی جو آپ کو بدظن کرتے ہوئے آپ کو پاگل کر دینے کے لیے کافی تعداد جو کہ بہت زیادہ ہے
میں اپنی اور اپنے چترالی عوام کی طرف سے ڈی سی چترال جناب عمران خان صاحب ڈی ایس پی صاحب اور دوسرے زمہ داراں سے اپیل کرتی ہوں کہ اس پیشے سے وابستہ تمام افراد کی جانچ پڑتال کی جائے انھیں چن چن کے ان کے آبائی شہر بھیج دیا جائے اور ناجائز بکھاری ختم کیے جائیں تاکہ چترال کی خوبصورتی بحال ہوجائے اور کوئی سیاح چترالیوں کو بھکارن نہ سمجھے شکریہ۔۔۔
خوش رہو اختلاف کی اجازت ہے۔۔۔۔



