اولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد

صحبت کے اثرات اور اسلام کی تعلیمات
انسان جس ماحول میں رہتا ہے اور جن لوگوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے، ان کے اثرات اس کی شخصیت پر لازمی پڑتے ہیں۔ اسی لیے اسلام نے "صحبتِ صالح” (نیک لوگوں کی محفل) پر زور دیا ہے۔
قرآنِ کریم کا فرمان ہے:
”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔” (سورہ التوبہ: 119)
فرمانِ نبوی ﷺ ہے:
”انسان اپنے دوست کے دین (طرزِ زندگی) پر ہوتا ہے، پس تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔” (سنن ابی داؤد)
آپ ﷺ نے اچھے اور برے ساتھی کی مثال عطر فروش اور بھٹی جھونکنے والے سے دی کہ عطر فروش کے پاس بیٹھیں گے تو خوشبو آئے گی، جبکہ لوہار کی بھٹی کے پاس بیٹھیں گے تو کپڑے جلیں گے یا کم از کم دھواں اور بدبو تو ضرور پہنچے گی۔
2. نازک عمر اور تعلیمی اداروں کا ماحول
ساتویں اور آٹھویں جماعت (بلوغت کی ابتدا) وہ وقت ہوتا ہے جب بچہ اپنے گھر کے حصار سے نکل کر بیرونی دنیا، خاص کر ٹورز اور اسپورٹس ایونٹس میں دوستوں کے زیرِ اثر آتا ہے۔ یہیں سے تجسس کی بنا پر سگریٹ نوشی، تاش اور لڈو وغیرہ وغیرہ جیسے مشغلوں کا آغاز ہوتا ہے۔
اسلامی نقطہ نظر سے والدین پر لازم ہے کہ وہ ان سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے:
”تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت (ماتحتوں) کے بارے میں سوال ہوگا۔” (بخاری)
3. برائی کا تدریجی سفر: نشہ اور جوا
کوئی بھی شخص اچانک ہیروئن یا آئس کا عادی نہیں بنتا، بلکہ اس کا سفر ایک سگریٹ سے شروع ہوتا ہے۔ اسی طرح تاش اور لڈو وغیرہ بظاہر کھیل لگتے ہیں لیکن جب ان میں شرط لگ جائے تو وہ جوا (میسر) بن جاتے ہیں، جسے قرآن نے "شیطانی کام” قرار دیا ہے۔
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
”اے ایمان والو! شراب اور جوا… یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، پس ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔” (سورہ المائدہ: 90)
4. شادی بیاہ کی رسومات اور بے راہ روی
آج کل شادیوں میں ڈھول تماشے، ناچ گانے اور نشے میں دھت نوجوانوں کا رقص ایک معمول بن چکا ہے۔ والدین اسے "خوشی کا موقع” کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہی وہ مقامات ہیں جہاں حیا کا پردہ چاک ہوتا ہے اور نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہوتی ہے۔ اللہ کے نزدیک وہی خوشی مبارک ہے جس میں اس کی نافرمانی نہ ہو۔
5. حل اور تجاویز
بچوں سے دوستی: بچوں پر سختی کے بجائے ان سے دوستانہ تعلق رکھیں تاکہ وہ اپنی ہر بات آپ سے شیئر کریں۔
نگرانی: وہ اسکول سے باہر کن کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں، ان کا سوشل میڈیا استعمال کیسا ہے، اس پر گہری نظر رکھیں۔
اخلاقی تربیت: انہیں حلال و حرام کی تمیز سکھائیں اور بزرگوں کا ادب و احترام ان کے رگ و پے میں اتاریں۔
دینی ماحول: گھر میں نماز اور قرآن کی تلاوت کا اہتمام کریں تاکہ بچوں کے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا ہو۔
صحبت کے اثر پر علامہ اقبال کا یہ پیغام بہت گہرا ہے:
صحبتِ صالح ترا صالح کند
صحبتِ طالح ترا طالح کند
(نیک کی صحبت تجھے نیک بنا دے گی، اور بد کی صحبت تجھے بد بنا دے گی)
اکبر الہ آبادی نے کیا خوب کہا تھا:
تعلیم جو دی جاتی ہے ہمیں وہ کیا ہے؟
فقط بازاری ہے
جو عقل سکھائی جاتی ہے وہ کیا ہے؟
فقط سرکاری ہے
(یعنی صرف کتابی تعلیم کافی نہیں، جب تک کہ اخلاقی اور روحانی تربیت شامل نہ ہو)۔
اولاد اللہ کی طرف سے امانت ہے۔ اگر ہم نے آج ان کی صحبت پر نظر نہ رکھی تو کل یہی اولاد ہمارے لیے وبالِ جان بن سکتی ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم مسمم عزم (پکا ارادہ) کریں کہ اپنے بچوں کو معاشرے کا ایک باکردار اور باحیا مسلمان بنائیں گے۔
موت کا ایک دن معین ہے
نیست ہستی کا اعتبار نہیں
پھر بھی غافل ہے تو گناہوں سے
کیا تجھے رب کا خوف یاد نہیں؟


