تازہ ترین

خیبرپختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ اریگیشن انفراسٹرکچر کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے نئے ترقیاتی پروگرام میں باقاعدہ اسکیم شامل کرنے کی تجویز سے اتفاق

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت سالانہ ترقیاتی پروگرام برائے مالی سال2026-27کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ آبنوشی، آبپاشی اور مواصلات و تعمیرات کے تحت نئے سال کے ترقیاتی پروگرام کے لیے مجوزہ منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے صوبہ بھر میں موجودہ واٹر سپلائی اینڈ سینیٹیشن اسکیموں کی بحالی کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ واٹر سپلائی انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر فعال بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام اضلاع کو شامل کیا جائے اور بجٹ سے قبل تمام متعلقہ منصوبوں کے پی سی ون کی تیاری یقینی بنائی جائے۔ اجلاس میں سیلاب سے متاثرہ اریگیشن انفراسٹرکچر کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے نئے ترقیاتی پروگرام میں باقاعدہ اسکیم شامل کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا گیا جبکہ خیبرپختونخوا فلڈ ریزیلینس پروگرام کا تفصیلی خاکہ پیش کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے صنم ڈیم، چشمہ اکوڑہ خیل ڈیم اور ساروزئی ڈیم پر باقی ماندہ کام جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعدد نئے ڈیمز کی تعمیر کے لیے مجوزہ اسکیموں سے بھی اصولی اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیمز کی تعمیر سیلاب سے بچاو¿ اور آبپاشی دونوں مقاصد کے لیے یکساں اہمیت رکھتی ہے اور جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل ناگزیر ہے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ چشمہ رائٹ بینک کینال کے موجودہ انفراسٹرکچر کی بحالی و مرمت کے لیے نئے ترقیاتی پروگرام میں اسکیم شامل کی جائے گی جبکہ چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال پروجیکٹ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وفاقی حکومت کو ایک جامع مراسلہ بھیجا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سی آر بی سی منصوبہ لاکھوں ایکڑ زمین کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس کے لیے نئے پی ایس ڈی پی میں وفاقی حکومت کی جانب سے مناسب فنڈز مختص کیے جانے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے تمام ریجنز میں اریگیشن کے موجودہ انفراسٹرکچر کو ترجیحی بنیادوں پر فعال بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔ اسی طرح محکمہ مواصلات و تعمیرات کو سیلاب سے متاثرہ روڈ نیٹ ورک کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے باقاعدہ اسکیم تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں باجوڑ کو سوات موٹروے اور دیر موٹروے سے منسلک کرنے کے لیے نئے ترقیاتی پروگرام میں اسکیمیں شامل کرنے کی ہدایت دی گئی جبکہ ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں سیاحتی مقامات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے سڑکوں کی اسکیمیں ہزارہ پیکج میں شامل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ ضم اضلاع میں فلڈ پروٹیکشن ورکس، اریگیشن چینلز، چک ڈیمز اور واٹر اسٹوریج ریزروائرز کی تعمیر کے منصوبوں سے اصولی اتفاق کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ ضم اضلاع میں فلڈ پروٹیکشن ورکس نہایت ضروری ہیں اور ان منصوبوں کو نئے ترقیاتی پروگرام میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ وہ تمام منصوبے جن سے ہمارے بچوں کا مستقبل وابستہ ہے انہیں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نئے اے ڈی پی میں ہر ریجن کے لیے ایک نمایاں میگا پراجیکٹ بطور بنچ مارک شامل کرنے کے لیے قابل عمل تجاویز پیش کی جائیں۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور مجوزہ منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ِ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button