معاشرے میں حیا اور پردے کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔

اسلام ایک ایسا دین ہے جو معاشرے میں پاکیزگی، عفت اور حیا کو بنیاد قرار دیتا ہے۔ چترال جیسے روایتی معاشرے میں، جہاں کبھی حیا کی مثالیں دی جاتی تھیں، موجودہ تبدیلیوں کو کئی لوگ تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
1. پردہ اور حیا: ایمان کا حصہ
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور عورتوں دونوں کو اپنی نظریں نیچی رکھنے اور شرمگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔ سورۃ النور میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں… اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں۔”
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "حیا ایمان کا ایک بڑا حصہ ہے۔” (صحیح بخاری)۔ بازاروں میں بلا ضرورت گھومنا اور زیب و زینت کی نمائش کرنا اس بنیادی اسلامی اصول کے منافی ہے۔
2. مردوں کی ذمہ داری (قوامیت)
اسلام نے مرد کو گھر کا سربراہ اور محافظ بنایا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: "مرد عورتوں پر قوام (نگران) ہیں”۔
خاندان کی کفالت: مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر کی ضروریات پوری کرے۔ اگر مرد اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے سودا سلف اور دیگر ضروریات خود بازار سے لائیں، تو خواتین کو بلاوجہ باہر نکلنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
تربیت: ایک باپ، بھائی یا شوہر کی حیثیت سے یہ مرد کا فرض ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کو اسلامی حدود و قیود کا پابند بنائے۔
3. بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور انتظامیہ کا کردار
مستحق خواتین کو رقم کی وصولی کے لیے تذلیل اور بے پردگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حکومت کی ذمہ داری: اسلامی ریاست میں خواتین کی عزت و تکریم مقدم ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ ایسے مراکز بنائے جہاں صرف خواتین کا عملہ ہو اور باپردہ ماحول ہو۔
مردوں کا ساتھ: خواتین کو بچوں سمیت بازار میں خوار کرنے کے بجائے، گھر کے مردوں کو ان کی رہنمائی اور مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ ہجوم کا حصہ نہ بنیں۔
4. رمضان المبارک اور تقدسِ وقت
رمضان تقویٰ کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں نظروں کی حفاظت اور عبادات پر توجہ دینا مقصود ہے۔ بازاروں میں غیر ضروری رش نہ صرف خواتین کے لیے بلکہ روزے دار مردوں کے لیے بھی آزمائش کا باعث بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں "فتنوں” سے بچنے کی تاکید فرماتا ہے، اور بازار وہ جگہ ہے جسے احادیث میں "بدترین جگہ” قرار دیا گیا ہے (بنسبت مسجد کے)۔
خلاصہ اور تجاویز
ذاتی اصلاح: ہر مرد اپنے گھر کی خواتین کو پیار اور سمجھ بوجھ سے غیر ضروری باہر جانے سے روکے۔
ضروریات کی فراہمی: مرد خود خریداری کی ذمہ داری اٹھائیں تاکہ خواتین کو پردے کی خلاف ورزی نہ کرنی پڑے۔
انتظامی مطالبہ: چترال کے عمائدین اور انتظامیہ کو مل کر خواتین کے لیے مخصوص اور پردہ دار مراکز کا مطالبہ کرنا چاہیے جہاں وہ سکون سے اپنی سرکاری امداد حاصل کر سکیں۔
اللہ پاک ہم سب کو دین کی سمجھ اور حیا کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

