75

یکم مئی سے تنخوا ہو ں اضا فہ شامل کر دیا جا ئیگا چوہدری نثا رکے اعلان نے ملازمین کو خو ش کر دیا

واہ کینٹ(نیوزڈیسک) وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہاہے کہ ایجنسیاں حساس اداروں کو محفوط نہیں کرسکتیں تو ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے اور اگر پی او ایف کے مزدور محفوظ نہیں تو ہمارا بھی اللہ ہی حافظ ہے،کون نادان لوگ ہیں جنہوں نے ابہام ڈالا اور انہیں لگا کہ وہ سیکیورٹی خطرے کا بول کر ہمیں یہاں آنے سے روک دیں گے لیکن میں نے فیصلہ کرلیا تھا حالات جیسے بھی ہوں آج کی تقریب میں ضرور جاؤں گا،ہر کوئی کان کھول کر سن لے کہ پاکستان آرڈیننس فیکٹری کی آن بان اور شان مزدوروں سے ہے ، مجھے کسی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے مگر مزدور پر جب بھی برا وقت آئے گا میں حکومت میں ہوں یا اپوزیشن مین میری آواز مزدوروں کے ساتھ ہوگی،پی او ایف کے مزدوروں بنائے ہوئے اسلحے سے پاک فوج دشمن کو لرزاتی ہے ، پی او ایف کا مزدور مجاہد پاکستان بھی ہے، آپ لوگوں کو متحد رہنا ہوگا ورنہ لوگ آپ کو نوچ نوچ کر کھا جائیں گے ، متحد رہو گے تو آپ کے حالات تبدیل ہوں گے ، میں یہاں مزدوروں سے وعدہ کیا ہے کہ ہماری حکومت کے دوران آپ کے اوپر کوئی بھی فیصلہ آپ کی مشاورت کے بنا لاگو نہیں کیا جائے گا ، یہاں کے مسائل کے حل کیلئے وزیراعظم سے کمیٹی بنانے کی سفارش کریں گے، وزیرداخلہ نے پی او ایف کے ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 25فیصد اضافے کابھی اعلان کیا ، دو اضافی ترقیاں بھی دی جائیں گی یکم مئی 2017سے یہ اضافہ آپ کی تنخواہوں میں شامل ہوگا ۔ وہ پیر کو واہ کینٹ پی او ایف کے ملازمین کے زیراہتمام منعقدہ یوم مزدور کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے مزدوروں کو سلام پیش کرتا ہوں ، اس خوبصورت بستی کے خوبصورت لوگوں کا جذبہ دیکھ کر بہت خوش ہوا ہوں ۔ چوہدری نثار نے کہا کہ میری آج کی تقریر سیاسی نہیں ہوگی ، کچھ لوگوں کی غلط فہمی ہے کہ میں اس حلقے سے منتخب ہوا ہوں مگر ایسا نہیں ہے ، مجھے اس بات پر کوئی گلہ نہیں ہے اگر گلہ ہوتا تو واہ کینٹ کے ایریا میں 15ارب روپے کی مالیت سے زائد کے منصوبے نہ لگے ہوتے ، میرا آپ سے ایک رشتہ ہے ، سب سے مضبوط رشتہ ان مزدوروں کے ساتھ ہے ۔ چوہدری نثار منافق ہے نہ اس فیکٹری کا مزدور منافق ہے ۔انہوں نے کہا میں یہاں ووٹ مانگنے نہیں آیا بلکہ حکومت کی طرف سے آپ کو خراج تحسین پیش کرنے اور یکجہتی کے اظہار کیلئے آیا ہوں ، آنے سے پہلے مجھے بتایا گیا کہ اس اجتماع پر خود کش حملوں کا خطرہ ہے تو میں نے کہا کہ اگر پاکستان کی ایجنسی اس حساس علاقے کو محفوظ نہیں رکھ سکتی تو اس کی کارکردگی پر بہت سے سوال اٹھ سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر مزدور محفوظ نہیں تو پھر ہمیں اپنی حفاظت کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ چوہدری نثار نے کہا کہمیں نے ان ایجنسیوں کو پیغام دیا کہ رپورٹ دینا آپ کا کام ہے جانا یا نہ جانا میرا کام ہے ، ہر کوئی کان کھول کر سن لے کہ پاکستان آرڈیننس فیکٹری کی آن بان اور شان مزدوروں سے ہے ، مجھے کسی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے مگر مزدور پر جب بھی برا وقت آئے گا میں حکومت میں ہوں یا اپوزیشن مین میری آواز مزدوروں کے ساتھ ہوگی ، میں 1985میں پہلی بار منتخب ہو کر اسمبلی میں آیا تھا تو پاکستان آرڈیننس فیکٹری میں ایک قیامت برپا کی گئی ، اسی گراؤنڈ میں لوگوں کو نکالا گیا اور مارا پیٹا گیا ، مزدوروں کو گرفتار کیا گیا تو میں نے حکومت چھوڑ کر یہاں آکر مزدوروں کے ساتھ بیٹھ کر احتجاج کیا ، اسمبلی میں آواز اٹھائی ، جنرل ضیاء اس وقت صدر تھے ان کا بیان بھی آیا کہ حکومتی جماعت کا ممبر قومی اسمبلی پی او ایف کے معاملات سے اپنی توجہ ہٹا لیں یہاں آنا جانا بند کریں ، میں نے اس وقت استعفیٰ لکھ کر جونیجو صاحب کو پیش کیا اور یہاں آکے مزدوروں کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوگیا ۔انہوں نے کہا کہ مجھے تو تب مزدوروں کے پاس آنے سے نہیں روک سکا تو آج نہ نجانے کس کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ مجھے سیکیورٹی ٹھریٹ دے گا تو میں یہاں نہیں آؤں گا ۔وزیرداخلہ نے کہا کہ بہت ساری باتوں سے میں پردہ نہیں اٹھاتا مگر کہوں گا کہ ان مزدوروں کو سکون کا سانس لینے دو، ان کو جینے دو، اپنے بچوں کو رزق حلال کھلانے کیلئے یہ مزدور سال کے 364دن محنت کرتے ہیں ، ایک دن ان کا سکون کا آتا ہے مگر پھر بھی ان مزدوروں کو سکون کا سانس نہیں لینے دیا جاتا ، ان مزدوروں کی محنت ومشقت سے یہ فیکٹریاں چلتی ہیں ، آپ کے بنائے ہوئے اسلحے سے پاک فوج دشمن کو لرزاتی ہے ، پی او ایف کا مزدور مجاہد پاکستان بھی ہے ، پاکستان کو سول آرمڈ فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ لڑتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں لیڈر آف دی اپوزیشن تھا تب یہاں ایک بہت بڑا سانحہ ہوا، میں خود فوراً یہاں پہنچا ، وزیراعلیٰ کو بھی یہاں لے کر آیا اور پی پی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی یہاں لے کرآیا ،سن 2000 میں آپ پر ایک کالا قانون لایا گیا تھا میں نے جنرل مشرف کی حکومت کو آرڈیننس 2000مزدوروں پر لاگو کرنے سے روکنے کیلئے دن رات ایک کردیا ، 2005میں قومی اسمبلی میں مشرف کے پارلیمانی امور کے وزیر کے خلاف احتجاج کیا ۔ چوہدری نثار نے کہا کہ 1999میں میں وزیراعظم نوازشریف کو ساتھ لیکر یہاں آیا ،جنرل عبدالقیوم پی او ایف کے چیئرمین تھے ، 69سالوں میں آپ نے لوگوں کو جھولیاں بھر کو ووٹ دیے ا کو بھی آپ نے ووٹ دیے جنہوں نے کالا قانون آپ پر لاگو کیا ،جنہوں نے مشرف کی وردی کا ساتھ دیا مگر کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ دس فیصد رقم ہی اس علاقے کے غریب محنت کشوں پر نچھاور کردیں ۔انہوں نے کہا کہ جب وزیراعظم کو ساتھ لیکر یہاں آیا تو انہیں کہا گیا کہ 20فیصد کا اعلان نہ کریں کیونکہ اس سے بہت سے مسائل جنم لیں گے ، میں نے وزیراعظم سے کہا کہ اگر ہم نے 20فیصد کا اعلان نہیں کرنا تو یہیں سے واپس چلتے ہیں مگر انہوں نے کہا کہ نہیں ہم 20فیصد کا ہی اعلان کریں گے اور پھر دن دیہاڑے وزیراعظم نے 20فیصد کا اعلان کیا ۔ ابھی ہم اسلام آباد بھی نہ پہنچے تھے کہ پروپیگنڈا شروع کردیا گیا کہ یہ اعلان تو انتظامیہ نے کیا ہے ۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ یہ کیا وجہ ہے کہ آپ کو جب بھی الاؤنس ملتا ہے تو وزیراعظم نوازشریف ہی کی طرف سے ملتا ہے پھر جب مشرف آتا ہے تو وہ 20فیصد الاؤنس واپس لے لیا جاتا ہے تب بھی تو ہی انتظامیہ تھی ۔چوہدری نثار نے کہا کہ آپ لوگوں کو متحد رہنا ہوگا ورنہ لوگ آپ کو نوچ نوچ کر کھا جائیں گے ، متحد رہو گے تو آپ کے حالات تبدیل ہوں گے ، میں یہاں مزدوروں سے وعدہ کیا ہے کہ ہماری حکومت کے دوران آپ کے اوپر کوئی بھی فیصلہ آپ کی مشاورت کے بنا لاگو نہیں کیا جائے گا ، یہاں کے مسائل کے حل کیلئے وزیراعظم سے کمیٹی بنانے کی سفارش کریں گے ۔ وزیرداخلہ نے پی او ایف کے ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 25فیصد اضافے کا اعلان کیا اور کہا کہ دو اضافی ترقیاں بھی دی جائیں گی یکم مئی 2017سے یہ اضافہ آپ کی تنخواہوں میں شامل ہوگا ۔

Print Friendly, PDF & Email