اپر و لوئر چترال میں آبپاشی کے نظام کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے مقامی زمینداروں اور کاشتکاروں کو شدید مشکلات سے دوچار

چترال(رپورٹ۔ عبد الغفار)ضلع اپر و لوئر چترال میں آبپاشی کے نظام کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے مقامی زمینداروں اور کاشتکاروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ گزشتہ تین برسوں سے حکومتی سطح پر فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث نہروں کی مرمت اور بحالی کا عمل تقریباً معطل ہو کر رہ گیا ہے، جس کے نتیجے میں بیشتر نہریں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، علاقے میں کام کرنے والا محکمہ واٹر مینجمنٹ محدود وسائل کے باوجود نہروں کی مرمت کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم فنڈز کی کمی کے باعث اس کی کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ہر سال بارشوں کے موسم میں آنے والے سیلابی ریلے اور پہاڑی نالوں میں طغیانی نہروں کو شدید نقصان پہنچاتی ہے، جس سے زرعی زمینیں بنجر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
مقامی کمیونٹی اپنی مدد آپ کے تحت نہروں کی عارضی بحالی کا کام انجام دیتی ہے، لیکن وسائل کی کمی اور تکنیکی معاونت نہ ہونے کے باعث یہ اقدامات دیرپا ثابت نہیں ہو پاتے۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں زراعت کا شعبہ شدید متاثر ہوگا اور خوراک کی قلت کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
علاقے کے عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر فنڈز جاری کیے جائیں اور نہروں کی مستقل بنیادوں پر مرمت و بحالی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقامی سطح پر کام کرنے والی تنظیم آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (اے کے آر ایس پی) نے ماضی میں نہری نظام کی بحالی اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور اگر یہ ادارہ فعال نہ ہوتا تو چترال کا زرعی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہوتا۔
ماہرین کے مطابق، چترال جیسے پہاڑی علاقوں میں آبپاشی کا نظام زراعت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی بہتری کے لیے مربوط حکمت عملی اور مسلسل سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ عوامی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو علاقے کی معیشت اور غذائی تحفظ کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں



