مضامین

دھڑکنوں کی زبان…….”فیس بکی دانشور "……… محمد جاوید حیات

فیس بک نے دنیا ہی بدل دی جب سے سمارٹ آیا ہے دنیا ایک نئے دور میں داخل ہوگئی ہے اس کو دانشور ڈیجیٹل دور کہتے ہیں .دور مشینی ہے مشینی ہوتی جارہی ہے سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس چکا چوند میں سب کچھ آسان ممکن اور دستیاب ہے .قریب زمانے میں ممکن ہے بہتر سوچنے والا دماغ بھی دستیاب ہوگا اور یہ چلتا پھرتا انسان روبوٹ بن جائے گا .سمارٹ فون پر جب سے فیس بک آیا ہے واقع ہر ایک کا چہرہ مہرہ عیان ہو گیا ہے .بندہ فیس بک پہ اپنے آپ کو الفاظ کی صورت میں تصویری حیثیت سے آواز کی صورت میں پیش کرتا ہے .سب سے بڑا فائدہ یہ ہواہے کہ بندہ اپنے آپ کا تعارف کراتا ہے اس کے دو لفظ پڑھ کر پڑھنے والا اس کی حیثیت اس کی علمیت اس کی طبیعت اس کا خاندان سب کچھ سے باخبر ہوتا ہے لازم ہے کردار عمل میں کم اور الفاظ سے زیادہ عیان ہوتا ہے .جو بندہ گالی دیتا ہے اس کے پیچھے کردار کی کوئی طاقت ہے جو اس سے گالی اگلواتی ہے .جو شرافت کے دو بول بولتا ہے یہاں بھی کوئی چھپی طاقت اس سے یہ بولواتی ہے .سوشل میڈیا کی طاقت بہت زیادہ ہے کوئی ایک لفظ پھیل جائے تو پھیلتا جاتا ہے اس کو سمیٹنا ممکن نہیں ہوتا .سوشل میڈیا سب استعمال کرتے ہیں لیکن استعمال کرنے والوں کا اپنا معیار ہے .”فیس بکی دانشور "کی اصطلاح بھی انہی کا دیا ہوا لقب ہے .ایک کو دوسرے کا تبصرہ اچھا نہیں لگا تو اس نے طنزا فیس بکی دانشور کہا .بڑے بڑے لوگ اپنا سنجیدہ پیغام ٹویٹ کرتے ہیں .جو فیس بک پہ ہیں ان کے پیغامات، تبصرے ، معلومات اور خیالات سب غیر مفید نہیں ہیں لیکن بھانت بھانت کے لوگ ہیں بھانت بھانت کی سوچیں ہیں .مجھے کسی کا تبصرہ اچھا نہیں لگا تو میں پورے فیس بک کو برا بھلا کہتا ہوں یہ کوئی معیار نہیں اچھا نہیں لگا اگنور کرو .البتہ ہر ایک کے لئے احتیاط لازم ہے .فیس بک پہ کچھ ڈالنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ فیس بک پر بڑے بڑے دماغ مصروف ہیں .میں اردو لکھ رہا ہوں اردو زبان کے کتنے ماہر اس میں مصروف ہیں میں انگریزی لکھ رہا ہوں ایسی ٹھوس غلطی نہ کروں کہ انگریزی دانوں میں میری سبکی ہو جائے عرض کیا گیا کہ فیس بک کھلا تعارف ہے میں سیاست لکھ رہا میری سیاست بچگانہ نہ ہو میں تاریخ لکھ رہا ہوں میری معلومات صفر نہ ہوں .میں کوئی خبر فیس بک پہ ڈال رہا ہوں وہ مصدقہ ہو .میرا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا سبب نہ بنے میں کوئی ویڈیو اپ لوڈ کررہا ہوں .میں ٹک ٹاکر ہوں میں جو بھی ہوں اپنے تعارف کا خیال رکھوں .اپنی ناقدری کا خیال رکھو .مجھے فیس بکی دانشوروں پر ترس اور پیار آتا ہے غصہ نہیں البتہ شکوہ ہے کہ احتیاط نہیں کرتے .مثلا کچھ خبریں ایسی جن کو فیس بک پہ لگانے سے پہلے ہزار بار سوچنا پڑتا ہے .کسی کے تبصرے پہ غصہ آیا تو اس کا جواب لکھنے سے پہلے بہت سوچنا پڑتا ہے کسی دینی ، مسلکی ، علاقائی ، ثقافتی تبصرے سے پہلے ہزار بار سوچنا پڑتا ہے لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا بغیر سوچ کے سب کچھ فیس بک پہ ڈالا جاتا ہے اس لیے یہ مسائل پیدا ہوتے ہیں ورنہ فیس بک خزانہ ہے .کسی ظلم ، نا انصافی کے خلاف فیس بک مضبوط ہتھیار ہے .غریب کی مدد ،فلاحی کام ، انسانیت کی خدمت مفید معلومات کے لیے فیس بک تریاق ہے بس فیس بکی دانشوروں کو فیس بک سوچ سمجھ کر استعمال کرنے کی ضرورت ہے .ان کو فیس بکی دانشور کا طعنہ دینے والے غلطی پر ہیں ..

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button