محکمہ زراعت نے بروقت اطلاع دینے کے باوجود کوئی کاروائی نہ کرکے غریب کسانوں کو نقصان میں مبتلاکردیامحمد سید خان لال

چترال (نمائندہ ) سابق ڈسٹرکٹ پولیس افیسر اور تحصیل ناظم مستوج اور جے یو آئی کے سینئر رہنما محمد سید خان لال نے کہا ہے کہ اپنی زرخیزی کے لئے مشہور اپر چترال کے گاؤں رائین میں ناشپاتی کی مقامی قسم شوغوری میں کیڑے لگنے سے مکمل طور اس سال کا پیدوار مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے جبکہ گزشتہ کئی سالوں سے اس علاقے میں زمیندارنے مجموعی طور پر 9کروڑ روپے سے ذیادہ رقم اس پھل کو فروخت کرکے کما تے تھے اور اس سال اس پھل سے ایک پیسہ بھی اس گاؤں میں نہیں آئے گا۔ایک پریس ریلیز میں انہوں نے کہا ہے کہ اپر چترال کا یہ علاقہ زمانہ قدیم سے شوغوری نام کی مقامی ناشپاتی کے لئے مشہور رہا ہے اور حالیہ برسوں میں اس بنا پر اس پھل کے باغات لگوائے اور گندم اور دوسرے فصلوں کی تعداد میں کمی لاکر اس سے خوب کمائی کررہے تھے لیکن اس سال اس ناشپاتی کے درختوں پر پھول لگنے کے بعد ایک تباہ کن مرض نے اس پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں سوفیصد پھلوں کے اندر کیڑے پڑ گئے ہیں جبکہ پتوں کی رنگت بھی بدل گئی ہے۔ محمد سید خان لال نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہارکیاکہ بار بار محکمہ زراعت اپر چترال کی نوٹس میں لانے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں ہوئی اور محکمہ زراعت کے افسران مجرمانہ خواب غفلت میں پڑے رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ زراعت کی بے حسی اور غیر ذمہ دارانہ حرکت اور روئیے کی وجہ سے رائین گاؤں کے زمینداروں کا 9 کروڑ روپے سے ذیادہ کا نقصان ہوا ہے جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ، وزیر زراعت اور چیف سیکرٹری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس صورت حال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے گاؤں رائین کے زمینداروں کی نقصانات کا فوری طور پر سروے کرنے کے بعد انہیں نقصان کے تناسب سے معاوضہ ادا کیا جائے کیونکہ محکمہ زراعت نے بروقت اطلاع دینے کے باوجود کوئی کاروائی نہ کرکے غریب کسانوں کو نقصان میں مبتلاکردیا



