106

گستاخی کی اصل سبب ۔۔۔۔ تحریر۔۔ ارشاد اللہ شادؔ ۔۔ بکرآباد چترال‘‘

الحمد اللہ ہم مسلمان ہیں۔ ختم نبوت پر ہمارا کامل ایمان ہے ۔ عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کی ایک بنیادی پہچان ہے اور اس عقیدے پر دلالت کرتے ہوئے دو سو دس احادیث اور ایک سو آیات قرآن ہیں۔ حضورؐ آخری نبی ہے ۔ اس پر متفق افراد امت سبھی ہے اور ان کے بعد جو دعویٰ نبوت کرے وہ نبی نہیں غبی ہے۔ آمنہؓ کے لال ﷺ کے بعد جو دعویٰ رسالت کرے وہ رسول نہیں بلکہ فضول ہے۔ حضورؐ پر نازل ہونے والی کتاب خاتم الکتب، حضورؐ کا دین خاتم الادیان، حضور ؐ کی شریعت خاتم الشرائع ، حضورؐ کی مسجد خاتم المساجد،حضورؐ خاتم الانبیاء، اور حضورؐ کی نبوت ختم نبوت ہے۔ جناب خاتم النبیّن ؐ کی آمد مبارکہ کے بعد نبوت و رسالت کا دروازہ بند ہوگیا اور محسن انسانیت جناب محمد مصطفی ؐ نے فرمایا! میں قصر نبوت کی آخری اینٹ ہوں اور میرے آنے کے بعد قصر نبوت اپنی تکمیل کو پہنچ گیا۔ عہد رسالت سے لیکر آج تک سینکڑوں بد بختوں نے نبوت کے دعوے کئے لیکن تاریخ اسلام شاہد ہے کہ جب بھی کسی ڈاکو نے تاج ختم نبوت کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا ۔ غیور مسلمانوں کی تلواریں اس کی طرف لپکیں اور اسے جہنم واصل کر دیا ۔ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے ؟ اس کے اسباب کیا ہے؟ اس کے محرکات کیا ہے؟ اس کے اسباب صرف یہ ہے کہ آج سرور کائنات ؐ سے ہمارا الفت و محبت کا رشتہ کمزور پڑ چکا ہے ۔ ہمارے قلوب میں عشق مصطفیؐ کا نور مدہم پڑ چکا ہے ۔ ہم میں جو ہر صدیقیتؓ موجود نہیں ہے ۔ ہم میں غیرت فاروقیتؓ موجود نہیں ۔ نبی پاکؐ کی عزت و ناموس پر مر مٹنے کے جذبہ عظیم سے ہم محروم ہو چکے ہیں ۔ جذبہ اویسیؒ ہمارے دلوں سے اٹھ چکا ہے۔ لیکن نہیں ہم بھی غصہ میں آتے ہیں ۔ ہمارے جذبات بھی بھڑکتے ہیں ۔ ہم بھی کشت و خون کیلئے تیار ہو جاتے ہیں ۔ لیکن کب؟ جب کوئی ہمارے باپ کی توہین کرتا ہے ، جب کوئی ہمارے بزرگوں کی توہین کرتا ہے ، جب کوئی ہمارے جگری یار کے بارے میں نازیبا کلمات کہتاہے ، جب کوئی ہمارے خاندان کے بارے میں نا شائستہ زبان استعمال کرتا ہے۔ ٓآؤ مسلمانوں!سوچتے ہیں ۔ خوب سوچتے ہیں ۔ عقل و فکر کے چراغ روشن کرکے سوچتے ہیں ۔ دل و دماغ کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر کر سوچتے ہیں ۔ کیا فاطمہؓ ہماری ماں نہیں ، کیا نبی پاکؐ امت کے وہ روحانی باپ نہیں جن کی جوتی کی خاک پر ہمارے جننے والے باپ قربان۔ کیا ابوبکرؓ و عمرؓ ہمارے بزرگ نہیں ؟ کیا علی المرتضیٰؓ و ابو ہریرہؓ سرور کائناتؐ کے جگری یار نہیں ؟ کیا اس جہان رنگ و بو میں نبی پاکؐ کا مقدس خاندان دنیا جہان کے سارے خاندانوں میں اعلیٰ و ارفع نہیں ؟۔مسلمانوں! یاد رکھو زندگی کے چند روز سا دن کے بادلوں کی طرح گزر جائیں گے اور بالآخر وہ وقت آجائے گا، جب خدا کے فرشتے ہمارا چراغ بجھانے کیلئے آجائیں گے۔۔۔ جب جسم ڈھیلا پڑ جائے گا۔۔۔ جب آنکھیں پلٹ جائیں گے۔۔۔ جب نتھنے پھیل جائیں گے۔۔۔جب سانس اکھڑ جائے گا۔۔۔ جب گردن ایک طرف لڑھک جائے گی۔۔۔ جب موت کی ہچکیاں لگیں گی۔۔۔ جب روح جسم سے پرواز کر جائے گی۔۔۔ اور ہمارا ناز و نعم سے پلا ہوا جسم بے جان پتھر کی طرح پڑا ہوگا اور ہم اپنے چہرے سے مکھی اڑانے سے بھی قاصر ہوں گے۔۔۔ اور پھر ہر مرنے والے کی طرح ہمیں بھی پیوند زمین کر دیا جائے گا۔۔۔ قیامت کی صبح کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔۔۔ پھر حشر کامیدان ہوگا۔۔ ۔ سورج انگارے اگل رہا ہوگا۔۔۔ تپتی ہوئی زمین ہوگی۔۔۔ گرمی کی ہولناکیاں و سفاکیاں ہوں گی۔۔۔ ہر کوئی اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ڈوبا ہوا ہوگا۔۔۔ بھوک کی شدت سے انسان اپنا گوشت کھا رہے ہوں گے۔۔۔ شدت پیاس سے زبان بے آب کی طرح تڑپ رہی ہوگی۔۔۔ دیگر انسانوں کی طرح اس روز ہم بھی نفسی نفسی پکار رہے ہوں گے۔۔۔ اس روز ہمارے یار دوست سب چھوڑ جائیں گے۔۔۔ ہماری اولاد ہمارے سائے سے بھاگے گی۔۔۔ ہمارے نوکر خدمت گار اس دن ہم سے چھین لئے جائیں گے ۔۔۔ ہماری دولت و ثروت اس روز ہمارے کام نہ آئے گی۔۔۔ غرضیکہ اس روزہم بے بس و بے کس ہوں گے۔۔۔ جب اس عالم کسمپرسی میں ہم شافع محشر ساقی کوثر ؐ کے دربار میں حاضر ہوں گے اور جب سرور کائنات ؐ ہم سے سوال کریں گے کہ تمہارے سامنے میری نبوت و رسالت پر ڈاکہ زنی ہوتی رہی تم نے کیا کیا؟ میری شان میں گستاخی ہوتی رہی تم نے کیا کیا ؟ سرور کائناتؐ کے امتیوں! ! کیا ہمارے پاس ان سوالوں کے جواب ہیں ؟ کیا ہم ان سوالوں کی تیاری کر رکھی ہے ؟ وقت کے ہر لمحے کو مہلت جانئے ورنہ موت کے بعد کوئی مہلت نہیں اور یاد رکھو اگر حشر کے میدان میں شافع محشرؐ ہم سے اپنا رُخ انور پھیر لیا توہم پھر کس کے پاس جا کر شفاعت کا سوال کریں گے؟ اگر رحمت اللعالمین ؐ ہم سے روٹھ گئے تو پھر کس کے دامن رحمت میں ہمیں پناہ ملے گی؟ اگر ساقی کوثر ؐ ہم سے خفا ہوگئے تو پھر کہاں جا کر ہم اپنی پیاس کے انگارے بجھائیں گے؟ محسن انسانیت ؐ کے امتیوں !! آج محبت رسول ؐ ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم تاج و تخت ختم نبوت کی پاسبانی و نگہبانی کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ ملت اسلامیہ کے نوجوانوں!! اپنی لہکتی ہوئی جوانیاں تحفظ ختم نبوت و ناموس رسالت کے لئے وقف کر دو۔ اہل دولت و ثروت کا فرض ہے کہ اپنے مال کا ایک حصہ تحفظ ختم نبوت کیلئے وقف کر دیں۔ اہل قلم حضرات فتنہ گستاخان کی سر کوبی کیلئے قلم سے تلوار کا کا م لیں۔ مقررین حضرات اپنی شعلہ نوائیاں ، اپنی فصاحت و بلاغت ، اپنا علم و عرفان تحفظ ختم نبوت کے لئے مختص کریں۔ طلبہ کو چاہئے کہ نئی نسل کو گستاخان کے زہر سے محفوظ رکھنے کیلئے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ختم نبوت کے ذیشان موضوع پر لیکچرز کا اہتمام کریں، تاکہ ہماری نئی نسل زیور تعلیم ختم نبوت سے آراستہ ہو سکے اور مجاہدین ختم نبوت کی ایک فوج ان اداروں سے تیار ہوکر نکلے ۔ وکلاء کا فرض ہے کہ عدالت کے ایوانوں میں ختم نبوت کا ڈنکا بجا دیں ۔ علماء کا فرض ہے کہ ملت اسلامیہ میں اتحاد و اتفاق کی فضا پیدا کر دیں تاکہ گستاخان رسول ، نبوت کے دعویدار رخنہ ڈال کر امت مسلمہ کی صفوں میں کوئی انتشار پید اکرکے کسی قسم کا کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکیں اور عوام الناس کا یہ فرض ہے کہ کم از کم گستاخان رسول کی شدید الفاظ میں مذمت کریں اور ان کا معاشرتی ، سماجی بائیکاٹ کر کے دینی غیرت و حمیت کا ثبوت دیں تاکہ حشر کے میدان میں آقائے دو عالم ﷺ کے سامنے سرخرو ہوسکے اور شفاعت محمدیﷺ کے مستحق بنیں ۔ رب العزت ہمیں محبت مصطفیؐ سے لبریز یہ عمل صالح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں