اے کے آر ایس پی اور یونیورسٹی آف چترال نے آن لائن تشدد کی روک تھام یعنی ڈیجیٹل دورمیں خواتین اورلڑکیوں کی حفاظت کویقینی بنانے کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد

چترال(ڈیلی چترال نیوز)آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP) نے یونیورسٹی آف چترال کے تعاون سے صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف عالمی 16 روزہ مہم کوآگے برھاتے ہوئے یونیورسٹی اف چترال میں آن لائن تشدد کی روک تھام اور خواتین اور لڑکیوں تحفظ دینے کے عنوان پرایک آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی وائس چانسلریونیورسٹی اف چترال پروفیسر ڈاکٹر حاضر اللہ تھے۔ پروگرام میں مختلف اداروں کے ممتاز مقررین اور پیشہ ور افراد نے شرکت کی، جن میں شازیہ سلطان، صنفی ماہر AKRSP، ایس ایچ او دلشاد پار; حلیمہ سلیمان، ماہر نفسیات، آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان رفاقت علی، ڈاکٹر ثناء اللہ، شعبہ اوردوسروں نے قدیم معاشروں اور جدید ڈیجیٹل دور کے درمیان فرق کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ پہلے کی کمیونٹیز محدود تکنیکی نمائش کی وجہ سے نسبتاً محفوظ تھیں، جبکہ ٹیکنالوجی میں آج کی ترقی نے خطرات کی نئی شکلیں پیدا کی ہیں، خاص طور پر آن لائن تشدد اور ہراساں کرنا ہمارے معاشرے میں عام ہواہے۔انہوں نے طلباء اور کمیونٹی کے ارکان پر زور دیا کہ وہ آن لائن بات چیت میں حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے واضح ذاتی اور خاندانی حدود طے کریں۔
مقررین نے آن لائن تشدد کی مختلف شکلوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ دورمیں خواتین اورلڑکیوں کی بلیک میلنگ، ہراسان کرنا وغیرہ کافی زیادہ ہوگیاہے۔اس حوالے سے سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔ اس موقع پرشرکاء کو نفسیاتی اثرات، قانونی تحفظات اور محفوظ ڈیجیٹل ماحول کو فروغ دینے میں کمیونٹی کے کردار کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ حاضرین نے اس اہم مسئلے پر بیداری پیدا کرنے میں اے کے آر ایس پی اور یونیورسٹی آف چترال کی مشترکہ کوششوں کو سراہا۔تقریب کے آکرمیں منتظمین میں تعریفی اسناد اور شیلڈز تقسیم کیےگئیں۔








