23اپریل/ کتابوں کا عالمی دن — علم، شعور اور تہذیب کا جشن۔۔۔۔۔۔تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر

دنیا بھر میں ہر سال 23 اپریل کو کتابوں کا عالمی دن نہایت جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد کتابوں کے مطالعے کو فروغ دینا، مصنفین اور ادیبوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور نئی نسل میں علم و آگاہی کا شعور بیدار کرنا ہے۔یہ دن دراصل ادب اور علم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا عالمی موقع ہے۔ کتابیں انسانی تاریخ، ثقافت اور تہذیب کی محافظ ہوتی ہیں۔ یہ نہ صرف انسان کو ماضی سے جوڑتی ہیں بلکہ حال کو سمجھنے اور مستقبل کی راہیں متعین کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق جدید دور میں جہاں ڈیجیٹل میڈیا نے معلومات تک رسائی کو آسان بنایا ہے، وہیں کتابوں کے مطالعے کا رجحان کسی حد تک کم ہوا ہے، جو کہ ایک تشویشناک امر ہے۔ اس لیے کتابوں کے عالمی دن کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے تاکہ لوگوں، خصوصاً نوجوانوں کو دوبارہ مطالعے کی طرف راغب کیا جا سکے۔اس دن کے موقع پر دنیا کے مختلف ممالک میں سیمینارز، ادبی تقریبات، کتاب میلے اور مطالعاتی نشستوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو کتابوں کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے خصوصی پروگرامز ترتیب دیے جاتے ہیں، جبکہ لائبریریوں میں خصوصی رعایتیں اور سرگرمیاں بھی منعقد ہوتی ہیں۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ کتاب انسان کی بہترین دوست ہے، جو نہ صرف علم میں اضافہ کرتی ہے بلکہ شخصیت سازی، تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کو بھی پروان چڑھاتی ہے۔ ایک اچھی کتاب انسان کی زندگی کا رخ بدل سکتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے روزمرہ معمولات میں مطالعے کو شامل کریں اور نئی نسل کو بھی کتابوں سے دوستی کرنے کی ترغیب دیں۔ کیونکہ ایک باشعور اور تعلیم یافتہ معاشرہ ہی ترقی کی ضمانت ہوتا ہے۔23 اپریل کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ کتابوں سے رشتہ مضبوط بنائیں، علم کو فروغ دیں اور ایک بہتر، مہذب اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں۔


