مضامین

منشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟ بشیر حسین آزاد۔

لوئر چترال میں حالیہ دنوں منشیات کے خاتمے کے حوالے سے ہونے والے اجلاسوں اور اقدامات کو عوامی حلقوں میں مجموعی طور پر سراہا جا رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس، سول سوسائٹی اور مختلف مکاتبِ فکر کی جانب سے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا بلاشبہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ خاص طور پر منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی، سپلائی لائن کی نگرانی اور تھری ایم پی او (3-MPO) جیسے اقدامات کی تجویز اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مسئلے کی سنگینی کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات اس ناسور کے مستقل خاتمے کے لیے کافی ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں بھی اس نوعیت کے کئی اقدامات کیے گئے، مگر خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ تھری ایم پی او کے تحت منشیات فروشوں کو وقتی طور پر جیل بھیج دینا یقیناً ایک دباؤ تو پیدا کرتا ہے، لیکن یہ دباؤ زیادہ دیر برقرار نہیں رہتا۔ تین ماہ قید کاٹنے کے بعد یہی عناصر دوبارہ اسی غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہو جاتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلے کی جڑیں کہیں زیادہ گہری ہیں۔
اصل چیلنج قانون کے نفاذ اور عدالتی نظام میں موجود کمزوریوں سے جڑا ہوا ہے۔ جب تک عدالتوں میں منشیات فروشوں کے ساتھ نرمی برتی جاتی رہے گی اور وہ آسانی سے ضمانت حاصل کرتے رہیں گے، اس وقت تک کسی بھی انتظامی اقدام کے دیرپا نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ اس تناظر میں وکلاء برادری کا کردار بھی انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ اگر وکلاء منشیات فروشوں کے دفاع اور ضمانتوں میں سہولت فراہم کرتے رہیں گے تو یہ جنگ یکطرفہ ہو کر رہ جائے گی۔
یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ منشیات کا مسئلہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ جس طرح علماء، اساتذہ، والدین اور سماجی رہنما اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکتے ہیں، اسی طرح قانونی برادری کو بھی اس قومی مسئلے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
مزید برآں، محض سزاؤں پر انحصار کرنے کے بجائے ایک جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، جس میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی، نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں کا فروغ، تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا شامل ہوں۔ جب تک نوجوانوں کو صحت مند متبادل نہیں دیے جائیں گے، وہ آسانی سے منفی سرگرمیوں کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔
چترال جیسے پُرامن اور باہمی ہم آہنگی کے حامل خطے میں منشیات کا پھیلاؤ ایک تشویشناک رجحان ہے، جس کا بروقت اور مؤثر تدارک ناگزیر ہے۔ حالیہ اقدامات امید کی ایک کرن ضرور ہیں، مگر ان کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ کیا ہم وقتی اقدامات سے آگے بڑھ کر ایک مستقل اور مربوط حکمتِ عملی اختیار کر پاتے ہیں یا نہیں۔
اگر ریاستی ادارے، عدلیہ، وکلاء اور معاشرہ واقعی اس ناسور کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں تو پھر محض بیانات اور وقتی کارروائیوں سے آگے بڑھ کر عملی اور دیرپا اقدامات کرنا ہوں گے—ورنہ یہ جنگ جیتنا ممکن نہیں ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button