یارب بخشے بڑی خوبیاں تھیں مرنے والے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر

موت ایک ایسی حقیقت ہے جوزندہ اورمردہ کے درمیان تمام بندھن ٹوٹ جاتے ہیں اوراُن کے مابین تمام قربتین ،روابطہ ختم ہوجاتے ہیں ۔اُن کے ساتھ وہ ہنسی، وہ باتیں، وہ ساتھ گزارے لمحات، سب یادیں بن کر دل میں بسی رہتی ہیں۔ چہرے پر وہ بے بسی جو کسی بڑے صدمے کی گواہی دیتی ہےجولفظوں میں بیان نہیں کرسکتے ہیں۔ اپنوں کی جُدائی بھی اپنوں کی محبت کی طرح بے مثال ہوتی ہے۔
کون سا زخم دیا ہے مجھے تقدیر نے ایسا
کہ جوانی میں ہی میرے بھائی کا سایہ چلا گیا
12 دسمبر2025 جو میری ذندگی کا سیاہ ترین دن ہے صبح پونے دس بجے حسب معمول دفتر سے ہوکرمقامی ہوٹل میں ایک پروگرام کے لئے جاررہاتھا گاؤں سے ایک عزیزکی کال آئی کہ آپ کے چچازادبھائی سیدتقویٰ حسین شاہ انتقال کرگئے ہیں پشاوراوراسلام آباد میں مقیم بہن بھائیوں کوبھی آپ اطلاع دیں یہ خبرسن کر قدموں تلے زمین نکل گئی ۔ سیدتقویٰ حسین کے انتقال کی خبرکسی بہن بھائی کودیناکتنامشکل مرحلہ ہوگاجومجھے طے کرناپڑا۔28 سالہ تندرست خوب سیرت، خوب صورت، قابل، ذہین جوان بھائی کی دنیا فانی سے کوچ کر جانے کی ناگہانی اطلاع ملی۔ جوہم سب کے لئے صبرکاایک بڑاامتحان سے کم نہ تھا۔ سیدتقویٰ حسین زندگی کی 28 بہاریں دیکھنے کے بعداپنے مالک حقیقی سے جاملے
سیدتقویٰ حسین چترال پولیس کے جوان تھے دودن پہلے تھانہ مستوج سے چھٹی پرگھرپہنچ کرسردی سے بچنے کے لئے اپنے نوتعمیر گھرکے ایک چھوٹے کمرے کے راوشندان پربھی کپڑا ڈالکربندکرکےسوگیاصبح اُٹھ کروالدکے ساتھ زیرتعمیرپائپ لائن میں کام پرگیادوسرے دن بھی اُسی کمرے میں میزکے نیچے کوئلے کے انگھٹی رکھ کررات کےدوبجے تک اپنے شاگردوں کوپڑھایا جوکئی سالوں سے سینکڑوں طلباء کوآن لائن پڑھارہے تھے ۔صبح ساڑھے نوبجے کے قریب ماں نے اپنے لخت جگرکواُٹھانے کے لئے آکردروازہ کھٹکھٹایاتوکوئی حرکت نہیں ہوئی ۔جب زورسے دروازے کوکھولاتوبیٹے کی آخری سانسیں چل رہی ہیں انہوں نے شورمچاکرآس پاس والوں کوبولایا ۔مگربچنے کی اُمیدختم ہوگئی تھی ۔
سیدتقویٰ حسین 11جولائی 1997بروزجمعہ اپرچترال پترانگازیارخون میں سادات خاندان کے سیدمسنوی شاہ کے ہاں پیدا ہوئے ۔آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاوں پترانگاز کے ایک پرائیویٹ سکول سے پرائمری اور مڈل کی تعلیم حاصل کی اورمیٹرک گورنمنٹ ہائی سکول بانگ سے حاصل کی ۔ طالبِ علمی کے ابتدائی دور سے ہی آپ کی ذہانت او رخداداد صلاحیتیں ظاہر ہونے لگیں ۔ آپ کے کلاس فیلوز کے بقول آپ کاشمار کلاس کے ہونہار طلباء میں ہوتا تھا او رہمیشہ امتیازی نمبروں کے ساتھ پوزیشن حاصل کرتے تھے۔گورنمنٹ ڈگری کالج چترال سے ایف ایس سی کے بعدبی ایس انگلش میں دوسمیسٹرمکمل کرنے کے بعدچترال پولیس میں بھرتی ہوئی بعدمیں ملازمت کے ساتھ ساتھ پڑھائی بھی جاری رکھ کریونیورسٹی آف چترال سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی تھی۔
سیدتقویٰ حسین اتنی بےشمار صلاحیتوں اور خوبیوں کے حامل ہونے کے باوجود اپنی شائستگی، ملنساری، نرم خو طبیعت اور اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے علاقے میں بے حد مقبول تھے۔ ان کی ناگہانی موت نے نہ صرف قریبی رشتہ داروں بلکہ پورے یارخون کو سوگوار کر دیا ہے۔ان کے نام کے ساتھ کچھ الفاظ لکھتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ وہ ہم سے جداہو گئے۔ اُن کی محبتوں ، وفاؤں ،پیاربھری باتوں سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوگئے۔اُن کی جدائی کے غم سے جگر پارہ پارہ اور دل زخمی زخمی ہے۔ ہسی مزاق سے ایک دوسرے سے ملتے تھے وہ باتیں یاد کر کے کلیجا پھٹ جاتا ہے۔ جوان بھائی کی موت کا غم ایک ایسا صدمہ ہے جس سے گزرنا بہت مشکل ہوتا ہے
سیدتقویٰ حسین ملازمت کے ساتھ آن لائن ٹیچنگ اور بیس آف سیکسس کے نام سے یوٹیوب چینل چلارہے تھے۔خیبرپختونخوا پولیس کے اے ون ،بی ون آن لائن ٹیسٹ تیاریوں کے حوالے ،پولیس رولز،سڑک حادثوں میں مفروبان کی مدد،سنگین حالت میں لوگوں خصوصاًخواتین اوربچوں کوامدادفراہم کرنے، پولیس کی ہنگامی فرائض ،پولیس ضابطہ اخلاق، پولیس آرڈیننس اوردوسرے موضوعات پرلیکچردینے کے ساتھ ساتھ پاکستان سمیت دس ممالک کے سینکڑوں طلباء وطالبات کومختلف موضوعات پرپڑھارہے تھے۔
مگر دل آج بھی اس حقیقت کو قبول نہیں کر پا رہا ہے ایسا لگتا ہے جیسے وہ ابھی دروازے سے اندر آئیں گے۔مگرموت ایک حقیقت اوربرحق ہے۔اللہ تعالیٰ میرے بھائی سیدتقویٰ حسین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے اوراُن کے جدائی کاصدمہ برداشت کرنے کی طاقت عطافرمائے ۔ آمین ثم آمین
آج بچھڑے ہوئے یاروں کی بہت یاد آئی
مجھکو بھی جان سے پیاروں کی بہت یاد آئی





