مضامین

میرٹ بمقابلہ مفاد: حکمرانی کے دو مختلف چہروں کی کہانی”۔۔تحریر۔ عبدالغفار

مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی حالیہ ویڈیوز کے تناظر میں ایک اہم بحث نے جنم لیا ہے، جسے عوامی سطح پر خاصی توجہ حاصل ہوئی ہے۔ میرے خیال میں ان ویڈیوز کو انٹرنیٹ کے ذریعے کم از کم پچاس فیصد لوگوں نے ضرور دیکھا یا سنا ہوگا۔ ان مشاہدات سے میں نے دو بنیادی نتائج اخذ کیے ہیں۔

پہلا یہ کہ جس حکومت کو مخالفین کی جانب سے اکثر "چور” قرار دیا جاتا ہے، وہی حکومت جب عوامی ریلیف فراہم کرتی ہے تو میرٹ کو ترجیح دیتی ہے۔ سرکاری ذرائع سے حاصل شدہ میرٹ لسٹ کے مطابق عوام کو سہولیات دی جاتی ہیں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے کیوں نہ ہو۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کم از کم انتظامی سطح پر انصاف اور شفافیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مزید یہ کہ حکومت میں ہونے کے باوجود اس جماعت کے کارکن سرکاری دفاتر میں اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے کم ہی نظر آتے ہیں۔ نہ وہ کسی ترقیاتی منصوبے سے کمیشن لینے کے لیے دباؤ ڈالتے دکھائی دیتے ہیں، نہ ہی تبادلوں یا بھرتیوں کے لیے ذاتی مفادات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ حتیٰ کہ ریلیف کے حصول کے لیے بھی پارٹی وابستگی یا شناختی کارڈ کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔

دوسری جانب ایک اور سیاسی جماعت کا طرزِ عمل اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔ اس جماعت کے افراد اکثر سرکاری دفاتر کے چکر لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں، جہاں نوکریاں دلوانے، تبادلے کروانے اور دیگر سہولیات کے لیے لوگوں سے معاوضہ لینا ایک معمول بن چکا ہے۔ یہ رجحان صرف ضلعی سطح تک محدود نہیں بلکہ صوبائی سطح سے لے کر نچلی سطح تک پھیلا ہوا ہے۔ مختلف عہدوں پر تعیناتی کے لیے "مٹھا گرم” کرنے کی روایت نے ایک باقاعدہ نظام کی شکل اختیار کر لی ہے۔

اس کے نتیجے میں وہ افسران جو اس طریقے سے تعینات ہوتے ہیں، اپنی دی ہوئی رقم واپس نکالنے کے لیے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہتے ہیں۔ بدقسمتی سے جن افراد پر ان کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری ہوتی ہے، وہ بھی پہلے ہی اپنا حصہ وصول کر چکے ہوتے ہیں، جس سے احتساب کا نظام مزید کمزور ہو جاتا ہے۔

ترقیاتی منصوبوں کی صورت حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ ایک ٹھیکیدار کے مطابق، کسی بھی منصوبے کی کل لاگت کا تقریباً پچپن فیصد مختلف سطحوں پر کمیشن کی نذر ہو جاتا ہے، جبکہ باقی پینتالیس فیصد میں اصل کام مکمل کیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں معیار اور شفافیت کا متاثر ہونا فطری امر ہے۔

مختصراً، دونوں طرزِ حکمرانی کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ ایک طرف میرٹ اور نسبتاً شفاف نظام کی جھلک دکھائی دیتی ہے، جبکہ دوسری طرف بدعنوانی، اقربا پروری اور ذاتی مفادات کا غلبہ نظر آتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی رائے قائم کریں اور ایسے نظام کی حمایت کریں جو حقیقی معنوں میں عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنائے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button