*اسلامی پارٹیاں کامیاب کیوں نہیں ہو رہیں؟….. تحریر: مبشرالملک

حالیہ افغان طالبان اور پاکستان کے درمیان جنگ نے مجھے بہت مایوس کیا جب دوسری بار طالبان۔۔۔ پاکستانی بچے بنا کر کابل پہ بیثھا دیے گءے تھے تو میں بہت جذباتی تھا مجھے لگ رہا تھ کہ ہمیں ہجرت کرکے افغانستان جانا چاہیے کہ۔۔۔ خراسان کی فوج میں شامل ہوکے کالے جھنڈے لہراے بیت المقدس جاییں گے۔
کیا پتہ تھا یہ طالبان بھی اپنے پیش رو مجاہد حکمرانوں کی طرح جو خانہ کعبہ میں کیے وعدوں سے پھیر گیے تھے کی سنت پر عمل کر کے ۔۔۔ غزوہ ہند ۔۔۔ کے مجاہدوں(پاک فوج) پر جنگ مسلط کر دین گے. جو بھی ہوا بہت برا ہوا میں کیی سالوں سے مسلسل اگاہ کرتا رہا کہ دشمن ہمیں گھیر رہا ہے ہوش میں أو جوش سے نکلو۔مگر نقار خانے میں طوطے کی أواز کون سنتا ہے۔ اور طالبان دوسری مرتبہ بھی ۔۔۔ رسواءی کا راستہ چن کر پھر ۔۔۔اسلامی فلاحی ۔۔ریاست کا چہرہ دنیا کے سامنے خاک الود کرکے رخصت ہونے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔
قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی فلاحی ریاست کے جو بنیادی خدوخال متعین ہوتے ہیں، وہ درج ذیل ہیں:
1۔ حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی(سورۃ یوسف 12:40)
2۔ عدل و انصاف کا مکمل قیام(النساء 4:58، المائدہ 5:8)
3۔ قانون کے سامنے سب کی برابری(صحیح بخاری 6788)
4۔ نظامِ حکومت میں باہمی مشاورت(الشوریٰ 42:38)
5۔ امانت و دیانت پر مبنی قیادت(القصص 28:26)
6۔ انسانی عزت و تکریم کا تحفظ(الاسراء 17:70)
7۔ جان، مال اور عزت کا تحفظ(صحیح مسلم 1679)
8۔ زکوٰۃ و معاشی انصاف کا نظام(التوبہ 9:60)
9۔ کمزور طبقات کی کفالت(البقرہ 2:177)
10۔ سود سے پاک معاشی نظام(البقرہ 275-279)
11۔ مذہبی آزادی(البقرہ 2:256)
12۔ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ(ابوداؤد 3052)
13۔ حکمرانوں کا احتساب(صحیح بخاری 7138)
14۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر(آل عمران 3:110)
15۔ امن و فساد کے خاتمے کی ضمانت(المائدہ 5:32)
یہ وہ خدائی اصول ہیں جن پر اسلامی ریاست انسان کے دین، جان، عزت، آزادی اور معاشی تحفظ کی ضامن بنتی ہے۔ مگر جدید دور میں اسلامی سیاسی تحریکیں اقتدار تک پہنچنے کے باوجود دیرپا کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔
مصر — اخوان المسلمون
اقتدار عوامی ووٹ سے ملا مگر قومی ریاست کے بجائے جماعتی ترجیحات غالب رہیں۔ سیاسی برداشت، وسیع مشاورت اور ریاستی توازن قائم نہ ہو سکا جس سے معاشی استحکام اور عوامی اعتماد متاثر ہوا۔
لبنان — حزب اللہ
مزاحمت کی علامت ہونے کے باوجود مسلکی طاقت کے تاثر نے قومی وحدت کو کمزور کیا۔ ریاستی اداروں سے بالاتر عسکری حیثیت نے داخلی خوف اور تقسیم کو جنم دیا۔
ایران — خمینی انقلاب
انقلاب نے بادشاہت ختم کی مگر بعد ازاں مسلکی غلبہ نمایاں ہوگیا۔ سیاسی اختلاف محدود ہوا، سنی مسلمانوں اور دیگر گروہوں کی شکایات بڑھیں، جبکہ ریاستی نظریاتی کنٹرول نے معاشرتی آزادی اور اعتماد کو متاثر کیا۔
سعودی عرب — وہابی نظم
دینی شناخت کے باوجود سیاسی شمولیت، احتساب اور عوامی رائے کی گنجائش محدود رہی۔ جدید سماجی تقاضوں اور عوامی فلاحی ترجیحات کے درمیان واضح توازن قائم نہ ہو سکا۔
فلسطین — حماس
مزاحمتی جدوجہد کے باوجود داخلی تقسیم، مسلسل عسکری ماحول اور شہری سہولیات، روزگار اور معاشی استحکام کی کمی نے فلاحی ماڈل کو مضبوط ہونے نہ دیا۔
خیبر پختونخوا — مجلس عمل
اسلامی نظام کے وعدوں کے باوجود تعلیم، صحت، روزگار، امن عامہ اور انتظامی اصلاحات میں وہ نمایاں تبدیلی نہ آسکی جو عوام عملی طور پر محسوس کرتے۔
افغانستان — جہادی قیادت اور طالبان (دونوں ادوار)
جہاد کے بعد قومی مفاہمت، ادارہ سازی، خواتین و بچوں کے حقوق، تعلیم، روزگار اور عالمی نظام سے ہم آہنگی پر مطلوب توجہ نہ دی گئی۔ سخت حکمرانی نے خوف تو پیدا کیا مگر اعتماد اور ترقی کی بنیاد مضبوط نہ ہو سکی۔
مشترکہ اسبابِ ناکامی
ان تمام اسلامی سیاسی تجربات میں چند مشترکہ کمزوریاں نمایاں رہیں:
مسلکی تعصب اور نظریاتی اجارہ داری
اقلیتوں کے حقوق کا عدم تحفظ اور بعض مقامات پر ان کی حاشیہ بندی
خواتین اور بچوں کے بنیادی حقوق سے غفلت
عالمی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے لاتعلقی
شدت پسندی یا عسکری گروہوں کی سرپرستی کا تاثر
جدید سائنس، تحقیق اور ٹیکنالوجی سے دوری
دورِ حاضر کے تقاضوں سے نا آشنائی
عوامی سہولیات، تعلیم، صحت اور روزگار پر کم توجہ
امن و استحکام کے بجائے مسلسل کشیدگی کا ماحول
احتساب کے بجائے تنظیمی وفاداری کو ترجیح
نتیجتاً اسلامی ریاست کے نام پر قائم حکومتیں عوام کے لیے عملی رحمت بننے کے بجائے بعض اوقات خوف، دباؤ اور محرومی کی علامت بن گئیں۔
اسلامی حکومت طاقت یا نعرے سے نہیں بلکہ عدل، رحم، مساوات اور عوامی خدمت سے قائم ہوتی ہے۔ریاستِ مدینہ کسی مسلک یا جماعت کی بالادستی نہیں بلکہ انسان کی فلاح کا نمونہ تھی۔
طالب دعاحقیرو فقیر


