مضامین

بچوں کی تربیت کا ایک اہم پہلو: انہیں اپنی غلطی تسلیم کرنا سکھائیے!

والدین کی غیر ضروری حمایت، غلطیوں پر پردہ پوشی اور دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کی عادت بچوں کے کردار کو کس طرح متاثر کرتی ہے؟
تحریر: ابوسلمان محمدقاسم
بچوں کی تربیت محض انہیں اچھے کپڑے پہنانے، بہترین تعلیم دلوانے، کھانے پینے کی سہولیات فراہم کرنے اور ان کی خواہشات پوری کرنے کا نام نہیں، بلکہ ان کی شخصیت میں سچائی، دیانت داری، احساسِ ذمہ داری، خود احتسابی اور اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا بھی والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کی تربیت کا ایک نہایت اہم پہلو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور وہ ہے بچوں کو اپنی غلطی تسلیم کرنے کا سلیقہ سکھانا۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض والدین اپنے بچوں کی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔ اگر بچہ کسی دوسرے بچے کے ساتھ زیادتی کرے، کسی کا نقصان کرے، بدتمیزی کرے یا کسی معاملے میں قصوروار ثابت ہو جائے تو والدین حقیقت جاننے اور اپنی اولاد کی اصلاح کرنے کے بجائے فوراً اس کے دفاع میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ انہیں اپنے بچے کی غلطی نظر آنے کے باوجود اس کا اعتراف کرنا گوارا نہیں ہوتا۔ کبھی وہ دوسرے بچوں کو قصوروار ٹھہراتے ہیں، کبھی اساتذہ پر الزام لگاتے ہیں اور کبھی حالات کو ذمہ دار قرار دے کر اپنی اولاد کی غلطی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہم اپنی اولاد سے محبت کے نام پر اس کی غلطیوں کی حمایت کرکے درحقیقت اس کے مستقبل کو نقصان نہیں پہنچا رہے؟
یاد رکھیے! بچے کی ہر غلطی پر اس کا دفاع کرنا محبت نہیں، بلکہ بعض اوقات اس کی غلط عادتوں کی پرورش کرنا ہوتا ہے۔ والدین کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ ہر حال میں بچے کو درست ثابت کریں، بلکہ یہ ہے کہ جب وہ غلط ہو تو اسے درست راستے کی طرف رہنمائی فراہم کریں۔
غلطی چھپانے کی عادت، غلطیوں کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کا آغاز!
بچہ فطری طور پر سیکھنے کے عمل سے گزرتا ہے۔ اس سے غلطی بھی ہوگی، کوتاہی بھی ہوگی اور کبھی نادانی میں کسی کا دل بھی دکھے گا۔ یہ سب اس کی عمر اور تجربے کا حصہ ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اسے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اسے چھپانے، جھوٹ بولنے، بہانے بنانے اور دوسروں پر الزام لگانے کی عادت پڑ جاتی ہے۔
ابتدا میں شاید معاملہ ایک ٹوٹے ہوئے گلاس، خراب کیے ہوئے کھلونے، جھوٹے بہانے یا کسی معمولی بدتمیزی تک محدود ہو، لیکن اگر ہر مرتبہ والدین بچے کو اس کی غلطی سے بچانے کے لیے کوئی نہ کوئی جواز تلاش کرتے رہیں تو رفتہ رفتہ اس کے اندر یہ احساس پیدا ہونے لگتا ہے کہ میں جو کچھ بھی کروں، میرے والدین میرا دفاع کریں گے اور مجھے اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کی ضرورت نہیں۔
یہی سوچ آگے چل کر ایک خطرناک عادت کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ پھر بچہ اپنی غلطی چھپانے کے لیے دوسری غلطی کرتا ہے، دوسری کو چھپانے کے لیے تیسرا بہانہ تراشتا ہے اور یوں وہ غلطیوں، جھوٹ اور بے جا صفائیوں کے ایک ایسے سلسلے میں الجھ جاتا ہے جس سے نکلنا اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔
ابتدا میں جس غلطی کی اصلاح ایک نرم جملے، معمولی تنبیہ اور محبت بھری رہنمائی سے ممکن تھی، وہی غلطی وقت گزرنے کے ساتھ بچے کے کردار کا حصہ بن سکتی ہے۔ بالآخر جب حقیقت سامنے آتی ہے تو نہ صرف بچہ دوسروں کا اعتماد کھو بیٹھتا ہے بلکہ والدین کو بھی شرمندگی اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
والدین! بچے کے وکیل نہیں، اس کے بہترین مربی بنیے!
والدین کو یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ اولاد کی محبت کا تقاضا ہر غلطی میں اس کی حمایت کرنا نہیں، بلکہ اسے غلط اور صحیح کے درمیان فرق سمجھانا ہے۔ اگر آپ کا بچہ کسی معاملے میں قصوروار ہے تو محض اس لیے اس کا دفاع نہ کریں کہ وہ آپ کا بچہ ہے۔ پہلے حقیقت معلوم کریں، دونوں فریقوں کی بات سنیں اور اگر غلطی آپ کے بچے کی ہے تو اسے تسلیم کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔
اپنے بچے کو یہ احساس دلائیں کہ غلطی ہو جانا کوئی ناقابلِ معافی جرم نہیں، لیکن غلطی جانتے ہوئے بھی اسے تسلیم نہ کرنا، جھوٹ بولنا اور دوسروں کو قصوروار ٹھہرانا ایک بڑی اخلاقی کمزوری ہے۔
اسے بتائیں کہ اگر تم سے کسی کا نقصان ہوا ہے تو اس کی تلافی کرو، کسی کا دل دکھایا ہے تو معذرت کرو، کسی کے ساتھ زیادتی کی ہے تو اپنی غلطی تسلیم کرکے اس سے معافی مانگو۔ یہی ایک باکردار انسان کی پہچان ہے۔
بچے کو یہ جملہ کہنے کا حوصلہ دیجیے:
’’جی ہاں! یہ غلطی مجھ سے ہوئی ہے، مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے، آئندہ کوشش کروں گا کہ ایسا نہ ہو۔‘‘
یقین کیجیے! یہ چند الفاظ بچے کی شخصیت میں خود احتسابی، سچائی اور احساسِ ذمہ داری کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
والدین خود بھی اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ پیدا کریں!
بچوں کی تربیت کا ایک نہایت مؤثر اصول یہ ہے کہ والدین وہی رویہ اختیار کریں جو وہ اپنی اولاد میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر والدین خود اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار نہ ہوں، اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالیں، ہر معاملے میں اپنی صفائی پیش کریں اور دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرائیں تو بچوں سے خود احتسابی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
اگر کبھی والدین سے بچے کے معاملے میں غلط فیصلہ ہو جائے، کسی بات کو سمجھے بغیر اسے ڈانٹ دیا جائے یا کسی دوسرے کے سامنے اس کے ساتھ ناانصافی ہو جائے تو والدین کو بھی یہ کہنے میں عار محسوس نہیں کرنی چاہیے:
’’بیٹا! اس معاملے میں غلطی میری تھی، مجھے تمہاری بات پہلے سننی چاہیے تھی، مجھے معاف کر دو۔‘‘
یاد رکھیے! والدین کا اپنی غلطی تسلیم کرنا ان کی عزت کم نہیں کرتا بلکہ بچوں کی نظروں میں ان کا وقار مزید بلند کرتا ہے۔ اس سے بچے کو عملی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ غلطی ماننا کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ ظرفی، اخلاقی جرأت اور مضبوط کردار کی علامت ہے۔
اصلاح کا طریقہ محبت ہو، خوف نہیں!
بچوں کو اپنی غلطی تسلیم کرنے کا عادی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ گھر کا ماحول ایسا ہو جہاں بچہ سچ بولنے سے خوف زدہ نہ ہو۔ اگر ہر غلطی پر شدید ڈانٹ، تذلیل، تحقیر اور غیر ضروری سزا ملے گی تو بچہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اسے چھپانے کی کوشش کرے گا۔
اس لیے جب بچہ اپنی غلطی خود تسلیم کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کیجیے۔ اسے سمجھائیے کہ تم نے غلط کام کیا، لیکن اپنی غلطی مان کر تم نے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے۔ اب ضروری ہے کہ تم اپنی غلطی کی تلافی کرو اور آئندہ اسے دہرانے سے بچو۔
اس طرح بچہ یہ سیکھے گا کہ سچ بولنے اور اپنی غلطی تسلیم کرنے سے مسئلہ حل ہوتا ہے، جبکہ جھوٹ اور الزام تراشی سے مسائل مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
آخری بات: آج کی تربیت، کل کا کردار!
والدین کو یاد رکھنا چاہیے کہ بچے کی ہر خواہش پوری کرنا محبت نہیں، ہر غلطی پر اس کا دفاع کرنا ہمدردی نہیں اور ہر معاملے میں اسے بے قصور ثابت کرنا اچھی تربیت نہیں۔ حقیقی محبت یہ ہے کہ ہم اپنی اولاد کو ایک سچا، ذمہ دار، بااخلاق اور خود احتسابی کا عادی انسان بنائیں۔
بچے کو یہ اعتماد دیجیے کہ تم سے غلطی ہو سکتی ہے، لیکن تمہیں اپنی غلطی چھپانی نہیں، اسے تسلیم کرنا ہے؛ تمہیں دوسروں پر الزام نہیں لگانا، بلکہ اپنی ذمہ داری قبول کرنی ہے؛ اور صرف معافی مانگ کر آگے نہیں بڑھنا، بلکہ اپنی غلطی کی اصلاح بھی کرنی ہے۔
جس گھر میں والدین اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں، وہاں بچے بھی سچائی اور خود احتسابی سیکھتے ہیں۔ جس گھر میں ہر غلطی کا دفاع کیا جاتا ہے، وہاں غلطی آہستہ آہستہ عادت بن سکتی ہے۔
آئیے! اپنی اولاد کو صرف کامیاب انسان بنانے کے بجائے اچھا انسان بنانے کی فکر کریں۔ انہیں یہ سبق دیں کہ زندگی میں بڑا ہونا صرف عہدے، دولت، شہرت اور کامیابی کا نام نہیں، بلکہ اپنی غلطی تسلیم کرنے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے اور اپنے کردار کی اصلاح کرتے رہنے کا نام بھی ہے۔
کیونکہ جو بچہ آج اپنی غلطی تسلیم کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ کل اپنی زندگی کی ذمہ داریاں بھی بہتر انداز میں نبھانا سیکھ جاتا ہے۔ اور جو والدین آج اپنی اولاد کی غلطیوں کی بروقت اصلاح کرتے ہیں، وہ درحقیقت کل اپنے بچوں کو بہت سی پریشانیوں، ناکامیوں اور شرمندگیوں سے محفوظ رکھنے کی بنیاد رکھتے ہیں۔
اپنی اولاد سے محبت ضرور کیجیے، مگر اس محبت کو اس کی غلطیوں کا محافظ نہیں، اس کے کردار کا معمار بنائیے!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button