تازہ ترین

مولانا محمد ادریس کے بہیمانہ قتل کے خلاف جمعیت علمائے اسلام اپر چترال کا نمازِ جمعہ کے بعد بونی چوک میں احتجاجی جلسہ، قاتلوں کی فوری گرفتاری اور عبرتناک سزا کا مطالبہ

معروف عالمِ دین اور جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی رہنما، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کے بہیمانہ قتل کے خلاف نمازِ جمعہ کے بعد جمعیت علمائے اسلام اپر چترال کے زیرِ اہتمام چوک بونی میں ایک احتجاجی جلسے کا انعقاد کیا گیا، جس میں جمعیت علمائے اسلام کے ذمہ داران سمیت دیگر افراد نے بھرپور شرکت کی۔احتجاجی جلسے کی صدارت امیرِ جمعیت علمائے اسلام اپر چترال مولانا محمد یوسف نے کی، جبکہ مقررین میں مولانا فدا الرحمن جنرل سیکریٹری جمعیت علمائے اسلام اپر چترال، مولانا محمد مراد گوہکیر، سابق امیر جماعتِ اسلامی مولانا جاوید حسین اور دیگر شامل تھے۔مقررین نے اپنی تقاریر میں جید علمائے کرام کے پے در پے قتل کو پاکستان اور اسلام کے خلاف گہری سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ علمائے کرام اسلام اور پاکستان کے محافظ رہے ہیں اور ہمیشہ محبت، رواداری اور بھائی چارے کا درس دیتے آئے ہیں۔ لیکن عرصۂ دراز سے جید علمائے کرام کو چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے، جو انتہائی تشویشناک امر ہے اور اسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔مقررین نے یکے بعد دیگرے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مملکتِ خداداد پاکستان میں اگر علماء محفوظ نہیں تو پاکستان کو اسلامی جمہوریہ کہنا ظلم کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق مولانا محمد ادریس کی شہادت کی ایک وجہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کے بلند حوصلے اور مثبت کردار کی تعریف کرنا تھی۔ مولانا شیخ محمد ادریس نے برملا طور پر فیلڈ مارشل کے کردار کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی ولولہ انگیز قیادت کے سبب پوری دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہوا۔ مقررین کے مطابق مولانا کا یہ مؤقف دہشت گرد تنظیموں، شرپسند عناصر اور پاکستان دشمن قوتوں کو ناگوار گزرا، جس کے نتیجے میں دن دہاڑے مولانا محمد ادریس کو شہید کر دیا گیا۔مقررین نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیوں سے علمائے حق کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ دہشت گرد، دہشت گرد ہوتے ہیں، چاہے انہیں کسی بھی نام سے پکارا جائے۔
سابق امیر جماعتِ اسلامی مولانا جاوید حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بنیاد کلمۂ طیبہ پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ اس ملک میں توہینِ رسالت، توہینِ مذہب اور علماء کے قتل جیسے واقعات رونما ہو رہے ہیں، لیکن کسی دہشت گرد قاتل کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔آخر میں صدرِ جلسہ مولانا محمد یوسف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مملکتِ خداداد پاکستان کا برا حال کر دیا گیا ہے؛ نہ یہ مکمل طور پر اسلامی رہا ہے اور نہ ہی جمہوری۔ ان کے مطابق جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے باہمی شراکت سے اس ملک پر قبضہ جما رکھا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں حکومت کی عملداری کہیں نظر نہیں آتی۔ دہشت گردی کے واقعات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اپر چترال میں صرف دو فرقوں کے لوگ آباد ہیں اور ہمارے پُرامن ماحول کو سوشل میڈیا کے ذریعے خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم صدیوں سے باہمی محبت، احترام اور ایک دوسرے کی اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے زندگی گزارتے آئے ہیں، لیکن اب ہمارے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لیے مختلف حربے آزمائے جا رہے ہیں، جن سے ہم بخوبی آگاہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ سب کچھ جاننے اور بار بار توجہ دلانے کے باوجود چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ اگر، خدانخواستہ، یہ پُرامن ماحول کسی ناخوشگوار واقعے کی نذر ہو گیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ لہٰذا حالات کی حساسیت کو نظر انداز کرنا کسی طور دانشمندی نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button