میرے عظیم استاد ……..کاوشاتِ اقبال سے ایک ورق

علم مومن کے سر کا تاج، بدن کا لباس اور روح کی پرورش کا ذریعہ ہے۔ حصولِ علم کا بالواسطہ تعلق صرف اور صرف استاد سے ہے۔ انسان معاشرتی حیوان ہے۔ اکٹھے رہنا ان کی زندگی کا حصہ ہے اور معاشرے کو خوب سے خوب تر بنانا اس کی ضرورت ہے۔ ایک مثالی معاشرے کے قیام، ضابطۂ اخلاق اور ضابطۂ اخلاق کے لیے علم اور حصولِ علم کے لیے استاد کی ضرورت ہے۔ ایک مہذب معاشرے میں استاد کو جو احترام و اکرام ملتا ہے، وہ کسی فرد کے حصے میں نہیں آتا۔ استاد ایک مینارہ کی مانند ہے جس کے وجود سے کائنات کا گوشہ گوشہ منور ہو جاتا ہے۔ استاد ایک خوشبو ہے جس کی مہک سے جہاں کی مہک ہے۔ معاشرے کا ہر ذی شعور فرد استاد کے علم سے ہدایت اور عمل سے پختگی حاصل کرتا ہے۔ معاشرتی آداب صرف کتابیں پڑھ لینے سے نہیں آتے بلکہ پڑھانے والے اور سکھانے والے کی موزوں شخصیت ہی آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ اس کا علم بڑھ جائے اور عمل پختگی کے سانچے میں ڈھل جائے۔
استاد نہ ہوتا تو علم کمزور اور کردار خام رہ جاتا۔ افراد کے خم و کج، منتشر اور ناشناس ذہنوں کو مقصد کی کشتی پہ سوار کرکے ساحل تک پہنچانا استاد کا فرض ہے۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب قوموں کو ثریا تک پہنچانے والی یہ ہستی خود اپنے فن میں یکتا، مخلص اور پیکرِ ایثار میں یکتا ہو۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن اقوام نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے اعلیٰ اذہان و افکار کے حامل استاد کا انتخاب کیا اور ان کی عظمت کا اعتراف کیا، زمانہ ان کی ترقی کی تیز ترین رفتار کو کم نہ کر سکا۔
عظمتِ استاد کی بڑی دلیل کیا ہوگی کہ محسنِ انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معلم ہونے پر فخر کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کر استاد کو خراجِ تحسین پیش کیا کہ جس نے مجھے ایک لفظ پڑھایا، میں اس کا غلام ہوں۔ سکندرِ اعظم کا یہ قول آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہے کہ میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا، جب کہ میرے استاد نے مجھے پھر سے زمین سے آسمان پر پہنچایا۔
جہاں معاشرے کا فرض ہے کہ استاد کی تعظیم و تکریم میں کوئی کسر نہ اٹھائے، وہیں استاد پر لازم ہے کہ خود کو پیغمبروں کے صحیح وارث اور اصل جانشین ثابت کریں۔ استاد خود کو یکتائے علم و ہنر بنانے میں ہمہ وقت کوشاں رہے اور اخلاق و کردار، عمل و ہنر کے وہ نشان چھوڑیں کہ افراد جن پہ چل کر اعلیٰ و ارفع مقاصد کی منزلوں کو چھو لیں۔ اپنی عادت، معاشرت، معاملات، معیارِ تعلیم، معیارِ تربیت، کردار ایسے رکھنے کی کوشش کریں گے جو کہ ایک معلم اور استاد کے شایانِ شان ہے۔
آج استاد کے قومی دن کے مناسبت سے اپنے والدِ محترم، مربی، مرشد، محسن استاد کو خراجِ عقیدت اور خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں، جو نہ صرف میرے والدِ محترم ہیں بلکہ میرے آئیڈیل، عظیم اور منفرد استاد ہیں۔ ان کے سائے میں سیکھی ہوئی ہر جملہ، ہر لفظ اور اصول نہ صرف میری زندگی بدل دی بلکہ مجھ جیسے ہزاروں شاگرد آپ کی روشنی سے روشنی اکتساب کرکے خوشحال زندگی بسر کر رہے ہیں۔ آپ کی شفقت، محبت اور نصیحت میرے سب سے انمول متاع ہیں۔ انگلی سے پکڑ کر پروفیشنل ٹریننگ تک سارے مراحل میں آپ کے سائے میں حاصل کی۔ آپ کا سایہ اور دعا میرے ساتھ ہے۔ اللہ آپ کو صحت و سلامتی کی زندگی نصیب کرے۔ آمین۔


