لوئر چترال سے نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی اور چترال کے روایتی حکمران (مہترِ چترال) فاتح الملک علی ناصر کی اسلام آباد سے گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت

چترال (نمائندہ) ایوبیہ یونین چترال کے رہنماؤں نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لوئر چترال سے نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی اور چترال کے روایتی حکمران (مہترِ چترال) فاتح الملک علی ناصر کی اسلام آباد سے گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور حکومت سے ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پریس کانفرنس سے ایوبیہ یونین کے رہنماؤں شمشیر دستگیر، غفار لال، غلام نبی، انیس الدین، شہزادہ امیر حسنات الدین، افضل قباد، مولانا سمیع الحق، دین محمد ندیم، مقصود عالمگیر، شیدا دستگیر، عنایت اللہ اسیر اور دیگر نے افسوس کا اظہار کیا کہ فتح الملک علی ناصر کو ان کی اسلام آباد رہائش گاہ سے چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے اور قانون کو پسِ پشت ڈال کر گرفتار کیا گیا جن کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے عمران خان کا ساتھ دیا، جن کے نام پر چترال کے عوام نے انہیں بھاری اکثریت سے ووٹ دے کر صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب کیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ چترال کے شاہی خاندان نے نہ صرف تحریکِ پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا بلکہ قیامِ پاکستان کے وقت غیر منقسم ہندوستان کی تمام ریاستوں میں چترال وہ پہلی ریاست تھی جس نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا۔ مزید برآں، شاہی خاندان کے چشم و چراغ شہزادہ مطاع الملک اور شہزادہ برہان الدین نے سکردو میں ڈوگرا فوج کے خلاف جنگ لڑ کر اس خطے کو آزادی دلائی تھی۔
ایوبیہ یونین کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ فتح الملک علی ناصر نہ صرف ایک منتخب عوامی نمائندے ہیں بلکہ وہ چترال کے روایتی سربراہ اور شاہی خاندان کی علامت ہیں، جن کا احترام چترال کا ہر شہری سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر کرتا ہے۔ ایسے معزز شخص کو 3 ایم پی او (3 MPO) کے تحت جیل بھیجنا چترال کے عوام کی توہین ہے۔
ایوبیہ یونین کے عہدیداروں نے انکشاف کیا کہ زیرِ حراست رہنما دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے حکومت کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر دورانِ حراست ان کی صحت یا زندگی کو کوئی بھی نقصان پہنچا، تو ایوبیہ یونین اور چترال کے عوام اسے کبھی معاف نہیں کریں گے۔
ایوبیہ یونین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فتح الملک علی ناصر کے خلاف 3 ایم پی او کا آرڈر فوری طور پر واپس لے کر انہیں رہا کیا جائے، اور ان کی غیر قانونی گرفتاری کے واقعے کی اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے۔ انہوں نے حکمرانوں کو متنبہ کیا کہ وہ چترال کے عوام کی پرامن طبیعت اور اپنے شاہی خاندان کے ساتھ ان کی گہری وابستگی کا فائدہ نہ اٹھائیں اور معاملے کو مزید سنگین ہونے سے پہلے حل کریں۔
اس موقع پر شجا ع الرحمن،بختیار، مسرت بیگ مسرت، اویس احمد بیگ اور ایوبیہ یونین کے دیگر رہنما کثیر تعداد میں موجود تھے۔ اس لیے قبل انہوں نے شاہی قلعہ سے جلوس نکالی جو پریس کلب میں احتتام پذیر ہوئی۔




