تازہ ترین
لواری ٹنل کے دونوں طرف خواتین کیلئےویٹنگ رومز اور واش رومز کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ


جیسے سیاحتی مقام پر واش روم کی عدم دستیابی اس کی واضح مثال ہیں. ٹنل پر گاڑیوں کو کم سے کم ادھا گھنٹہ انتظار کرنا پڑتا ہے . اس دوران مردوں کیلئے واش روم کی ضروت کا اتنا مسئلہ نہیں جبکہ خواتین کو واش روم کی نایابی کی بنا پر جس کرب سے گزر پڑتا ہے . وہ ناقابل بیان ہے . انتظار کرنے والے دیگر سیاحوں اور چترالی مسافروں نے بھی لواری ٹنل چترال سائڈ اور دیر سائڈ پر واش رومز کی تعمیر کا مطالبہ کیا . واش رومز نہ ہو نے کے باعث مسافر کھلے عام رفع حاجت کرنے سے اس ایریے کو بد بو اورتعفن نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے . جبکہ شاپنگ بیگز , کولڈ ڈرنکس کی بو تلوں اور دیگر کچرے سے ٹنل ایریا مسلسل بھر رہا ہے . اور گندگی و کوڑا کرکٹ کے یہ ذخیرے لواری ٹاپ گلیئشیر سے نکلنے والے صاف شفاف پانی میں شامل ہوکر اسے زہر میں تبدیل کر رہے ہیں . دیودار اور شاہ بلوط کے دل کو لبانے والے جنگلات اور اچھولتی کودتی دودھ کے نہر کی طرح بہتا پانی اور اربوں روپوں کی لاگت سے تعمیر ہونے والا ٹنل روڈ کا خوبصورت نظارہ حکومتی اور عوامی بے حسی کی تصویر بن گئی ہے . جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے .