مضامین

داد بیداد۔۔۔۔۔۔کم خر چ با لا نشین۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

رمضا ن المبا رک اور عید مسلما نوں کے لئے اللہ پا ک کی رحمت کے دو بڑے دروازے ہیں ان دروازوں سے ہم اللہ پا ک کی بے کنا ر اور بے پنا ہ رحمتیں سمیٹ کر دنیااور آخرت کو سنوار سکتے ہیں لیکن زما نے کا چلن بڑا بے رحم ہے یہ چلتا ہے تو سب کو اپنے ساتھ خس و خا شاک اورخزاں کے خشک پتوں کی طرح بہا لے جا تا ہے چنا نچہ سال بہ سال ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی رمضا ن المبا رک کو بھی اسراف کا مہینہ بنا یا گیا ہے اور عید کو بھی بے جا اخرا جات کا دن قرار دیا گیا ہے، ہمارے استاد حضرت اللہ خان مر حوم ومفغور کہا کر تے تھے کہ عید تنخوا ہ دار طبقے کی دو مہینوں کی تنخوا ہ اڑا لیتا ہے دو مہینے بعد پھر عید آکر مزید قرضے ہم پر چڑھا کر رخصت ہو جا تی ہے ایک بار ہم نے پو چھا جن کی نو کر ی نہیں، تنخوا نہیں ما ہانہ آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ان کا کیا حال ہو گا؟ وہ کہتے تھے یہ لو گ تنخوا ہ دار طبقے کی نقل اتار کر تباہ ہو جا تے ہیں ہمارے ایک شریر ساتھی نے پو چھا آپ کس کی نقل اتار کر دو مہینوں کی تنخوا ہ سے ہا تھ دھو بیٹھتے ہیں؟ہم جا گیر داروں، سمگلروں، ٹھیکہ داروں اور بازار کے ذخیرہ اندوز سیٹھوں کی نقل اتار کر بر باد ہو جا تے ہیں، استاد جی کا یہ قول 1967ء کے زما نے کا تھا اب زما نہ قیا مت کی چال چل گیا ہے اُس وقت شہر کے بازار میں جا کر لٹنے کا دور تھا اب یار لو گ عید کی شا پنگ کے لئے سنگاپور، بنکاک، ہا نگ کانگ اور دو بئی کا چکر لگا تے ہیں، دنیا میں یہو دی اور پارسی دولت مند سمجھے جا تے ہیں ہمارے ہاں میمن اور شیخ امیر زادوں میں شمار ہو تے ہیں چاروں کا ایک ہی طریقہ ہے ان کے بزرگ نئی نسل کو نصیحت کر تے ہیں کہ جب تمہیں بازار سے کوئی چیز خرید نے کی ضرورت محسوس ہو تو مت خریدو، تین ما ہ صبر کرو، پھر ضرورت محسوس ہو تو مت خرید و مزید تین ما ہ صبر کرو، اس طرح چھ بار ضرورت محسوس ہو تو اس کو ٹال دو، چھٹی بار اس کی خریدار ی ٹا ل دو گے تو ڈیڑھ سال کا عرصہ گذر چکا ہوگا اس کے بعد تمہیں اُس چیز کی ضرورت کبھی محسوس نہیں ہو گی نصف صدی پہلے ٹیلی وژن عام نہیں ہو ا تھا بمشکل 10فیصد آبادی کے پاس ٹی وی ہو گا ان کے بچے ڈرامے دیکھتے ہونگے، نصف صدی پہلے سمارٹ فون، وائی فائی اور فور جی یا فائیو جی کا نا م و نشان نہیں تھا اب ان چیزوں کا طوفان آیا ہوا ہے صبح سویرے گلیوں میں کچرا چننے والے بچے اپنے بڑوں سے سکول اور کتاب یا قلم نہیں ما نگتے سبق پڑھا نے کا مطا لبہ نہیں کر تے، ٹیلی وژن سیٹ ما نگتے ہیں، سمارٹ فون مانگتے ہیں وائی فائی اور فور جی کا مطا لبہ کر تے ہیں تور غر، دیر اور چترال جیسے پہا ڑی علا قوں میں لو گ لندن، پیرس، کراچی اور لا ہور کے فیشن زدہ معاشرے کی چلتی پھر تی زندہ و پا ئیندہ تصویر ہر روز دیکھتے ہیں اور ڈرامہ جو کچھ سکھا تا ہے، عید پر وہ سب خرید نا چاہتے ہیں ٹیلی وژن جن کھا نوں کی تشہیر کرتا ہے رمضا ن کی ہر افطاری میں وہ سب کھا نا چاہتے ہیں اس طرح رمضا ن میں کھا نا پینا بند ہو نے کی وجہ سے گھر کا خر چہ نصف کم ہو نے کے بجا ئے تین چار گنا زیا دہ ہو جاتا ہے، عید پر فضول خر چی کا وہ طوفان آتا ہے کہ الامان و الحفیظ مسلما نوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ہر کام میں قرآن و حدیث سے رہنما ئی حا صل کر و، ہم نے اس کے بر عکس فیشن کے بازار سے رہنما ئی حا صل کر نے کا وطیرہ اپنا یا ہے جن لو گوں کا کام عامتہ النا س کو ساد گی اور کفا یت شعاری کی طرف بلانا تھا وہ اسراف اور تبذیر میں عام لو گوں سے کئی گنا آگے نکل گئے ہیں مو جو دہ مہنگا ئی کے دور میں ہر ایک کو اپنے گریبان میں جھا نک کر خودا حتسابی کی طرف آنا چائیے، اپنے طرز عمل کو درست کر کے ساد گی اور کفا یت شعاری کے ذریعے نصف صدی پہلے کے عام محا ورے ”کم خر چ بالا نشین“ پر تو جہ دینی چاہئیے، فضول خرچی میں لوگوں کی نقل اتار نے کے بجا ئے ساد گی اور کفا یت شعاری کا راستہ اختیار کر کے رمضا ن اور عید کے مبارک دنوں کو حقیقی معنوں میں رحمت اور بر کت کا ذریعہ بنانا چاہئیے یہ ہم سب کا فرض ہے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button