مضامین

دادبیداد…….​ شوشہ اور ٹانکا…….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

​شوشہ چھوڑا گیا ہے کہ وطنِ عزیز پاکستان کو 18 یا 22 یا 35 یا اس سے بھی زیادہ انتظامی یونٹوں میں تقسیم کر کے سسٹم کو گرنے سے بچایا جائے۔ شوشہ منظرِ عام پر آنے کے بعد سسٹم کو خطرہ پیدا ہوا، غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہوئی، افرا تفری مچائی گئی، عالمی نشریاتی ادارے کے سینئر صحافی نے سوال اٹھایا کہ ایک آدمی نے سسٹم کو چیلنج کیا ہے حکومت کا وجود خطرے کی زد میں آیا ہے مگر حکومت کے اندر اطلاعات کی وزارت کے بڑے بڑے حکام، جو نان اِلیٹوز پر ہر روز بیانات کے ڈھیر لگاتے تھے، اس مسئلے پر حکومت کا موقف صاف اور دانشمندانہ الفاظ میں کیوں پیش نہیں کرتے؟ دیہاتی زبان میں اس کو "ٹھنکا لگانا” کہتے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت کے ترجمان آگے آ کر ٹانکا کیوں نہیں لگاتے؟ پہلی بات یہ ہے کہ شوشہ حکومت کے سب سے طاقتور وزیر نے چھوڑا ہے، اس پر ٹانکا لگانا آسان نہیں بڑا ٹانکا لگے گا۔ انگریزوں کی نو آبادیاتی حکومت کا دور تھا، کسی نواب صاحب کے ہاں ایک درخواست گزار آیا، وہ نواب صاحب کے ہاں نوکری کا طلب گار تھا۔ نواب صاحب نے کہا: "تم پہلے کہاں نوکری کیا کرتے تھے؟” اس نے ایک مرحوم نواب کا نام لیا کہ ان کے ہاں خاص ڈیوٹی پر مامور تھا…
​نواب صاحب نے پوچھا: "خاص ڈیوٹی کیا تھی؟” اس نے کہا: "نواب صاحب کسی بات کو بھول جاتے تو میں موقع پر ٹانکا لگایا کرتا تھا۔ مرحوم نواب صاحب خوش ہوتے تھے اور مجھے انعام دیا کرتے تھے۔” موجودہ نواب نے کہا: "تم تو بڑے کام کے آدمی ہو، کل انگریز افسر کی دعوت ہے، وہ آئیں توتم میرے قریب رہنا،ضرورت پڑے تو تانکا لگانا ہم بھی دیکھیں گے  تم کیسے ٹانکا لگاتے ہو۔” اگلے روز انگریز افسر آیا ہوا تھا، شکار کا شوقین تھا، نواب صاحب نے شکار کا گوشت پکایا تھا کھانے کی میز پر نواب صاحب نے پکوانوں کا زکر کرتے ہوئے کہا: "یہ ہرن کا گوشت ہے، یہ تتروں کا، یہ مرغابی کا گوشت ہے، یہ چکور کا گوشت ہے، دن میں ہم نے یہ تین شکار کیے؟” انگریز نے پوچھا: "کتنے فائر میں؟” "ہم نے ایک ہی گولی سے تینوں کا شکار کیا تھا!” انگریز نے حیران ہو کر کندھے اچکاتے ہوئے پوچھا: "واٹ؟؟ ایک ہی گولی سے تینوں کا شکار؟؟ یہ تو بڑے تعجب کی بات ہے، میں کیسے یقین کر لوں؟” اب ٹانکا لگانے والے کی باری آئی، اس نے ٹانکا لگاتے ہوئے کہا: "دراصل بات یہ ہے کہ ہرن لیٹا ہوا تھا اور چکور پاس چرنے چگنے میں محو تھا، جب نواب صاحب نے فائر کیا تو مرغابی اڑتی ہوئی گزری، جنابِ عالی! گولی تینوں کو لگی۔”
​انگریز نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا: "او، آئی سی”، یعنی "اب سمجھ میں آ گئی”۔ دعوتِ بخیر گزری تو ٹانکا لگانے والے کو نواب صاحب نے انعامات سے نوازا، مگر انہوں نے نواب صاحب سے اجازت مانگی کہ میں کہیں اور جا کر روزگار تلاش کروں گا۔ نواب صاحب نے کہا: "کیوں بھائی! تم اتنے کارآمد آدمی ہو، یہیں رکو، نوکری کرو، ٹانکے لگایا کرو۔” وہ بولا: "نواب صاحب! یہاں بڑے بڑے ٹانکے لگانے پڑتے ہیں، کسی روز ٹانکا لگانے والے کی شامت نہ آجائے!” عالمی نشریاتی ادارے کے سینئر صحافی کا سوال بجا تھا، ہم نے ٹانکا لگانے والے کی مجبوری اور معذوری کا قصہ سنایا تو وہ بھی قائل ہوئے جہاں بڑے بڑے ٹانکے لگانے کی ضرورت ہو، وہ ٹانکا لگانے والوں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے، موجودہ شوشہ ایسا ہی شوشہ ہے جس پر کسی بھی نواب کا ترجمان ٹانکا نہیں لگا سکتا، شوشہ چھوڑنے والا کہتا ہے کہ "سسٹم” گرنے کے قریب ہے حالانکہ وہ خود سسٹم کا ستون ہے، جب ستون اپنی عمارت کو گرانا چاہتا ہے تو ظاہر ہے عمارت گر جائے گی، ستون خود کو بچائے گا اور کسی نئی عمارت کو ایسا ہی سہارا دے گا جیسا اس نے گرنے والی عمارت کو سہارا دیا ہوا ہے، اس پر​ہمیں گراموفون ریکارڈ پر وفادار جانور کی وہ تصویر یاد آتی ہے جس پر لکھا ہوتا تھا "اپنے آقا کی آواز میں”، شوشہ جیسا بھی ہو، جہاں بھی ہو اپنے آقا کی آواز میں ہی چھوڑا جاتا ہے، انگریزی میں اس کو فیلر (Feeler) بھی کہتے ہیں، ‘پلس ریڈنگ’ (Pulse reading) بھی کہتے ہیں، آقا جب چاہتا ہے ایک شوشہ چھوڑ کر اس کی زد میں آنے والوں کا ردِ عمل معلوم کرتا ہے، ردِ عمل مثبت ہو تو اگلا شوشہ چھوڑتا ہے، ردِ عمل منفی ہو تو پٹڑی بدل لیتا ہے،  کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا، بہت غریب پرور تھا، ایک روز اس نے حکم دیا کہ دریا کے پل پر ناکہ لگا کر ایک سپاہی مقرر کیا جائے، وہ ہر گزرنے والے کو ٹھپڑ مار کر ایک اشرفی ٹیکس وصول کرے، پھر ناکہ کھول کر پل پر سے گزرنے کی اجازت دے۔ بادشاہ نے چند روز رعایا کی طرف سے کسی ردِ عمل کا انتظار کیا مگر کوئی ردِ عمل نہیں آیا، ایک دن بادشاہ خود پل کے دوسرے کنارے ​پر گیا اور لمبی قطار میں کھڑے ہو کر تھپڑ کھانے اور ٹیکس دینے کے لیے اپنی باری کا انتظار کرنے والوں سے پوچھا: "کوئی مسئلہ تو نہیں ہے؟” انہوں نے بیک آواز التجا کی: "عالیجاہ! اگر آپ رحم فرما کر غریب پروری کا مظاہرہ کر کے سپاہیوں کی تعداد بڑھا دیں تو ہمیں لمبی قطار میں کھڑے ہو کر باری کا انتظار کرنا نہیں پڑے گا۔” بادشاہ نے رعایا کی التجا منظور کرتے ہوئے ایک کی جگہ دس سپاہی مقرر کر دیے، ایک کی جگہ دو ٹھپڑ اور دو اشرفی ٹیکس وصول کرنے کا حکم دیا۔
​موجودہ شوشہ بھی ایسا ہی ہے، اس وقت رعایا 6 اسمبلیوں کے 1300 ممبروں کی تنخواہ، مراعات، کمیشن اور کرپشن کا بوجھ اٹھانے کے لیے ٹیکس ادا کرتی ہے، جوماہانہ 180 ارب مالیت کے برابر ہے، 35 صوبوں کی اسمبلیوں، وزیروں اور دیگر حکمرانوں کا پیٹ بھرنے کے لیے 2 ہزار ارب یعنی دو کھرب روپے ماہانہ ٹیکس دیا کریگی، سسٹم نہیں گرے گا، سسٹم کے نیچے دب کر رعایا بے موت مرے گی، نہ رہے بانس، نہ بجے بانسری، یہ ہے شوشہ اور یہ اس کا ٹانکا!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button