وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیرِ صدارت رائٹ ٹو سروسز کمیشن کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں عوام کو خدمات کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلے

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیرِ صدارت رائٹ ٹو سروسز کمیشن کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں عوام کو خدمات کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے رائٹ ٹو سروسز اور رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشنز کو مزید مو¿ثر اور فعال بنانے کی ہدایت کی اورکہا ہے کہ یہ کمیشنز عمران خان کے وژن کے مطابق عوام کی اطلاعات و خدمات تک آسان رسائی یقینی بنانے اور بہتر طرز حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ شہریوں کو خدمات کی بروقت اور شفاف انداز میں فراہمی حکومت کی گڈ گورننس حکمت عملی کا مرکزومحور ہے اور آر ٹی ایس کمشن اس سلسلے میں کلیدی کردارادا کررہا ہے۔اجلاس میں رائٹ ٹو سروسز کمیشن کے متعلقہ محکموں کے ساتھ ادارہ جاتی انضمام کو ناگزیر قرار دیا گیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ اس مقصد کے لیے کمیشن کی ڈیجیٹائزیشن کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ خدمات کی فراہمی کے نظام کو مزید مربوط اور موثر بنایا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر کمیشن کے تحت نوٹیفائیڈ سروسز پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ شہریوں کو کمیشن کے تحت دستیاب خدمات سے آگاہ رکھنے کے لیے بھرپور آگاہی ضروری ہے تاکہ عوام ان خدمات سے بہتر انداز میں استفادہ کر سکیں۔ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ خدمات کی فراہمی میں تاخیر کسی صورت قابلِ برداشت نہیں، خدمات کی فراہمی کے لیے جو ٹائم لائنز مقرر کی گئی ہیں ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے تاکید کی مقررہ وقت سے تاخیر کو سنگین جرم تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ محکموں کے انتظامی مسائل کی وجہ سے عوام کو خدمات کی فراہمی میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ اجلاس میں کمیشن کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مجوزہ لائحہ عمل سے اتفاق کیا گیا اور کمشنرز کی تعیناتی کی ہدایت بھی کی گئی۔ متعلقہ حکام کی طرف سے اجلاس کو کمیشن کے پس منظر، اس کے قیام کے مقاصد، انتظامی ڈھانچے، فنکشنز، کارکردگی اور دیگر اہم پہلوو¿ں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت کمیشن کے تحت چودہ مختلف محکموں کی 80 خدمات نوٹیفائیڈ ہیں جبکہ مزید پندرہ محکموں کی 89 خدمات شامل کیے جانے کا عمل جاری ہے۔ اس موقع پر آگاہ کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ کی خصوصی ہدایت پر عوامی رائے جاننے کے لیے پبلک فیڈبیک فیچر بھی متعارف کرا دیا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ کمیشن کو دستک پلیٹ فارم سے منسلک کیا جا چکا ہے اور اس کی موبائل ایپلیکیشن بھی لانچ کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ای میل، فون کال اور واٹس ایپ کے ذریعے بھی شکایات درج کرانے کی سہولت موجود ہے۔ اجلاس کو خدمات کی فراہمی میں بہتری کے حوالے سے گزشتہ دو سالوں کا موازنہ بھی پیش کیا گیا اور بتایا گیا کہ اصلاحاتی اقدامات کی بدولت خدمات فراہمی اور شکایات ازالے کے عمل میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ سال 2025 کے دوران 742 شکایات کا ازالہ کیا گیا جو گزشتہ سال یعنی 2024 کے مقابلے میں ڈیڑھ سو فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح مختلف پلیٹ فارمز پر پبلک آوٹ ریچ میں نمایاں بہتری آئی ہے جو 69100 سے بڑھ کر 407854 تک پہنچ گئی ہے۔ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ سروس ڈیلیوری کے نظام کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے اور خدمات فراہمی میں تاخیر پر آٹھ مختلف محکموں کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی گئی اور زیر التوا خدمات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے



