مضامین

دادبیداد ۔۔۔۔۔ایک اور تما شا ۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم جے آئی ٹی ( JIT) کو بھی تما شا بنا یا گیا ہے اور یہ نیا تما شا ہے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ طاہر داوڑ شہید کے ور ثا ءنے جے آئی ٹی کی تفتیش کے عمل کو مسترد کر دیا ہے مو لانا سمیع الحق شہید کے ور ثانے جے آئی ٹی کی طرف سے سیشن جج کی وساطت سے شہید کی قبر کشائی (Exumation) سے انکار کر دیا ہے اگر چہ وجو ہات الگ الگ ہیں تا ہم دو نوں نے جے آئی ٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کیاہے وطن عزیز میں کسی جرم کی تفتیش کے لئے جا ئنٹ انو سٹی گیشن ٹیم بنا نے کا طریقہ بھی عوام کے اعتماد پر پو رانہ اتر ا، پورا کیوں نہیں اترا؟ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ما ضی قریب میں جے آئی ٹی کی تفتیش کا برُا حشر ہوا ہے "کھو دا پہاڑ نکلا چو ہا”والی بات سامنے آئی ہے اعظم سواتی کیس میں جے آئی ٹی بنی، پھر رپورٹ آئی اعظم سواتی رپورٹ کو ماننے سے انکار کر رہا ہے پا نامہ کیس میں جے آئی ٹی بنی 10صندوقوں میں رپورٹ مرتب کر کے عدالت لائی گئی 9صندوقوں میں سے کچھ بھی ہاتھ نہ آیا دسویں صندوق سے اقامہ نکل آیا اور جرم ثا بت ہو اکہ بیٹے نے باپ کے لئے تنخوا مقر ر کی باپ نے وہ تنخوا وصول نہیں کی اس طرح کے بے شمار لطیفے سننے میںآئے اس لئے جے آئی ٹی پر سے عوام کا اعتماد اُٹھ گیا اس سے پہلے کمیشن ،کمیٹی اور عدالتی تحقیقات سے عوام کا اعتماد اُٹھ گیا تھا محترمہ بے نظیر بھٹو قتل کیس میں تو غضب ہو گیا سکاٹ لینڈ یارڈ اور اقوام متحدہ کی انوسٹی گیشن پربھی اعتماد کرنے کی گنجائش نہےں رہی جنرل ضیاءالحق اور 29جر نیلوں کی شہادت کے مقدمے کا ریکارڈ یہ بتا تا ہے کہ امریکہ کی اعلیٰ اختیاراتی ٹیم آئی پاکستان کا پیسہ کھا یا تفتیش کیا نتیجہ صفر رہا لیاقت علی خان اور حیات محمد شیر پاﺅ قتل کیس بھی اسی طرح "مٹی پاﺅ”کھاتے میں ڈوب گئے مغلوں اور انگرےز وں کے دور سے ےہ طرےقہ واردات چلی آرہی ہے کہ حکومت جس چےز کی تحقےق کر نا نہےں چاہتی اُس چےز کے لئے جرگہ، کمےٹی ، کمےشن وغےر ہ بنا تی ہے سعادت حسن منٹو کا افسانہ” کمےشن“ اسی موضو ع کا احاطہ کر تا ہے منٹو کا قلم بے مثال ہے اُن کا ہر جملہ اےک شعر ےا مصرعے کی طرح کا ٹ دار اور طرح دار ہے کمےشن کا پلاٹ بے جان ہے مگر منٹو کے قلم نے اس کو جاندار بنا دےا دھو بےوں نے بادشاہ کی خدمت مےں التجا کی کہ حضور والا کے دےوان سے ان کی مزدوری روک دی گئی ہے فاقوں پر فاقے کر نے کی نوبت آئی ہے ہمارے حال پر رحم فرما ےا جائے حضور فےض گنجور نے کمےشن مقرر کر کے کمےشن کو ہداےت کی کہ دھو بےوں کی کتنی مزدوری بنتی ہے ؟ اور کےوں ادا نہےں ہوئی ؟ کب سے ادا نہےں ہوئی ؟ کتنی ادائےگی ہونی چاہےے اور کب ادا ئےگی ہونی چاہےے؟ کمےشن کو دفتر دےا گےا اور کمےشن نے بڑے طمطراق سے اپنا کام شروع کےا دھوبی فاقے کرتے رہے اےک عرصہ بےت گےا بادشاہ کا اکلوٹا بےٹا شکار پر نکلا اُس کا گذر دھو بےوں کی بستی پر ہوا دےکھا تو ہڈےوں کے چلتے پھر تے ڈھا نچے نظر آئے اپنے استاد، مےر شکار سے تےر کمان مانگااور اےک ڈھا نچے پر تےر چلا ےا ڈھا نچے نے چےخ ماری اور اس کی جان نکل گئی شہزادے کو لطف آےا کما ن مےں جتنے تےر تھے سب کو آزماےا دھو بےوں کی بستی خالی ہو گئی جس دھو بی نے بادشاہ کے دربار مےںآکر درخواست پےش کی تھی وہ بھی جان سے گےا اس واقعے کو بھی ز مانہ بےت گےا اےک دن بادشاہ کے در بار مےں کمےشن کا سربراہ آےا اور رودار پےش کر تے ہوئے عرض کےا کہ دھو بےوںکی مزدوری ادا نہےں ہو ئی ان کا حق بنتا ہے اتنی رقم ہے اتنے ماہ و سال کی ادا ئےگی ہے اگر حضور غرےب پرو ری کر ےنگے تو فوری ادا ئےگی سے دھو بےوں کا بھلا ہو گا عالےجا ہ کو دعا ئےں دےنگے بادشاہ سلامت نے حکم دےا دھو بی کو حاضر کےا جائے کو تو ال نے ماجر ا بےان کےا کہ دھو بےو ں کا محلہ اُس دن صاف ہو گےا تھا جس دن ولےعہد شہزادہ پہلے شکار پہ با ہر نکلے تھے مےر شکار نے تصدےق کی بادشاہ نے کمےشن کے سر براہ کو شاباش دی اور انعام واکرام کے ساتھ رخصت کےا ہماری بد قسمتی ےہ ہے کہ سائنس اور ٹےکنالوجی کی حےرت انگےز ترقی اور تفتےشی عمل مےں تعجب خےز آسانی کے باو جود ہمارے ہاں کسی بھی جرم کی تسلی بخش تفتےش نہےں ہوتی جن لوگوں کو گرفتار کر کے پولےس اپنی کارگردی دکھا تی ہے وہ لوگ جےلوں مےں 8 سال ےا 10 سال گذار نے کے بعد با عزت بری ہو جاتے ہےں وجہ کےا ہے ؟ وجہ ےہ ہے کہ ہر جرم مےں بڑے لوگ ملوث ہوتے ہےں ہر جرم کی تفتےش کسی بڑے کے دروازے پر جاکر رُک جاتی ہے اےک رےٹا ئر ڈ پولےس افےسر نے بڑی مجلس مےںبتا ےا کہ بڑے جرم مےں موقع واردات سے چار آدمی بمعہ آلہ قتل پکڑے گئے اخباری زبان مےں مجر موں کو” ر نگے ہاتھوں“ گرفتار کر کے ہم خوش ہوئے رات کو بڑے صاحب کا فون آےا بڑے ملزم کو چھوڑ دےنے کا حکم ہوا تھوڑی دےر بعد اےک اور ©©©” بڑے صاحب “ خود آگئے دو ملزموں کو چھڑ ا کر ساتھ لے گئے اےک بند ہ رہ گےا ،ہم نے اس کو نامزد کر وادےا 10 سال بعد وہ باعزت بری ہوا رےٹا ئر ڈ پولےس افسر کی کہانی مےں تفتےش کا خلاصہ ہے جے آئی ٹی ہو ، سکا ٹ لےنڈ ےارڈ ہو ےا اقوام متحدہ کی ٹےم ہو اُس کا سامنا کسی نہ کسی ” بڑے صاحب“ سے ہوتا ہے پھر بقول علامہ اقبال
کےا دبد بہ تےموری کےا شوکت نادری
ہو تے ہےں سب دفتر غرقِ مئے ناب آخر
تفتےش اےک آدمی کو دےد و اور اس کو اختےا ر دےد و پھر دےکھو مجرم کےسے پکڑ ے جا تے ہےں ہر دور مےںتفتےشی ٹےم ” بڑے صاحب “ کے حکم کا محتاج بنا ےا جاتا ہے اور ” بڑا صاحب “ تفتےش کے ہر عمل کو جان بوجھ کھوٹا کر دےتا ہے کےونکہ اُس کی بقا اسی مےں ہے شہےد طاہر داوڑ کی شہادت کے سانحے پر بننے والی جے آئی ٹی کو ” اےک اور تما شا “ نہ کہےں تو بھلا ہم کےا نام دےد ےں ع تما م شہر نے پہنے ہےں دستانے

Related Articles

Back to top button