مضامین

قول و فعل میں مطابقت: اصلاحِ معاشرہ کا بنیادی اصول۔۔ بشیر حسین آزاد۔۔

​انسانی معاشرے کی تعمیر اور بگاڑ کا انحصار اس بات پر ہے کہ افرادِ معاشرہ کا کردار کتنا مضبوط اور ان کے قول و فعل میں کتنی ہم آہنگی ہے۔ اسلام نے جہاں دوسروں کی خیر خواہی اور نصیحت کرنے کا حکم دیا ہے، وہیں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ نصیحت کرنے والا خود اس پر کاربند ہو۔
​نصیحت سے پہلے عمل کی اہمیت (قرآن و سنت کی روشنی میں)
​اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی شدید مذمت فرمائی ہے جو دوسروں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہیں لیکن خود کو بھول جاتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
​”کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو، کیا پھر بھی تم عقل نہیں رکھتے؟” (سورۃ البقرۃ: 44)
​یہ آیتِ مبارکہ ہمارے لیے ایک واضح انتباہ ہے۔ جب کوئی شخص خود عمل کیے بغیر دوسروں کو نصیحت کرتا ہے، تو اس کا اثر دلوں پر نہیں ہوتا بلکہ اس کے برعکس معاشرے میں منافقت اور بدگمانی پیدا ہوتی ہے، جو منفی رجحانات کا سبب بنتی ہے۔
​رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ ﷺ نے جو بھی پیغام دنیا کو دیا، پہلے خود اس کا عملی نمونہ پیش کیا۔ اسی لیے آپ ﷺ کی باتوں کا اثر براہِ راست دلوں میں اترتا تھا۔ ایک داعی اور اصلاح کرنے والے کا سب سے بڑا ہتھیار اس کا کردار ہے۔ جب کردار مضبوط ہوتا ہے، تو الفاظ خود بخود اثر انگیز ہو جاتے ہیں۔
​رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں حفاظِ قرآن کی کاوشیں یقیناً لائقِ تحسین ہیں۔ مساجد میں قرآن پاک کا مکمل سماع (تراویح میں) ہمارے معاشرے کے ایمان کو تازہ کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی علموں اور عمروں میں برکت عطا فرمائے۔
​تاہم، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قرآن پاک کا نزول صرف تلاوت، سننے یا اسے خوبصورت انداز میں پیش کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا بنیادی مقصد تزکیہ نفس اور عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
​”اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کر دیا ہے، تو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا؟” (سورۃ القمر: 17)
​حفاظِ قرآن جو کہ کلامِ الٰہی کے امین ہیں، ان پر یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ نہ صرف آیات کو حسنِ صوت کے ساتھ پیش کریں بلکہ ان کے معنی و مفہوم کو سمجھیں اور اپنی عملی زندگی کو قرآن کا عملی نمونہ بنائیں۔ جب ایک حافظِ قرآن، قرآن کے احکامات (اخلاق، دیانت داری، حقوق العباد) کو اپنی زندگی میں نافذ کرے گا، تو یہ معاشرے کے لیے مشعلِ راہ بنے گا اور دنیا و آخرت میں سرخروئی کا باعث ہوگا۔
​​معاشرے میں مثبت تبدیلی تبھی ممکن ہے جب ہم "نصیحت کرنے” سے پہلے "مثال بننے” کا عمل شروع کریں۔ اگر ہر فرد اپنی اصلاح کی ذمہ داری لے لے اور قرآن کو صرف پڑھنے کے بجائے سمجھ کر اپنی زندگی کا دستور العمل بنا لے، تو یقیناً یہ معاشرہ جنت کا نمونہ بن سکتا ہے۔
​اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنے، اس کے احکامات کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے اور قول و فعل میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button