تازہ ترین
قومی اسمبلی میں سودوربا کے خلاف موثر آواز اٹھانا اور اس بارے میں بل جمع کرنا اہالیان چترال کے ووٹوں کا حق ادا کرناہے/مولاناچترالی


اس بل کو پیش کرنے میں معاونت فراہم کی ۔ چترال کی ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ان کا کہنا تھاکہ بروز تا گہیریت گاءوں تک ٹرانسفارمر وں کی تنصیب کے بعد بہت جلد ہی ان دیہات کو نیشنل گرڈ سے بجلی کی فراہمی شرو ع ہوگی جس پر 7کروڑ 88لاکھ روپے لاگت آئے گی جبکہ ان کی کاوشوں سے کالاش ویلی روڈ، گرم چشم روڈ اور چترال شندور روڈوں کو این ایچ اے کے سپرد کرنے کے احکامات جاری ہوگئے ہیں اور مواصلات ہی کے سیکٹر میں بونی بزند روڈ پر کام دوبارہ شروع کرنے کے لئے 80میلین روپے ریلیز ہوچکے ہیں جبکہ آنے والی بجٹ میں 200میلین روپے مزید طلب کئے گئے ہیں ۔ مولانا چترالی نے چترال کی ترقی کے حوالے سے وفاقی وزراء فروع نسیم، علی محمد خان، مراد سعید، عمر ایوب خان، پرویز خٹک، شہریار افریدی، زبیدہ جلال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ جب بھی انہوں نے چترال کے حوالے سے مسائل کو اسمبلی کے فلور پر پیش کیا تو انہوں نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہر ہ کیا اور ان کو سپورٹ کیا اور مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا جس کے لئے چترال کے عوام ان کے شکرگزار ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ رمضان المبارک کے فوراً بعد وزیر اعظم کے شکایات سیل کے انچارج علی محمد خان چترال کا دورہ کریں گے ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چترال شندور روڈ اوردوسرے روڈ پراجیکٹ سی پیک منصوبے کے تحت کئے جارہے ہیں جن میں وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کے مطابق نو ماہ لگ سکتے ہیں ۔