تازہ ترین
سیاحتی مقامات میں دریاؤں اورچشموں اورنالوں کے پانی کومحفوظ بنانے، پھیلانے والے ہوٹلز مالکان کے خلاف کارروائی کرنے کے فیصلے کاخیرمقدم


اورعوام ایون یہ پانی پینے پرمجبورہیں۔جبکہ کئی افراداس گندے پانی کے استعمال سے مختلف بیماریوں کاشکارہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہوٹلوں کے پاس ہزاروں سیاحوں کے فضلات اورکچروں کوٹھکانے لگانے کاکوئی انتظام نہیں اورنہ اب تک ضلعی انتظامیہ،محکمہ ہیلتھ کے ذمہ دارآفیسرزنے اس حوالے سے کوئی اقدام اٹھایاہے جس کی وجہ سے پانی کی گندگی میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔انہوں نے کہاکہ ویلج کونسل ایون ون نے اس حوالے سے متفقہ قرارداد کے ذریعے ڈپٹی کمشنر چترال اورڈی ایچ اوچترال سے فوری ایکشن لینے کامطالبہ کیاہے اوران سے اپیل کی ہے کہ صوبائی حکومت کے احکامات کے مطابق ہوٹلوں کواپنے فضلات،واش روم کاپانی اورکچرے ٹھکانے لگانے کے لئے مستقل بنیادوں پراقدامات کرنے کاپابندبنائیں اوربذات خودویزٹ کرکے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کریں۔انہوں نے وادی بمبوریت اوررمبورمیں ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کی ضرورت پربھی زوردیا۔