مضامین

داد بیداد۔۔۔۔۔وضعدار افیسر علی اکبر خان۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

علی اکبر خان ایسی وضعدار شخصیت کا نا م ہے جو اگر افیسر نہ ہوتا تب بھی جا ننے والوں میں اس کو عزت اور احترام ملتا اپنی افتاد طبع کے لحاظ سے وہ عزت واحترام کے لائق تھا نفسیات دانوں نے انسان کی نفسیات میں دو خو بیوں کا بار بار ذکر کیا ہے بعض لو گ مجلس باز یعنی ایکسٹرو رٹ (Extrovert) ہوتے ہیں شورو غل کو پسند کر تے ہیں ان کے مقا بلے میں وہ لو گ ہیں جو خلوت پسند یعنی انٹرو ورٹ (Introvert) ہو تے ہیں تنہا ئی اور خا مو شی کو پسند کرتے ہیں علی اکبر خان نفسیا تی خو بی کے لحاظ سے خلوت پسند تھے خا مو شی اور تنہا ئی کو پسند کر تے تھے اس عادت نے ان کو عالمی ادب کے مطا لعے کا رسیا بنا دیا چنا نچہ غا لب اور اقبال سے لیکر حا فظ، سعدی، رومی تک مشرقی ادب کو پڑھا پھر جان ملٹن سے لیکر جا رج برنارڈ شاہ تک مغر بی ادب کو پڑھا اسلا می تاریخ پر عبورحا صل کیا، برصغیر کی تاریخ کو پڑھا چینی، بر طانوی اور امریکی تاریخ پر دسترس بہم پہنچا ئی وہ گفتگو کر تے تو ان کے علم پر ہم جیسوں کو بجا طور پر رشک آتا تھا خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں ان کا حلقہ احباب علم و ادب کے چند اہم ناموں کے گرد گھومتا تھا ان میں غلا م عمر، شہزادہ اسد الرحمن، شہزادہ فخر الملک اور پو لیس افیسر شاہ جی عیسیٰ ولی شاہ نما یاں تھے جو مشرقی ادیبیات کے بڑے بڑے لکھا ریوں کے خو شہ چین تھے، عمر خیام کے بارے میں علی اکبر خان کا نظریہ شہزادہ اسد الرحمن کے نظریے سے ملتا تھا دونوں عمر خیام کو رند بلا نو ش کے بجا ئے عارف، صو فی اور زاہد مانتے تھے خمریات کا مضمون ان کے ہاں استعارے کے طور پر آتا ہے مولانا رومی کو دونوں دوست خوا جہ حا فظ پر فو قیت دیتے تھے جبکہ شاہ جی خوا جہ حا فظ کے عاشق تھے، علی اکبر خان کے والدگرامی صوبیدا ر علی حرمت خان ریا ستی نظام کے عہد یدار تھے جہاں دیدہ شخص تھے انہوں نے افغانستان، وسطی ایشیا اور چینی ترکستان کی سیا حت کی تھی، ان کی شادی بھی واخان کو ریڈو ر میں ہوئی تھی علی اکبر خان کی عمر 7سال ہوئی تو گھر پر پڑھنے والے اسباق پورے ہوئے گاوں کے قریب کوئی سکول نہیں تھا قریبی سکول دریا کے پار 3کلو میٹر کے فاصلے پر واقع بریپ کا نیا پرائمیری سکول تھا، یہ 1949کا ذکر ہے باپ نے ہمت کر کے بیٹے کو اپنی پیٹھ پر سوار کر کے دریا کو تیر تے ہوئے عبور کیا اور بیٹے کو پرائمیری سکول میں داخل کیا پھر یہ روز انہ کا معمول بن گیا اکتو بر 1988ء میں علی حرمت خان مرحوم نے اپنے گھر پر ایک ملا قات میں بتایا کہ چو تھی جما عت تک یہ معمول چلتا رہا، چوتھی جما عت میں علی اکبر خان خود ما ہر تیراک بنا، وہ خود تیر کر دریا پار کر تا، مگر باپ اسکو اکیلے نہ چھوڑ تا خو دبھی اس کا ساتھ دیتا، پا نچویں جما عت پا س کیا تو باپ نے سو چا واحد مڈل سکول دو دن کی پیدل مسافت پر بونی کے قصبے میں واقع ہے، دوسرا عجو بہ خیال میں آیا بو نی میں بیٹے کی شادی کر دی اور بیٹے کو مڈل سکول میں داخل کر کے اس کے سسر سردار امان کی سر پر ستی میں دیدیا اس طرح مڈل پاس کر نے کے بعد انکو چار دن کے پیدل سفر کی مسا فت پر واحد سکول سٹیٹ ہائی سکول چترال میں داخل کیا ابتدائی تعلیم کا یہ سفر آج کل کے نو جوانوں کو خواب کی طرح محسوس ہوگا مگر یہ سچا واقعہ ہے 29اپریل 2026کو جب یہ خبر آئی کہ علی اکبر خان86سال کی عمرمیں وفات پا گئیے تو ہیڈ ماسٹر اور پرنسپل سے لیکر ڈسٹرکٹ ایجو کیشن افیسر تک ان کا پیشہ ورانہ سفر یا د آیا 1975ء میں انہوں نے پبلک سروس کمیشن کا امتحا ن پا س کر کے ہیڈ ماسٹر کی پوسٹ حا صل کی تو پہلی بار ان کا نا م پورے ضلع میں مشہور ہوا جو لوگ ان کے قریب رہے اور جن لو گوں کا ان سے واسطہ پڑا وہ 6باتوں کی شہادت دیتے ہیں ان کا دامن صاف تھا نیک نا می میں وہ بے مثال تھے، وصفداری ان کی اہم صفت تھی، رکھ رکھاؤ میں وہ لکھنو اور دہلی کے شرفا کے ہم پلہ تھے نہا یت بے ضرر اور بے آزار افیسر تھے نہ کسی ما تحت یا ہم پلہ افیسر کو ایذا پہنچائی نہ کسی سائل اور ملا قاتی کو کبھی شکا یت کا موقع دیا، دفتری ڈسپلن کے سخت پا بند تھے تاہم طلبا ء کو وی آئی پی کا درجہ دیتے تھے اپنی اولاد کی طرح شاگرد وں سے محبت کر تے تھے وہ کہتے تھے افیسر بننا آسان ہے افسری نبھا نا مشکل ہے ان کا وطیرہ شاعر کے بقول یہ تھا کہ
میری زبان و قلم سے کسی کا دل نہ دکھے
کسی کو شکا یت مجھ سے زیر آسمان نہ ہو
چنا نچہ وہ زبان اور قلم پر کوئی جملہ یا لفظ لا نے سے پہلے بار بار سوچتے کمال درجہ احتیاط سے کام لیتے اور جب بولتے یا لکھتے تو لفظوں سے خو شبو آتی تھی اللہ پا ک ان کی اخروی زند گی کو راحتوں اور نعمتوں سے مزین کر ے آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button