مضامین
صدا بصحرا ۔۔۔۔تاریخ نویسی میں علماء کا حصہ ۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی


اسی طرح ریا ست چترال کے سماجی طبقات کا باب بھی متنا زعہ مو ضو عات میں شامل ہے مثال کے طور پر طبقاتی نظام میں ایک گروہ کو ’’ آدم زادہ ‘‘ قرار دے کر ’’ بر ہمن ‘‘ کا درجہ دیا گیاتھا دیگر طبقوں کو چھیر مو ژ ، خا نہ زاد ، اور رایت کا نا م دے کر اچھوت قرار دیا جا تا تھا اس حساس مو ضوع کو چھیڑ تے ہوئے مصنف نے مختلف طبقوں کی حساسیت کا خیال رکھا ہے مثال کے طور پر یُفت کے لئے ارباب زادہ کی اصطلاح استعمال کر کے اس طبقے کو آدم زادہ کے پہلومیں جگہ دی ہے آزادی کی تحریکو ں میں ایک خا مو ش تحریک کا بھی ذکر کیا ہے مصنف کی تحقیق کے مطا بق علی گڑ ھ میں چترال کے پہلے طا لب علم غلا م مصطفے ٰ 1910ء میں تعلیم مکمل کر کے چترال واپس آئے تو انہیں متہر چترال کا سکرٹری اور شہزادوں کا استاد مقرر کیا گیا غلام مصطفےٰ نے ولی عہد شہزادہ نا صر الملک کو بغاوت پر اکسا یا ، اُن کے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ ریا ست بھی نہیں رہے گی ، انگریز بھی ملک چھوڑ کر چلا جائے گا عوام پر ظلم نہیں کر نا چا ہئیے انہوں نے علی گڑھ سے جو تحریکی ذہن پا یا تھا وہ تحریکی ذہن 1924ء میں سفرحج کے دوران ارض مقدس میں ان کی وفات تک بے قراری سے مچلتا رہا انہوں نے ریا ستی جبر اور انگریزوں سے آزادی کے خلاف باغیوں کا ایک خا مو ش گروہ تیا ر کیا تھا یہ خا مو ش گروہ 1969ء تک منظم اور فعال رہا اگر ڈاکٹر محمد یو نس خا لد کی تحقیقی کا وش کو تاریخ کے تنا ظر میں دیکھا جائے تو فن تاریخ نویسی میں طبری ، ابن جریر اور مسعودی سے لیکر مو لا نا شبلی نغمانی تک علمائے دین کی لمبی فہرست سامنے �آجا تی ہے ریا ست چترال کی تاریخ پر جو مستند ما خذات ملتے ہیں وہ بھی دو جیّد علماء محمد سیر اور محمد غفران کی لکھی ہوئی کتا بیں ہیں عالم دین محمد سیر نے 1840ء تک کے وا قعات اور جنگوں کو شاہنامہ چترال کے نا م سے فارسی نظم میں قلمبند کیا محمد غفران نے 1926ء تک کے وا قعات اور حا لات کو فارسی نثر میں لکھا یوں چترال کی تاریخ کے دواہم ما خذات علمائے دین کے قلم سے لکھے ہوئے شہکار ہیں اس حوالے سے ڈاکٹر محمد یو نس خا لد تیسرے عا لم دین ہیں جنہوں نے تاریخ چترال کے کئی پو شیدہ گو شوں سے پر دہ اُٹھا یا ہے کتاب کا وہ حصہ بہت دلچسپ ہے جس میں اگست 1982ء کی بدامنی اور مو لانا عبید اللہ شہید کی تحریک کے اسباب ، وا قعات اور اثرات و نتا ئج پر بحث کی گئی ہے نیز 1956ء سے 2018ء تک قو می انتخابات میں کامیاب اُمید واروں کی پوری فہرستیں دی گئی ہیں اور بتایا ہے کہ پا کستان پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ، جما عت اسلامی اور جمیعتہ العلمائے اسلام نے کتنی بار چترال سے قومی اور صو بائی اسمبلی کی نشستیں حا صل کیں خوبصورت گر دپوش کے ساتھ مجلد کتاب کی قیمت 400روپے رکھی گئی ہے کا م کے مقا بلے میں دام زیادہ نہیں بسام رسیرچ پبلی کیشنز کراچی سے جنوری 2019ء میں شائع ہو نے والی کتاب ما رکیٹ میں دستیاب ہے عام قاری سے لیکر امتحا نات کی تیاری کرنے والوں تک سب کے لئے مفید ہے خاص کر محقق کے لئے بنیادی ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے