تازہ ترین

سابق ضلعی ناظم کی املاک کو تجازوات قرار دیکر مسمار کردیا گیا، انکروچمنٹ کے نام پر چادر و چار دیواری کی پامالی کسی صورت برداشت نہیں، وجیہ الدین امیر جماعت اسلامی

چترال (نمائندہ ) امیر جماعت اسلامی لویر چترال وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ بغیر نوٹس کسی بھی شہری کے گھر کی چار دیواری مسمار کرنا اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے جس کے مرتکب ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ جماعت اسلامی لویر چترال کے دفتر سے جاری کردہ پریس ریلیز میں
امیر جماعت اسلامی چترال لوئر وجیہ الدین نے نائب امیر صوبہ خیبرپختونخوا و سابق ڈسٹرکٹ ناظم حاجی مغفرت شاہ کے گھر پیش آنے والے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکروچمنٹ کے خاتمے کے نام پر کسی شہری کے گھر میں داخل ہونا، چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنا اور بغیر پیشگی نوٹس کے گھر کی چار دیواری مسمار کر دینا انتہائی افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور ناقابلِ قبول اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون کی عمل داری کے نام پر قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں اڑانے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ ضلعی انتظامیہ عوام کی خادم ہے، حاکمِ مطلق نہیں کہ جب چاہے، جس کے گھر میں داخل ہو جائے اور بغیر قانونی تقاضے پورے کیے اس کی املاک کو نقصان پہنچائے۔ اگر کوئی تجاوز موجود ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، لیکن کسی شہری کی عزتِ نفس مجروح کرنا اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنا کسی صورت جائز نہیں۔
وجیہ الدین نے کہا کہ انتظامیہ کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اختیارات کا استعمال قانون کے تابع ہوتا ہے، قانون سے بالاتر نہیں۔ کسی بھی کارروائی سے پہلے متعلقہ شہری کو نوٹس دینا، اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا اور قانونی طریقۂ کار اختیار کرنا انتظامی ذمہ داری ہے۔ ان تقاضوں کو نظرانداز کرکے گھروں کی چار دیواریاں گرانا نہ صرف عوام کے لیے شدید اذیت اور بے چینی کا باعث ہے بلکہ انتظامی اختیارات کے استعمال پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چترال ایک پرامن معاشرہ ہے، جہاں لوگوں کی عزت، روایات اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ انتظامیہ کے ایسے اقدامات عوام میں اشتعال، بے چینی اور اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کر سکتے ہیں، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ تجاوزات کے خاتمے کے نام پر شہریوں کو خوف زدہ کرنا اور ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا کسی مہذب معاشرے اور ذمہ دار انتظامیہ کے شایانِ شان نہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، اس کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور متاثرہ شہری کو انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی شہریوں کے بنیادی حقوق، عزت و آبرو اور نجی املاک کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور انتظامی اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف ہر مناسب اور قانونی فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
اس حوالے سے جماعت اسلامی اپنا لائحہ عمل ان شاء اللہ کل ارکان جماعت کے خصوصی اجتماع کے بعد طے کرے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button