104

کالاش اقلیت کاموسم بہارکاتہوارچیلمے جوش کالاش وادی بمبوریت ،رمبوراوربیریرمیں 14مئی سے 16مئی تک منائی جائے گی

چترال (رپورٹ شاہ مراد بیگ)کالاش اقلیت کاموسم بہارکاتہوارچیلمے جوش کالاش وادی بمبوریت ،رمبوراوربیریرمیں 14مئی سے 16مئی تک منائی جائے گی ۔سب سے بڑاحتیامی پروگرام 16مئی کوبمبوریت میں ہوگی ۔کالاش تہوارکوجوش خروش کے ساتھ منانے کے لئے انتظامات کوآخری شکل دی جارہی ہے ۔تینوں وادیوں کوجانے والی سٹرکوں کی مرمت کی گئی ہے ۔بمبوریت کے درجنوں ہوٹلوں کی تزئین واراٹیش تقریبامکمل کی گئی ہے ۔تینوں وادیوں کے بوڑھے ،جوان ،خواتین اوربچے ان دنوں تہوارکی خریداریوں کیلئے چترال شہرمیں اُمُڈآئے ہیں ۔چترال شہرکے دکانداروں کے وارنیارے ہوگئے ہیں ،حالیہ دنوں میں چترال شہرمیں شورش کی وجہ سے کالاشیوں کی آمدکاسلسلہ تقریباختم ہوگیاتھا۔اب چترال شہرمیں حالات نارمل ہوچکاہے توکالاشیوں کی آمدشروع ہوگئی ہے ۔وادیوں میں بھی کالاشیوں نے جنگلی پُھولوں سے اپنے گھروں کوسنواررہے ہیں چیلم جوش کی تہوارمیں کالاش باہرسے آنے والے مہمانوں کی ضیانت دودھ سے بنے ہوئے خوراک اوروائن سے کرتے ہیں جس کے لئے ابھی سے دودھ کاذخیرہ کرناشروع کردئے ہیں۔ایک ہوٹل مالک اورکالاش رہنماعبدالخالق نے ہمارے نمائندے کوبتایاچترال سے باہرملکی سیاحوں نے ابھی سے وادیوں کارُخ کرلیاہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے بھی سیاحوں کی بہترین سہولت کیلئے ہرممکن کوشش کررہے ۔سال بھرکے بعداُن ہی دنوں میں کچھ نہ کچھ کمائی کرلیتے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ ملک کے دوسرے سیاحتی مقامات کے ہوٹل مالکان کی طرح سیاحوں کولوٹتے ہیں۔ہمارے ریت انتہائی معقول ہوتے ہیں ہم زیادہ سے زیادہ اپنے مہمانوں کوبہترسروس دینے کی کوشش کررہے ہیں۔اُنہوں نے یہ بھی بتایاکہ ذرائع کے مطابق غیرملکی سیاح این اوسی کے بغیرنہیں آسکتے ہیں جوکہ زیادتی ہے چترال اورخاص کرکالاش وادی کے لوگ انتہائی پُرامن ہیں یہاں پرسکیورٹی کاکوئی مسئلہ نہیں ہے ۔انہوں نے یہ بھی بتایاکہ غیرملکی سیاح کالاش کلچرکوانجوائی کرنے میں بڑی دلچسپی رکھتے ہیں اوران کی آمدکی وجہ سے جہاں علاقے کوفائدہ ہے وہاں پرملک کوبھی فائدہ ہے اس لئے حکومت غیرملکی سیاحوں کے لئے این اوسی کی شرط ء ختم کریں۔

Print Friendly, PDF & Email