تازہ ترین
صوبائی لیڈی ہیلتھ ورکرزایسوسی ایشن کی کال پرچترال میں ضلع بھرسے لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج


ڈبلیواورڈرائیورکامعاوضہ کم ازکم یومیہ ایک ہزاروپے مقررکیاجائے۔انہوں نے کہاکہ پشاورہائی کورٹ میں حکومت نے لیڈی ہیلتھ ورکرزپروگرام ایکٹ آرٹیکل 15اور17کے مطابق پروگرام کے ملازمین کوسینریٹی اورپروموشن دینے کاجواعلان کیاتھا اُسے پوراکیاجائے ۔گذشتہ کئی الیکشن میں ایل ایچ ڈبلیوزسے ڈیوٹی لیا جا رہا ہے مگرکوئی معاوضہ نہیں دی جارہی ہے ۔ انہوں نے دیگرسرکاری ملازموں کی طرح ہمیں بھی معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہاکہ گذشتہ دنوں ایون کے مقام پر لیڈی ہیلتھ ورکرکے ساتھ بدسلوکی کی گئی ہے جس کا نوٹس لیاجائے اور ایل ایچ ڈبلیوز کو سیکورٹی فراہم کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ مخدوش صورتحال میں بھی ورکرز گھر گھر جاکر بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتی ہیں اور کبھی بھی اپنی ذمہ داریوں سے کوتاہی نہیں کی۔ جس کا ثبوت یہ ہے۔ کہ چترال کئی سالوں سے پولیو فری ضلع ہے۔ انہوں نے حکومت کو دھمکی دی کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کے جائزمطالبات پرغورنہیں کیاگیا توصوبائی ہیلتھ ورکرز ایسو سی ایشن کی ہدایات پر 22اپریل کوشروع ہونے والے پولیو کا مکمل بائیکاٹ کیا جائیگا۔انہوں نے مطالبہ کیاہے کہ چترال کے مخصوص حالات کے پیش نظر اسپیشل کیس کے طور پر ان کو مراعات دیے جائیں۔ چترال میں ایک خاتون کیلئے گھر سے باہر کام کرنا بہت مشکل ہے۔ لیکن تنگ معاشی حالات کی بناپر اپنے جائزحقوق کیلئے احتجاج کرنے پرمجبورہوتے ہیں۔