مضامین

چترال موسمیاتی تبدیلی کے رحم وکرم پر۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔۔محمد اقبال شاکر

موسمیاتی تبدیلی کے چترال پر گہرے اور تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں چترال موسمیاتی تبدیلوں سے متاثر ہونے والے ضلعوں میں سر فہرست ہے چترال میں غیر متوقع بارشیں،ژالہ باری اور گرمی کی لہروں کی وجہ سے اس ضلع کی پیداوار میں کمی واقع ہوٸی ہے اس سے لوکل سطح پر عذاٸی قلت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے چترال میں موجود گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے ابتداٸی طور پر سیلاب اور پانی کی شدید قلت کا خطرہ بن جاتا ہے اس کے علاوہ بارشوں میں کمی اور زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے گرنے سے خشک سالی کے اثرات نظر آرہے ہیں حالیہ دنوں غیر معمولی بارشوں اور ژالہ باری کی وجہ سے پوری چترال میں سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی ہے جس کی جس کی وجہ سے فصلوں اور مکانات کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

چترال شندور روڈ گزشتہ کٸی سال سے زیر تعمیر ہےجس میں کام کی رفتاری سست اور ناقص ہونے کی وجہ فضاٸی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کا بڑا سبب ہے اور اس سے انسانی صحت پر بھی بُرا اثر پڑا ہے چترال میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بہت تیزی سے عیاں ہورہے ہیں جس کی وجہ سے گلیشیر پھٹنے کا سلسلہ گزشتہ سالوں سے تیز ہوگیا ہے درجہ حرات بڑھنے سے دریاۓ چترال کا بہاو خطرناک حدتک بڑھ جاتا ہے ۔

چترال میں سردیوں میں برف باری میں کمی اور خشک سالی کے طویل دورانیے بھی یہاں کے موسمیاتی تبدیلی میں اہم محرک ہیں جس سے مقامی زراعت اور پانی کے قدرتی ذرائع بری طرح متاثر ہورہے ہیں جو دریاٸی طغیانی کا باعث بن جاتی ہیں ۔

دریاۓ چترال میں پانی کا بہاو بڑھنے سے اپر چترال بروغل، مستوج، سنوغر،ریشن،شوگرام

گرین لشٹ لوٸیر چترال میں

برنس،گولین،کوعذی،بروز،ایون

دروش،کلکٹہک،پٹٸے،عشریت کے مقامات پر دریا کی کٹاو کا عمل مکینوں کیلے ایک عذاب کی صورت اختیار کر گیا ہے جس سے سینکڑوں گھر متاثر اور کٸی کنال زمینات دریا برد ہو چکی ہیں۔درجن کے قریب لوگوں کی زندگیاں رواں ہفتوں میں دریاۓ چترال کی نظر ہو چکی ہیں چترال کے عوام اب موسمیاتی تبدیلی کے نقصان رساں تبدلیوں اگے بس ہوچکے ہیں ۔

ریاست کی تھوڑی کوشش سے چترال کی زرخیز وادی دریاٸی کٹاو سے بچ سکتی ہے کٹاو والی جہگوں پر پشتے اور دیوار بناکر دریا کا رخ موڑ کر یہاں کی ابادی و آراضی کو بچایا جاسکتا ہے مختلف رفاہی ادارے بھی اس میں مدد کر سکتے ہیں ۔حکومتی سطح پر پہلے سے اس کے لیےمظبوط منصوبہ بندی کی جاۓ تو اسطرح کے تباہی سے عوام کو بچایا جا سکتا ہے۔عوام کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ دریاۓ کے کنارے رہاٸیشی مکانات تعمیر نہ کریں ندی نالوں کو صاف رکھیں اس میں گندگی نہ ڈالیں خود رو جھاڑی بوٹیوں کو صاف کرنے بارش وعیرہ کے پانی کیلے کھلی جگہ چھوڑ دیں تاکہ پانی آسانی کے ساتھ گزر سکے۔

موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے گزشتہ چند سالوں سے چترال کی حسین سرزمین نہ صرف سڑکوں،پُلوں،آبنوشی کے نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو متاثر کر رہی بےوہاں موسم میں غیر متوقع اتار چڑھاو نے یہاں کے فصلوں،باغات کی پیداوار میں نمایاں کمی کردی ہے حتی کہ جنگلی حیات بھی اس علاقے میں ناپید ہو رہے ہیں اور معاشی مشکلات جیسے بڑے مساٸل پیدا ہو چکے ہیں اس لٸے یہ ضلعے حکومتی توجہ کے زیادہ مستحق ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button