تازہ ترین

کالاش میرج بل: خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیش، مزید غور کے لیے کمیٹی کے سپرد

پشاور/خیبرپختونخوا حکومت نے کالاش کمیونٹی کے شادی اور خاندانی نظام کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے “کالاش میرج بل” صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔ اسپیکر نے بل کو مزید غور و خوض اور تفصیلی جانچ پڑتال کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا ہے۔
یہ مجوزہ قانون کالاش کمیونٹی کے منفرد مذہبی و ثقافتی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے شادیوں کی رجسٹریشن، طلاق کے ضابطے اور خاندانی امور کے لیے ایک باضابطہ قانونی فریم ورک تشکیل دینے کی کوشش ہے۔ بل کا مقصد ان دیرینہ قانونی خلا کو پر کرنا ہے جن کے باعث کمیونٹی کو اپنے عائلی معاملات میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
بل کے تحت شادیوں کی رجسٹریشن اور خاندانی تنازعات کے حل کے لیے واضح نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے بالخصوص خواتین کو قانونی تحفظ، وراثت کے حقوق اور ازدواجی حیثیت کے تعین میں سہولت میسر آئے گی، جبکہ روایتی اقدار بھی محفوظ رہیں گی۔
کالاش کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے اور وزیراعلیٰ کے فوکل پرسن برائے اقلیتی امور وزیرزادہ نے بل کو ایک تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلی بار ہماری شادیوں اور خاندانی نظام کو باضابطہ طور پر قانونی ڈھانچے میں تسلیم کیا جا رہا ہے، اور اس سے ہماری صدیوں پرانی روایات متاثر نہیں ہوں گی بلکہ انہیں تحفظ ملے گا۔
بل کی تیاری کے بعد بعض حلقوں میں یہ تاثر سامنے آیا تھا کہ اس میں کزن میرج پر پابندی عائد کی گئی ہے، تاہم ڈرافٹنگ ٹیم کے ارکان نے اس کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں۔
بلو وہینز کے پروگرام مینیجر اور بل کے اہم مسودہ کار قمر نسیم کے مطابق یہ قانون وسیع مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے، جس میں کالاش مذہبی رہنما، مقامی نمائندے، قاضی اور مرد و خواتین شامل تھے۔ ان کے مطابق یہ بل دراصل موجودہ روایات کی قانونی توثیق ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ کالاش روایات کے مطابق پدری نسب کی سات پشتوں کے اندر شادی کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، اور یہ بل کسی نئی پابندی کے بجائے اسی روایت کو قانونی شکل دیتا ہے۔
یہ بل اب قائمہ کمیٹی میں تفصیلی غور کے بعد مزید منظوری کے مراحل سے گزرے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button