چترال کے 104 مختلف دیہاتوں میں ٹیلینور کمپنی کے لیے خدمات انجام دینے والے سیکیورٹی گارڈز نے اپنی قلیل تنخواہ اور مبینہ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان سے فوری مداخلت کی اپیل

چترال (نمائندہ )چترال کے 104 مختلف دیہاتوں میں ٹیلینور کمپنی کے لیے خدمات انجام دینے والے سیکیورٹی گارڈز نے اپنی قلیل تنخواہ اور مبینہ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے جبکہ ٹیلی نار کمپنی کو انہوں نے تنخواہ میں اضافے کے لئے 15دنوں کا نوٹس دے دیا ہے۔
چترال پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق یونین ناظم شیر اعظم خان، امیر الدین، قاری نذیر اللہ، رحیم خان، شیر محمد، نادر خان، فضل غنی، آغا خان، رحیم بیگ، ارشاد احمد، جلیل خان، سید نصیر الدین شاہ اور دیگر مقررین نے اپنے مطالبات پیش کیے۔انہوں نے شکوہ کیاکہ کمپنی انہیں ماہانہ صرف 7000 روپے تنخواہ دے رہی ہے، جو کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں مذاق کے مترادف ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے مزدور کی کم از کم اجرت 40,000 روپے مقرر ہے، لیکن انہیں اس قانونی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے جبکہ وہ گزشتہ 15 سالوں سے فرائض انجام دے رہے ہیں، لیکن اس طویل مدت کے دوران ان کی تنخواہ میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں کیا گیا۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ نہ صرف بطور سیکیورٹی گارڈ کام کرتے ہیں بلکہ کمپنی کو چلانے کے لیے ہر قسم کی اضافی ڈیوٹی بھی سرانجام دیتے ہیں۔
مقررین نے وزیر اعظم پاکستان اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ٹیلینور کمپنی کے ان غریب ملازمین کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا نوٹس لیا جائے اور ان کی تنخواہیں سرکاری طور پر مقرر کردہ کم از کم اجرت کے مطابق کی جائیں تاکہ وہ اپنے خاندانوں کی کفالت کر سکیں






