پائلٹ بنیادوں پر صوبے کے 46 سرکاری اسکولوں کو آن لائن نظام تعلیم پر منتقل کیا جا چکا ہےوزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں جدید تعلیمی اصلاحات، ورچوئل اسکولز کے قیام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی تدریسی نظام کے نفاذ سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران حکومت کی جانب سے ایک انقلابی اقدام کے طور پر پبلک سیکٹر میں پاکستان کے پہلے ورچوئل اسکول کے قیام اور اے آئی ٹیچر کے اجراء پر بریفنگ دی گئی، جبکہ وزیر اعلیٰ نے اے آئی ایجوکیشن اتھارٹی کے قیام کی اصولی منظوری دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہوم ورک مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی۔وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے ہدایت کی کہ ورچوئل اسکولز کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے والے بیرون ملک مقیم اور آوٹ آف اسکول طلبہ کو بھی ریگولر طلبہ کا درجہ دیا جائے تاکہ تعلیم کے مواقع کو زیادہ سے زیادہ وسعت دی جا سکے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ صوبے میں ورچوئل اسکولز اور اے آئی ٹیچر کا آغاز وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ اقدام بالخصوص دور دراز علاقوں کے طلبہ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی طلبہ کو انفرادی سطح پر سیکھنے کے نئے مواقع فراہم کرے گی جبکہ اے آئی بیسڈ نظام اساتذہ کا بوجھ کم کرکے تدریسی معیار کو مزید بہتر بنائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اور ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاونڈیشن کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اقدامات کو قابلِ ستائش قرار دیا۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پائلٹ بنیادوں پر صوبے کے 46 سرکاری اسکولوں کو آن لائن نظام تعلیم پر منتقل کیا جا چکا ہے جن میں بندوبستی اضلاع کے 33 اور ضم اضلاع کے 13 اسکول شامل ہیں۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ ورچوئل اسکولز کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے جون میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت اسکیم کا باقاعدہ اجراءکیا جائے گا، جبکہ اگلے مرحلے میں مزید 175 اسکولوں کو ورچوئل اسکولز میں تبدیل کیا جائے گا۔بریفنگ کے مطابق منصوبے کے تحت ایک مرکزی ڈیجیٹل تدریسی اسٹوڈیو قائم کیا گیا ہے جہاں سے لائیو انٹرایکٹو کلاسز اور لیکچرز کی ریکارڈنگ کی سہولت دستیاب ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اے آئی ٹیچر کے ذریعے انگریزی، ریاضی، طبیعیات، کیمیا اور حیاتیات جیسے مضامین پڑھائے جا رہے ہیں، جبکہ یہ نظام اردو، انگریزی اور پشتو زبانوں میں چوبیس گھنٹے دستیاب ہوگا۔مزید بتایا گیا کہ اس منصوبے کی مجموعی منظور شدہ لاگت 153.80 ملین روپے ہے، جبکہ ٹیلی تعلیم مرکز کے قیام پر 44.850 ملین روپے خرچ کیے جائیں گے۔ اجلاس کے اختتام پر وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے پر عملدرآمد کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے تاکہ صوبے کے طلبہ کو جدید اور معیاری تعلیمی سہولیات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ عامر سلطان ترین، سیکرٹری ابتدائی وثانوی تعلیم محمد خالد اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی




