69

امیرمقام نے اپنامقام پالیامگرآگے۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

وزیراعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام کی بطورصدرمسلم لیگ نون خیبرپختونخواتقرری اگرچہ بڑی خبرضرورہے جس سے جہاں لیگی حلقوں میں جشن کاسماں ہے اورصوبہ بھرمیں لیگی کارکن خوشی سے جھومتے اور ڈھول کی تھاپ پررقص اور مٹھائیاں تقسیم کرتے دکھائی دیئے وہیں امیرمقام نون لیگ کا صوبائی صدر بنناخیبرپختونخوامیں دیگرسیاسی جماعتوں بالخصوص حکمراں جماعت پی ٹی آئی اور نومنتخب صوبائی قیادت کے ساتھ اگلے انتخابی اکھاڑے میں لنگوٹ کس کراترنے والی پیپلزپارٹی کے لئے یہ باعث تشویش امر ہوسکتاہے کیونکہ ان کے سیاسی قد کاٹھ سے سب واقف ہیں البتہ ان کی تقرری کااعلان حیراں کن نہیں کیونکہ درحقیقت وہی ہواجس کا ایک عرصے سے نہ صرف میڈیامیں تسلسل کے ساتھ ذکرہورہاتھااور سیاسی حلقوں میں بھی اس کی بازگشت سنائی دے رہی تھی بلکہ یہ نون لیگ کے پی کے بالخصوص ملاکنڈ ڈویژن کے اکثریتی پارٹی ورکرز کی خواہش تھی اوروہ اضطرابی طورپراس فیصلے کے منتظر تھے ۔17اپریل کو وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت خیبرپختونخواکے سینئر لیگی رہنماؤں کے مشاورتی اجلاس میں پارٹی کے سربراہ نوازشریف نے امیرمقام کونون لیگ کے پی کے کے صدرجبکہ ڈپٹی سپیکرقومی اسمبلی بیرسٹر مرتضیٰ جاوید عباسی کے بطور جنرل سیکرٹری تقرری کی باقاعدہ منظوری دے دی،امیرمقام کے صدر مقرر ہونے کے اعلان تک سینئرلیگی رہنماء پیر صابر شاہ صوبائی صدرکی حیثیت سے پارٹی کوآگے لے جارہے تھے،ہزارہ ڈیژن سے تعلق رکھتے پیر صابر شاہ اچھی سیاسی شہرت کے حامل تجربہ کارسیاستدان ہیں وہ ماضی میں وزارت اعلیٰ کے منصب پر بھی فائزرہے ہیں جبکہ نون لیگ اور شریف خاندان سے ان کی ثابت قدم رفاقت اور وفاداری کوکسی طوررد نہیں کیاجاسکتا،ایک آدھ بار جوش خطابت میں زبان پھسلنے پر گونواز گو کانعرہ لگاناتونادانستہ غلطی ہوسکتی ہے تاہم 12اکتوبر1999ء کوجنرل (ر)مشرف کا منتخب حکومت پر شب خون مارنے اور وزیراعظم نوازشریف کوپابند سلاسل کرنے کے بعد جب شریف خاندان پر براوقت آں پڑاتھااور ان کے وفادار سیاسی پیادے دباؤ برداشت نہ کرتے ہوئے دھڑادھڑ وفاداریاں تبدیل کررہے تھے تواس مشکل دورمیں کئی نشیب وفراز آنے کے باوجود پیر صابرشاہ ثابت قدم اورصحیح معنوں میں شریف خاندان کے وفاداررہے اوراب تک ہیں البتہوجودرکھتی یہ حقیقت اپنی جگہ کہ پیرصابر شاہ سیاسی طورپر ثابت قدم اور صوبائی عہدہ صدارت پر براجماں تورہے مگرورکرزکی شکایات اور تحفظات دور کرکے انہیں یکجاکرنے،تنظیم سازی پر توجہ دے کر پارٹی کو فعال بنانے اور اس کے افرادی قوت میں اضافہ کرنے سے قاصر رہے اور انہی عوامل کے باعث خیبرپختونخوامیں نون لیگ کی پوزیشن کمزورتر ہوتی گئی ،ورکرزتتربترہوکردیگر جماعتوں میں شامل ہوگئے تاہم دوسری جانب انجینئرامیرمقام کاسیاسی کرداریکسر مختلف ہے وہ 2002کے عام انتخابات کے بعد سیاسی وفاداری تبدیل کرکے شوکت عزیز کابینہ کے اہم رکن رہے اورجنرل (ر) مشرف کے قریبی ساتھیوں میں شمارہوئے جبکہ سیاسی طورپر مسلم لیگ ق کے قافلے کا ہمسفر رہتے ہوئے اس جماعت کے صوبائی صدر بھی رہے مگرپرویزمشرف کے اقتدارکے خاتمے پر ق لیگ بھی ہواکا جھونکا ثابت ہواتووہ نئی سیاسی بساط بناتے ہوئے 2013کے عام انتخابات سے قبل مسلم لیگ نواز میں شامل ہوگئے،اگرچہ سیاست میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتاہمارے روائتی طرزسیاست میں بدترین دشمنوں کوآپس میں دوست جبکہ گہرے دوستوں کو پلک جھپکتے ہی جانی دشمن بننے میں دیر نہیں لگتی اس رُوسے امیرمقام کانون لیگ میں شامل ہوناکوئی معیوب یاغیرفطری عمل نہیں تھاتاہم سیاسی امورکے بعض ماہرین کے مطابق امیرمقام کانون لیگ میں شامل ہونا تحریک انصاف کی بدقسمتی رہی کیونکہ وہ پہلے پی ٹی آئی میں شامل ہونے کاسوچ رہے تھے مگروہاں انہیں بوجوہ قبول نہیں کیاگیاسووہ نون لیگ میں چلے گئے دوسری جانب ان کا نون لیگ میں شامل ہوناوزیراعظم نوازشریف اوران کی جماعت کے لئے خوش آئند ثابت ہواکیونکہ نون لیگ کے ساتھ وابستگی کے قلیل عرصے میں اپنی جماعت کے افرادی قوت بڑھانے،اور حکومت بالخصوص وزیراعظم کودرپیش مشکلات کم کرنے میں انجینئرامیر مقام نے غیرمعمولی قابل ذکر کرداراداکیاہے، وزیراعظم کامشیرمقررہونے کے بعدذمہ دارتنظیمی عہدہ نہ ہونے کے باوجود انہوں خیبرپختونخوابھرمیں بڑے بڑے سیاسی جلسوں،جلوسوں کے انعقاد،شمولیتی تقاریب،گیس، بجلی اورپانی کی فراہمی سمیت سڑکوں کی تعمیر جیسے دیگر بڑے بڑے منصوبوں کے افتتاح اورتکمیل کے ذریعے پارٹی کو دوام دینے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے ناراض کارکنوں کومنانے کی بھرپورسعی کی ، وزیراعظم نوازشریف کے استعفے کامطالبہ لے کردوسال قبل شہراقتداراسلام آباد کے ڈی چوک میں تحریک انصاف کے126دنوں پر مشتمل ملکی تاریخ کے طویل ترین دھرنے کاذکرہویاتذکرہ ہوپچھلے سال مبینہ پانامہ کرپشن معاملے پر عمران خان کے دھرنے کاجہاں عمران خان وفاقی حکومت کے خلاف اسلام آبادسمیت پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں میں بڑے بڑے جلسوں کے ذریعے عوامی طاقت دکھارہے تھے وہیں انجینئرامیر مقام خیبرپختونخوامیں پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت کے خلاف جلسے کرکے وفاقی حکومت کی ناکامی کے تاثرکوزائل کرنے میں مصروف عمل سنائی اور دکھائی دیئے،صوبائی دارالحکومت پشاورمیں صوبائی اسمبلی کے حلقہ پر ضمنی انتخاب جیتناجبکہ منتخب ایم پی اے جمشید مہمند کونون لیگ میں شامل کراناامیرمقام کے غیرمعمولی کارنامے تصورکئے جاتے ہیں،اگرچہ بعض حلقوں کاخیال یہ بھی تھاکہ امیرمقام کی سیاسی خدمات اپنی جگہ تاہم مہتاب احمد خان عباسی،پیرصابرشاہ اور شریف خاندان کے داماد کیپٹن صفدرکی موجودگی میں امیرمقام کو صوبائی صدر مقررکرکے وزیراعظم نوازشریف ہزارہ ڈویژن کی لیگی قیادت کوناراض کرنے کاخطرہ مول نہیں سکتے مگروہ تمام اندازے غلط ثابت ہوئے اور اب جبکہ وہ مسلم لیگ نون خیبرپختونخواکے صدربن چکے ہیں توبلاشبہ خیبرپختونخوا کی سیاست میں نیاموڑآگیاہے اورسیاسی وعوامی حلقوں میں امیرمقام کے مستقبل میں وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائزہونے کے اندازے لگائے جارہے ہیں مگرکیاہزارہ کے لیگی قیادت کی موجودگی میں وہ اپنے اس منزل تک پہنچ پائیں گے کہ نہیں اس کافیصلہ آنے والاوقت کرے گا۔

Print Friendly, PDF & Email