مضامین

چند سکوں کی چمک، بچوں کی صحت اور ماحول کی تباہی……کاوشاتِ اقبال سے ایک ورق

بازاروں، مارکیٹوں اور آس پاس کے ڈھابوں کی دکانوں میں غیر معیاری، ملاوٹ شدہ اور مضرِ صحت چپس اور مٹھائیوں کی بھرمار ہے، جو یقیناً ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے اور خصوصاً بچوں کی صحت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ ان غیر معیاری چپس میں استعمال ہونے والا بار بار گرم کیا گیا تیل، مصنوعی ممنوعہ رنگ اور چائنیز نمک پیٹ کی بیماریوں، جگر کے مسائل اور کینسر جیسے سنگین امراض کا سبب بن سکتے ہیں۔ سستی مٹھائیوں میں استعمال ہونے والا مواد انسانی معدے اور گردوں کو شدید نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔ یہ چیزیں زیادہ تر سکولوں کے باہر چھوٹی دکانوں اور دیہی علاقوں کی دکانوں میں بہت سستے داموں بیچی جاتی ہیں، تاکہ سب بچے انہیں خریدنے کی کوشش کریں۔

بچوں کی صحت پر بازار کے چپس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل میں وزن کا بڑھنا، موٹاپا، بلڈ پریشر، دل کی بیماریاں، ذیابیطس کا خطرہ، دماغی کارکردگی اور رویّے پر اثرات، کمزور مدافعتی نظام، ہڈیوں کا کمزور پن، اعصابی کمزوری، نظامِ ہاضمہ کی خرابی، قبض کی شکایت اور چڑچڑا پن وغیرہ شامل ہیں۔

جب کسی گاؤں کی گلیوں میں گھوم لیں، کسی فٹ پاتھ، سرکاری یا غیر سرکاری سکول میں جائیں، ہسپتال یا پارک میں قدم رکھیں، بازار میں کسی بس اسٹینڈ پر پہنچ جائیں، دریا کے کنارے چلے جائیں، ندی یا دریا کے کنارے، پہاڑوں یا میدانوں میں نکلیں، تو ہر جگہ پلاسٹک کے تھیلے لاکھوں کی تعداد میں ہر طرف سر اٹھائے ہمارے استقبال کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ یہ ہوا کے ہر چھوٹے جھونکے کے ساتھ اڑتے ہیں اور شہری آبادیوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ تو سوچنا پڑتا ہے کہ اتنی تعداد میں یہ تھیلے آتے کہاں سے ہیں اور کون انہیں یہاں لے آتا ہے؟

اگرچہ ہم سوچ لیں کہ اس گندگی میں سب سے بڑا کردار چپس، پاپڑ اور دیگر ایسی خوراکی اشیا کا ہے، جنہیں پلاسٹک کے تھیلوں میں بند کرکے بازاروں میں دلہن کی طرح سجا کر مختلف نام دے کر بیچا جاتا ہے۔ ایک طرف یہ تھیلے آلودگی کا سبب بنتے ہیں، تو دوسری طرف یہ گندگی پھیلانے والی چیزیں، جو ناقص خام مال سے تیار شدہ کھانے کی دیگر اشیا ہیں، عوام اور خصوصاً بچوں کی صحت کو تباہ کر رہی ہیں۔ ان چیزوں کو سرکاری یا حکومتی اجازت اور طبی تجزیے کے بغیر فروخت کیا جا رہا ہے۔ بچے یہ چیزیں بڑی خواہش سے کھاتے ہیں، جو انہیں جان لیوا بیماریوں کے دہانے تک پہنچانے کا باعث بنتی ہیں، اور انسانیت کے یہ قاتل چند پیسوں کی خاطر اپنی دکان چمکاتے ہیں۔

جب کسی سرکاری یا نجی ہسپتال جایا جائے تو یہ دیکھ کر حیرانگی ہوتی ہے کہ مریضوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہوتی ہے اور ڈاکٹر والدین کو اپنے بچوں کو ان چیزوں سے دور رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔

روز بروز اس گندگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور یہ عمل ایک وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس سے ہم سب اجتماعی طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ اس لیے حکومتی بنیادی ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ ان چپس، پاپڑ، چورن، املی، لولی پاپ، جیلی، ٹافیوں اور ملائی کے روز بہ روز بڑھتے ہوئے کارخانوں کے اضافے کو روکے۔ اس کے علاوہ سماجی کارکنوں، علمائے کرام، ذرائع ابلاغ، وکلا، اساتذہ، ڈاکٹروں اور دیگر فلاحی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اس مہم میں ماحولیاتی آلودگی کم کرنے اور بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انتظامی ادارے ہر قسم کے غیر معیاری چپس، پاپڑ، چورن اور دیگر غیر معیاری مشروبات بنانے والے افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button