مضامین

دادبیداد ………مستند معالج حکیم محمد وزیر خان……ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی 

حکیم محمد وزیرخان شاہی بازار چترال میں طبابت اور دندان سازی کا کام کرتے تھے۔ وہ اپنے زمانے کے مستند معالج تھے۔ انہوں نے کرول باغ دہلی کے اوردیک اور یونانی طبیہ کالج سے طب وجراحت اور دندان سازی کی تعلیم حاصل کی تھی۔
یہ کالج حکیم اجمل خان نے قائم کی تھی۔ اب یہ سرکاری سطح پر ہر طب یونانی کا سب سے بڑا کالج اور ہسپتال ہے جو حکیم اجمل روڈ پرکرول باغ ہی میں قایم ہے
حکیم محمد وزیر خان کا تعلق اجنو تورکہو کے موسینگے قبیلے سے تھا ان کے باپ کانام امیرخان تھا 1913 میں پیدا ہوئے تھے۔ 78 سال کی عمر پائی 1991ء میں ان کی وفات ہوئی۔انہوں نے اپنے زمانے کے دستور کے مطابق گھر پر دینی
تعلیم کی ابتدائی کتاہیں پڑھنے کے بعد 14 سال کی عمر میں مزید تعلیم کے لیے رخت سفر باندھا گاؤں کے دوسرے طالب علموں کے ساتھ پشاور پہنچے پشاور میں گنج علی خان کی مسجد میں صرف و نحو کی کتابوں سے سبق کا آغاز کیا خلاصتہ الفقہ اور منیہ المصلی بھی یہیں یاد کرلی اس کے بعد طالب علموں کے گروپ کے ہمراه ہندوستان کا رخ کیا کچھ عرصہ دہلی کے مدرسہ عبدالرب میں زیرتعلیم رہے۔اس کے بعد کرول باغ دہلی کے آیووریدک اور یونانی طبیہ کالج میں حکمت، طبابت اور دندان سازی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ لے لیا پشاور اور دہلی میں 6 سال قیام کے دوران اردو اور فارسی میں لکھنے پڑھنے کی مہارت حاصل کرلی تھی اس لیے طیبہ کالج میں اس کو کسی طرح کی مشکل پیش نہیں آئی۔ 1939ء میں مہتر چترال ہز ہائی نس محمد ناصر الملک حج سے واپسی پر دہلی آئے تو ان کے ملاقاتیوں میں حکیم محمد وزیرخان بھی تھے یہ جان کر بہت خوش ہوئے کہ ریاست چترال کا ایک نوجوان حکمت اور طبابت کی تعلیم حاصل کر رہا ہے ریاستی خزانے سے ان کا ماہانہ وظیفہ مقرر کیا اور تعلیم مکمل کرکے چترال آنے کی تاکید فرمائی، 1943 میں ان کی تعلیم مکمل ہوئی تو چترال واپسی کے لیے بذریعہ ریل پشاور پہنچے، گرمیوں کے دن تھے پشاور میں ہز ہائی نس محمد ناصر الملک کی وفات کی خبر ملی تو دل برداشتہ ہوکر واپس دہلی چلے گئے تاہم دو ماہ بعد ہز ہائی نس مظفر الملک نے ان کو چترال بلاکر شاہی قلعہ میں رہائش دی اورشاہی باورچی خانے سے روزینہ مقرکیا شاہی بازار میں حکیم صاحب نے اپنا مطب کھولا قیام ہندوستان کے زمانے کا ایک واقعہ قابل ذکر ہے ایک بار محترمہ فاطمہ جناح دہلی آئی ہوئی تھیں ان کے کندھے پر پھوڑا نکل آیا علاج اور مرہم پٹی کے لیے طبیہ کالج سے حکیم محمد وزیر خان کو ان کے گھر بھیجا گیا دو ہفتوں تک علاج ہوتا رہا، اس اثنا میں فاطمہ جناح کو پتہ چلا کہ حکیم صاحب دندان ساز بھی ہیں، ممبئی جانے کے بعد فاطمہ جناح نےان کو مبئی بلایا ڈیڑھ سال ان کے مطب میں کام کیا، جب رخصت ہوئے تو محترمہ فاطمہ جناح نے تحفے تحائف ​دیکر ان کو رخصت کیا ان تحائف میں دندان سازی کے اوزار کے ساتھ چاندی کا بنا ہوا دوات بھی تھا یہ تحائف آج بھی ان کے خاندان میں محفوظ ہیں
1946 میں ہزہائی نس مظفر الملک مہتر چترال کو ذیا بیطس کا عارضہ لاحق ہوا تو ان کے معالجین میں ڈاکٹروں کے ہمراہ حکیم۔محمد وزیر خان بھی شامل تھےذیا بیطس کا پھوڑا کار بنکل نکل آیا تو اس کی مرہم پٹی بھی حکیم صاحب خود کیا کرتے تھے، شاہی طبیب کا درجہ ملنے کے بعد حکیم صاحب ک2 زنگ لشٹ تورکہو میں ہنرکشی کے بعد زمین دے دی گئی چترال ٹاؤن میں جائیداد کی پیش کش ہوئی مگر انہوں نے جائیداد کی جگہ نقد انعام کو ترجیح دی، زمین اپنی پسند سے خریدی۔
حکیم صاحب کے بھتیجے میروزیر شاہ نے ان کی سرپرستی میں شاہی قلعہ میں اقامت اختیار کرکے سٹیٹ ہائی سکول چترال سے تعلیم حاصل کرلی تھی اور محکمہ صحت کے تحت وبائی امراض کی روک تھام کے شعبے میں ویکسینی نیشن کا کورس کیا اور اسی شعبے میں ملازمت اختیار کی، حکیم صاحب کا بڑا بیٹا محراب ولی شاہ مسرور اعلی تعلیم حاصل کرکے محکمہ تعلیم میں شمولیت اختیار کی، ان کا بیٹا ثناء اللہ کاروبار سے منسلک ہے حکیم صاحب کا چھوٹا بیٹا ایاز محمد شاہ دندان سازی کے آبائی پیشے سے منسلک ہے
حکیم محمد وزیر خان سماجی زندگی میں فعال شخصیت کے مالک تھے ۔ اللہ پاک ان کو اخروی زندگی میں دائمی راحت نصیب فرماتے (آمین)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button