مضامین

آیت اللہ سید علی خامنہ کی ہمہ جہت شخصیت۔۔۔تحریر: رانا اعجاز حسین چوہان

رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای شہید اسلامی دنیا میں ایک نمایاں اور بااثر مقام رکھتے تھے۔ سنہ 1989ء سے2026 ء تک سپریم لیڈر ایران کے منصب پر فائز رہنے والے ایران کے سب سے طاقتور شخص، علمی، دینی اور سیاسی میدانوں میں طویل تجربہ رکھتے تھے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شخصیت کی بنیاد علم، تقویٰ اور فکری استقامت پر قائم تھی۔ وہ ایک ممتاز دینی عالم ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث، فقہ اور اسلامی تاریخ پر گہری نظر رکھتے تھے۔ ان کی تقاریر میں دینی بصیرت کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے مسائل کا ادراک بھی نمایاں ہوتا۔ قیادت کے اعتبار سے ان کی شخصیت میں سادگی، خود انحصاری اور اصول پسندی نظر آتی۔ وہ اسلامی اقدار، امت مسلمہ کے اتحاد اور استکبار کے مقابلے میں استقلال پر زور دیتے۔ ان کی فکر میں اسلامی انقلاب کی حفاظت، مظلوم اقوام کی حمایت اور اخلاقی و روحانی تربیت کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ سیدعلی خامنہ ای 1939ء میں ایران کے شہر مشہد میں ایک مقامی مذہبی رہنما، جواد خامنہ ای کے گھر میں پیدا ہوئے اور انہوں نے نسبتاً غربت میں پرورش پائی، وہ اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھے، انہوں نے اپنے آبائی شہر مشہد کے حوزہ میں تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں 1958ء میں قم منتقل ہوئے جہاں انہوں نے روح اللہ خمینی کے دروس میں شرکت کی۔ خامنہ ای ایران کے شاہ محمد رضا پہلوی کی مخالفت میں سرگرم ہوئے،خامنہ ای کئی برسوں تک روپوش رہے اورانہیں جیل بھی کاٹنی پڑی، شاہ ایران کی خفیہ پولیس نے انہیں 6مرتبہ گرفتار کیا اور انہیں تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا، بعد ازاں تین برس کے لیے جلا وطن کر دیا گیا۔ 1978ء1979ء کے ایرانی انقلاب میں وہ ایک نمایاں شخصیت کے طور پر ابھرے۔ اور انقلاب کی کامیابی کے بعد شاہ کا تختہ الٹے جانے کے بعد، ایران ایک اسلامی جمہوریہ بن گیا، خامنہ ای کو انقلاب کا انتظام سنبھالنے کے لیے قائم کی گئی اسلامی انقلابی کونسل کا رکن مقرر کیا گیا۔ 1981ء میں وہ 95 فیصد ووٹ حاصل کر کے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ وہ ایران عراق جنگ کے دوران 1981ء سے 1989ء تک ایران کے تیسرے صدر رہے اور اسی عرصے میں ان کے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ 1989ء میں خمینی کی وفات کے بعد مجلس خبرگان رہبری نے انہیں سپریم لیڈر منتخب کیا۔
بطور سپریم لیڈر خامنہ ای نے ایران کے جوہری پروگرام کی پر امن مقاصد کے لیے حمایت کی جبکہ فتویٰ جاری کر کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کو حرام قرار دیا۔ انہوں نے ایران میں صنعتوں کی نجکاری کی حمایت کی اور تیل و گیس کے وسائل کے ذریعے ایران کو توانائی کی سپر پاور میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ ان کی خارجہ پالیسی اخوانی شیعیت اور ایرانی انقلاب کو پھیلانے کے تصور کے گرد گھومتی رہی۔ ان کے دور میں ایران نے شام کی خانہ جنگی، عراق کی جنگ، یمن کی خانہ جنگی اور غزہ جنگ میں حمایت کی نیز روس کی روس یوکرین جنگ میں بھی پشت پناہی کی۔ اسرائیل اور صہیونیت کے سخت ناقد کے طور پر انہوں نے فلسطینیوں کی اسرائیل فلسطین تنازع میں حمایت کی۔ عملی سخت گیر رہنما کے طور پر پہچانے جانے والے خامنہ ای نے بائیں بازو کے دھڑوں، معتدل علما اور سیاسی مخالفین کو پس منظر میں دھکیل دیا اگرچہ بعض مواقع پر انہوں نے نظام کے استحکام یا جواز کو خطرہ لاحق ہونے پر پابندیوں میں نرمی بھی کی۔ ان کی قیادت ریاستی عسکریت پسندی کے پھیلاؤ اور دفتر سپریم لیڈر میں اختیارات کے ارتکاز سے قریباً منسلک رہی۔ ان کے دور میں متعدد احتجاجی تحریکیں بھی ہوئیں، جن میں ایران طلبہ احتجاجات 1999ء،2009ء کے ایرانی صدارتی انتخاب احتجاجات، 2011 ء 2012ء کے ایرانی احتجاجات، 2017ء 2018ء ایرانی احتجاجات، 2018ء 2019ء کی ایرانی عام ہڑتالیں و احتجاجات، 2019ء 2020ء کے ایرانی احتجاجات اور 2025ء2026ء کے ایرانی احتجاجات شامل ہیں۔
وہ صرف روحانی پیشوا نہیں بلکہ حکومت کی سمت کا تعین کرنے، مسلح افواج کی کمان اور عدلیہ کے سربراہ کی تقرری میں مشاورت تک ان کے فرائض میں شامل تھی۔ وہ ایرانی ریاست کے طاقت کے مراکز میں مرکزی حیثیت رکھنے کے لیے مشہور رہے، بطور رہبر اعلیٰ، خامنہ ای کو کسی بھی حکومتی معاملے میں ویٹو کی طاقت حاصل رہی، اس کے علاوہ ان کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ جس کو چاہیں، کسی بھی عوامی دفتر کے امیدوار کے طور پر منتخب کر سکتے تھے۔ اپنے دور میں خامنہ ای نے روایتی جنگ کی بجائے خطے میں مزاحمت کا محور تشکیل دیا، جس میں لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی اور شام میں بشار الاسد کی حکومت شامل تھی، تاہم 2023ء میں اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد یہ محور بکھرنے لگا، اسرائیلی جارحیت نے حزب اللہ کی قیادت کو نقصان پہنچایا، جبکہ دسمبر 2024ء میں شام میں اسد حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ خامنہ ای ریاست کے سربراہ اور فوج کے کمانڈر ان چیف ہونے کے ناطے، وہ ایران کے سب کے طاقتور شخص کے طور پر جانے جاتے تھے، انہوں نے سخت پابندیوں اور عالمی دباؤ کو پس پشت ڈال کر ملکی ایٹمی پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھایا۔ دوسری طرف آیت اللہ خامنہ ای ادبی ذوق بھی رکھتے ہیں تھے، فارسی ادب اور شاعری سے ان کی دلچسپی معروف ہے، جو ان کی ہمہ جہت شخصیت کو ظاہر کرتی، وہ اکثر اپنی تقریروں میں اشعار کا حوالہ دیتے تھے اور مشاعروں کی میزبانی کرتے تھے جہاں حکومت حامی شاعر اپنے اشعار پڑھنے اور ان کے تبصرے وصول کرنے کے لیے جمع ہوتے تھے۔ مجموعی طور پر، وہ ایک ایسی شخصیت تھے جو دینی علم، فکری گہرائی اور قیادی بصیرت کا امتزاج پیش کرتی ہے اور لاکھوں افراد کے لیے فکری و روحانی رہنمائی کا ذریعہ سمجھی جاتی۔ خامنہ ای دو ماہ قبل بھی قاتلانہ حملے کا نشانہ بنے تھے، جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہو گئے تھے اور ان کا دایاں بازو ناکارہ ہو گیا تھا۔28 فروری 2026ء کو ایران پر اسرائیل امریکا مشترکہ حملوں کے دوران ایک فضائی حملے میں وہ شہید ہو گئے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button