مضامین

دارالعلوم شاہی مسجد چترال کی صدارت اور ایک باوقار انتخاب*…. تحریر: ابو سلمان

چترال کی سرزمین ہمیشہ سے علم، تقویٰ اور دینی خدمات کے حوالے سے ممتاز شخصیات کی آماجگاہ رہی ہے۔ اس خطے نے ایسے علما اور قائدین پیدا کیے جنہوں نے نہ صرف دینی اداروں کی خدمت کی بلکہ معاشرے کی فکری اور اخلاقی رہنمائی بھی کی۔ انہی باوقار شخصیات میں ایک نمایاں نام حضرت مولانا خلیق الزماں کاکاخیل صاحب کا ہے، جو شاہی مسجد چترال کے خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ اب گورنمنٹ دارالعلوم شاہی مسجد چترال کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ یہ انتخاب بلاشبہ ایک ایسا فیصلہ ہے جسے اہلِ علم و دانش نے خوش آئند اور مبارک قدم قرار دیا ہے۔
مولانا خلیق الزماں کاکاخیل صاحب کی شخصیت علم و وقار، سنجیدگی اور خدمتِ دین کے حسین امتزاج کا نام ہے۔ اگر انہیں “ *حسنِ چترال*” کا خطاب دیا جائے تو یہ عین انصاف ہوگا، کیونکہ ان کی شخصیت میں وہ وقار، متانت اور اخلاقی حسن موجود ہے جو انہیں چترال کی علمی و سماجی فضا میں ایک ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔
یہ بات بھی بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ اگر کوئی بیٹا حقیقی معنوں میں اپنے والد کا جانشین ثابت ہوا ہے تو وہ مولانا خلیق الزماں کاکاخیل صاحب ہیں۔ انہوں نے اپنے خاندان کی علمی روایت، دینی خدمات اور وقار کو جس انداز میں آگے بڑھایا ہے وہ قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید ہے۔ ان کی شخصیت میں اپنے اسلاف کی جھلک اور ان کے کردار کی خوشبو نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔
چترال کے عوام کے دلوں میں مولانا خلیق الزماں کاکاخیل صاحب کے لیے جو احترام اور محبت پائی جاتی ہے وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ چترال کے ہر دلعزیز فرد ہیں اور یہاں کے لوگ انہیں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں شائستگی، ان کے انداز میں وقار اور ان کی شخصیت میں ایک ایسی کشش ہے جو ہر ملنے والے کو متاثر کرتی ہے۔
خطیب صاحب کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ہر کام نہایت سلیقے اور حسنِ انتظام کے ساتھ انجام دینے کے ماہر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چترال میں منعقد ہونے والی علمی، دینی اور سماجی تقریبات میں ان کی شرکت کو ایک خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ کوئی تقریب، سیمینار یا کانفرنس اگر ان کی شرکت کے بغیر ہو تو اسے ادھورا محسوس کیا جاتا ہے۔
ان کی شخصیت کا ایک اور قابلِ فخر پہلو یہ ہے کہ وہ چترال کی عظیم اور قد آور علمی شخصیت حضرت قاری فیض اللہ صاحب کے معتمدِ خاص ہیں۔ اس نسبت نے ان کے وقار اور اعتماد کو مزید مستحکم کیا ہے، کیونکہ کسی بڑی شخصیت کا اعتماد حاصل کرنا خود ایک بڑی سعادت اور اعزاز ہوتا ہے۔
ایسی متوازن، باوقار اور ہمہ جہت شخصیت کا دارالعلوم شاہی مسجد چترال کا صدر مقرر ہونا یقیناً اس ادارے کے لیے نیک شگون ہے۔ مدارس کے حلقوں سے وابستہ حضرات اس انتخاب کو امید اور خوشی کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ توقع رکھتے ہیں کہ مولانا خلیق الزماں کاکاخیل صاحب کی قیادت، بصیرت اور حسنِ انتظام کے باعث یہ ادارہ مزید ترقی کی منازل طے کرے گا۔
یقیناً ان کی رہنمائی میں دارالعلوم شاہی مسجد چترال علمی و دینی خدمات کے میدان میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گا اور یہ ادارہ علمِ دین کی اشاعت، طلبہ کی تربیت اور معاشرے کی اصلاح میں مزید مؤثر کردار ادا کرے گا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولانا خلیق الزماں کاکاخیل صاحب کو صحت، استقامت اور اخلاص کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی قیادت میں دارالعلوم شاہی مسجد چترال کو مزید ترقی و کامیابی نصیب ہو۔ آمین یارب العالمین ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button