خواتین کا صفحہمضامین

حکایتِ آتش و دستِ غرور۔۔۔۔۔۔ڈاکٹرشاکرہ نندنی

اانسان کے اندر ایک خاموش دنیا آباد ہوتی ہے، جہاں خواہش، خوف، محبت اور غرور ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ کبھی یہی غرور اتنا بڑھ جاتا ہے کہ انسان اپنی دولت، طاقت اور حیثیت کو اپنی اصل سمجھ بیٹھتا ہے۔
مگر زندگی کا ایک گہرا اصول ہے: جو چیز ہمیں دوسروں سے بلند دکھاتی ہے، وہی کبھی کبھی ہمیں اندر سے خالی کر دیتی ہے۔
دولت آسائش دے سکتی ہے، سکون نہیں۔ طاقت راستے کھول سکتی ہے، مگر دلوں کے دروازے نہیں۔ انسان دنیا کو متاثر کرتے کرتے یہ بھول جاتا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ تنہائی میں اس کا اپنا باطن اس کے بارے میں کیا کہتا ہے۔
بعض آگیں باہر نہیں جلتی وہ انسان کے اندر پیدا ہوتی ہیں۔ حسد، غصہ، انتقام اور تکبر ان کے ایندھن بنتے ہیں۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ دوسروں کو سزا دے رہا ہے، مگر اکثر وہ خود ہی اس آگ کا پہلا شکار ہوتا ہے۔
ہم جو کچھ دوسروں کو دیتے ہیں، اس کا ایک حصہ ہمارے اندر بھی جمع ہوتا رہتا ہے۔ نفرت دل کو تنگ کرتی ہے، محبت اسے وسیع۔ تحقیر انسان کو چھوٹا کرتی ہے، رحم اسے بڑا بناتا ہے۔
روحانیت شاید اسی مقام سے شروع ہوتی ہے جہاں انسان اپنے اندر کے اندھیرے کو پہچان لیتا ہے۔ اسے سمجھ آتا ہے کہ اصل طاقت کسی کو دبانے میں نہیں، بلکہ طاقت رکھتے ہوئے بھی نرم رہنے میں ہے۔
آخرکار زندگی ہم سے پوچھتی ہے:
تم نے اپنے ہاتھوں سے کیا بنایا؟ دیواریں یا پل؟ خوف یا اعتماد؟
انسان اپنے نام، مال اور شور کو ہمیشہ ساتھ نہیں لے جاتا۔ آخر میں صرف وہ اثر باقی رہتا ہے جو اس نے دوسروں کے دلوں پر چھوڑا۔
اور شاید روح کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ ہماری یاد کسی زخمی دل کی وجہ سے نہیں، بلکہ کسی روشن دل کی وجہ سے زندہ رہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button