مضامین

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات……. تحریر: مبشرالملک

مسلم دنیا آج تاریخ کے ایک نہایت نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ تقریباً ساٹھ اسلامی ممالک پر مشتمل امتِ مسلمہ جغرافیائی، نسلی، مسلکی، معاشی اور سیاسی تقسیم کا ایسا شکار ہوچکی ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے لیے ایک منتشر دسترخوان کی مانند بن گئی ہے، جہاں ہر طاقت اپنی مرضی کا نوالہ اٹھا رہی ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے صدیوں پہلے اس کیفیت کی نشاندہی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب کافر اقوام تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے والے دسترخوان پر ایک دوسرے کو دعوت دیتے ہیں۔ صحابہؓ نے عرض کیا: کیا اس وقت ہم تعداد میں کم ہوں گے؟ فرمایا: نہیں، بلکہ تم تعداد میں زیادہ ہوگے مگر سیلاب کے جھاگ کی مانند بے وزن ہوجاؤ گے۔ آج کا منظر اسی نبوی پیش گوئی کی عملی تصویر معلوم ہوتا ہے۔

مسلم امہ نے جب شریعتِ محمدی ﷺ کی اجتماعی روح سے دوری اختیار کی تو اس کی جگہ اشتراکیت، جمہوریت کی اندھی نقالی، موروثی بادشاہتوں اور مفاداتی سیاست نے لے لی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ دنیا میں وقار باقی رہا اور نہ آخرت کی تیاری۔ سائنسی علوم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور تعلیمی خودمختاری کے میدان میں مسلمان اقوام پیچھے رہ گئیں۔ جن ممالک کے پاس بے پناہ دولت تھی، وہ ترقی، علم اور دفاعی خود کفالت پر خرچ ہونے کے بجائے عیاشیوں اور نمائشی ترقی کی نذر ہوگئی، جبکہ مزاحمت اور غیرت کا جذبہ رکھنے والی اقوام غربت، پابندیوں اور جنگوں میں پسی رہیں۔

عرب دنیا کی صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ اپنی سرزمین پر غیر ملکی فوجی اڈے دے کر تحفظ، عزت اور بقا کی ضمانت تلاش کی گئی، مگر عملی میدان میں یہی دفاعی نظام بحران کے وقت بے اثر ثابت ہوا۔ کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود فیصلہ کن لمحوں میں انحصار بیرونی طاقتوں پر ہی رہا۔ حالیہ جنگ کے دوران امریکہ نے ثابت کیا کہ وہ صرف اسرایل کا محافظ اور اس کا باپ ہے دمڑی عربوں سے لے رہا اور کھال مسلمانوں کو أپس میں لڑوا کر اتاروا رہا ہے ۔ عالمی سیاست کا تلخ اصول واضح ہوگیا کہ طاقتور صرف اپنے مفادات کا محافظ ہوتا ہے، دوست کسی کا نہیں۔ ایران کے ساتھ چین ۔روس ۔کوریا نے بھی یہی سلوک روا رکھا ۔مستقبل میں پاکستان کو بھی عربوں اور ایران سے یہی سبق سیکھلینا چاہیے کہ چین ۔روس۔امریکہ ہمارے دوست نہیں بن سکتے۔

حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال اور ۔۔۔گریٹر اسرایل ۔۔۔ کی جھلک کو امریکہ اسرایل کی سازش کا نتیجہ نہیں کہا جاسکتا بلکہ مسلم دنیا کی طویل بے عملی، داخلی اختلافات، فرقہ وارانہ تعصبات اور بیرونی انحصار نے برسوں پہلے اس راستے کو ہموار کردیا تھا۔ جس قوتِ مزاحمت کو امت کے اجتماعی دفاع کا حصہ بننا چاہیے تھا، اسے مسلکی عینک سے دیکھ کر کمزور کیا گیا۔ دوسری جانب عالمی اتحادوں کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آگئی کہ سیاسی مفادات ہمیشہ نظریاتی دوستی پر غالب رہتے ہیں۔

قرآن کریم بار بار متنبہ کرتا ہے کہ باطل قوتیں مسلمانوں کو حقیقی معنوں میں اپنا دوست نہیں بنا سکتیں۔ آج عالمی منظرنامہ اسی حقیقت کی گواہی دے رہا ہے۔ جو اقوام اپنی قوت، اتحاد اور خود انحصاری کھو دیتی ہیں، تاریخ انہیں رحم نہیں دیتی۔

ایسے نازک حالات میں پاکستان کا وجود ایک اہم حقیقت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ بے شمار داخلی و خارجی سازشوں، دہشت گردی، معاشی دباؤ اور سیاسی عدم استحکام کے باوجود یہ ملک اب تک قائم ہے۔ اس کی بڑی وجہ رب کاءینات کا سایہ ذولجلال، دفاعی صلاحیت، ایٹمی قوت اور ایک منظم عسکری ڈھانچہ ہے۔ آج پاکستان بیک وقت دہشت گرد تنظیموں، سرحدی خطرات اور علاقائی کشیدگی افغان جنگ جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ اندرونی استحکام بھی مکمل طور پر مضبوط نہیں۔

یہ وقت قومی انتشار، لسانی یا سیاسی تقسیم کا نہیں بلکہ اتحاد، شعور اور ریاستی استحکام کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔ قوم اور ریاست کے درمیان فاصلے دشمن قوتوں کے لیے راستہ ہموار کرتے ہیں۔ اگر خطے میں طاقت کا توازن مزید بگڑتا ہے تو اس کے اثرات براہِ راست پاکستان خصوصاً مکار لومڑ ٹرمپ ، نیتن یایو اور مودی جیسے قصایوں کے خون الود پنجے بلوچستان جیسے حساس علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

تاریخ کا اصول واضح ہے: کمزوری خود سب سے بڑا جرم بن جاتی ہے، اور قوموں کو اس کی سزا اچانک زوال کی صورت میں ملتی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا تھا:

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

مسلم دنیا کو اب فیصلے کرنا ہوں گے — اتحاد یا انتشار، خود انحصاری یا غلامی، بیداری یا تاریخ کی حاشیے پر گم ہوجانا۔

اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو بصیرت، اتحاد اور عزتِ رفتہ کی بحالی نصیب فرمائے۔

طالبِ دعاحقیرو فقیر

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button